Daily Roshni News

اولیاء اللہ کے روحانی مراتب کی درجہ بندی

اولیاء اللہ کے روحانی مراتب کی درجہ بندی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)صوفیانہ روایات اور تصوف کی کتب میں ایک منظم نظام کے تحت بیان کی گئی ہے۔ یہ مراتب اللہ کے دوستوں (اولیاء) کی روحانی ترقی، قربِ الٰہی، اور ان کے باطنی مقامات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ذیل میں اولیاء اللہ کے اہم روحانی مراتب کی درجہ بندی دی جا رہی ہے، جو کہ صوفی کتب جیسے فتوح الغیب (عبدالقادر جیلانیؒ)، الرسالہ القشیریہ (امام قشیریؒ)، اور کشف المحجوب (حضرت علی ہجویریؒ) سے مستنبط ہے:

اولیاء اللہ کے روحانی مراتب کی درجہ بندی

غوث

(قطب الاقطاب یا غوث اعظم)

 یہ ولایت کا سب سے عظیم مرتبہ ہے ۔ غوث ایک زمانے میں صرف ایک ہوتا ہے اور وہ تمام اولیاء کا روحانی سربراہ ہوتا ہے۔غوث کو اللہ کی طرف سے خاص فیضان اور عالمِ غیب و شہادت پر تصرف کی طاقت عطا ہوتی ہے۔ وہ کائنات کے روحانی نظام کو اللہ کے حکم سے چلاتا ہے۔

مثال:

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو اکثر غوث اعظم کہا جاتا ہے۔

خصوصیات:

عالمگیر فیض، عظیم کرامات، اور تمام اولیاء پر روحانی حاکمیت۔

قطب

(قطب الارشاد یا قطب مدار)قطب وہ ولی ہوتا ہے جو ایک خطے یا عالم کے روحانی امور کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ غوث کے ماتحت ہوتا ہے۔بعض اوقات تین یا سات قطب ایک ہی وقت میں موجود ہو سکتے ہیں، جو مختلف جغرافیائی یا روحانی دائروں کی نگرانی کرتے ہیں۔

خصوصیات:

روحانی ارشاد، لوگوں کی ہدایت، اور کرامات کے ذریعے اللہ کا پیغام پھیلانا۔

ابدال

 ابدال وہ اولیاء ہوتے ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں اللہ کے حکم سے روحانی تبدیلیاں لاتے ہیں۔ روایت کے مطابق، ان کی تعداد 40 یا 70 ہو سکتی ہے۔ان کا نام “ابدال” اس لیے ہے کہ جب ایک بدل جاتا ہے (وفات پاتا ہے)، تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔

خصوصیات:

عالم میں امن و سکون کے لیے دعائیں، روحانی مدد، اور کرامات۔

اوتاد

اوتاد زمین کے چار یا سات ستونوں کی طرح ہوتے ہیں،

جو عالم کو روحانی طور پر مستحکم رکھتے ہیں۔یہ چاروں یا ساتوں عالم کے مختلف گوشوں میں موجود ہوتے ہیں اور اللہ کے حکم سے کائنات کے نظام کو سنبھالتے ہیں۔

خصوصیات:

عالم کی حفاظت، روحانی استحکام، اور عظیم عاجزی۔

نقباء

نقباء وہ اولیاء ہوتے ہیں جو لوگوں کے دلوں کے حالات کی نگرانی کرتے ہیں اور ان کی روحانی رہنمائی کرتے ہیں۔ان کی تعداد روایات کے مطابق 300 ہو سکتی ہے۔

خصوصیات:

دلوں کی اصلاح، ہدایت، اور اللہ کے احکام کی تبلیغ۔

نجباء

نجباء وہ اولیاء ہیں جو اپنی پاکیزگی اور تقویٰ کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد 40 یا اس سے کم ہو سکتی ہے۔یہ لوگوں کے درمیان چھپ کر رہتے ہیں اور اپنی عبادت و ریاضت سے اللہ کے قرب کو پاتے ہیں۔خصوصیات:

خفیہ عبادت، پاکیزگی، اور دنیا سے بے رغبتی۔

رجال الغیب

 وہ اولیاء ہیں جو مکمل طور پر غیب میں رہتے ہیں اور عام لوگوں کو ان کا علم نہیں ہوتا۔وہ روحانی طور پر عالم کی حفاظت اور ہدایت کے لیے کام کرتے ہیں، لیکن ظاہری دنیا سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔

خصوصیات:

مکمل اخفا، روحانی تصرف، اور اللہ سے گہرا تعلق۔

عام اولیاء

(صدیقین، شہداء، صالحین)یہ وہ اولیاء ہیں جو اللہ کے قرب اور اس کی رضا کے حصول کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیتے ہیں۔ ان کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ان میں صدیقین (سچائی والے)، شہداء (اللہ کی راہ میں جان دینے والے)، اور صالحین (نیک بندے) شامل ہیں۔

خصوصیات:

تقویٰ، عبادت، اور اللہ کی رضا کی تلاش۔

اہم نکات

یہ مراتب ایک دوسرے سے کم یا زیادہ نہیں، بلکہ ہر مرتبہ اللہ کے حکم سے ایک مخصوص روحانی فریضہ ادا کرتا ہے۔غوث اور قطب جیسے اعلیٰ مراتب والے اولیاء تمام اولیاء کے روحانی نظام کو سنبھالتے ہیں، جبکہ دیگر مراتب والے ان کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ہر ولی کا مقام اس کے اللہ سے تعلق، عاجزی، اور تقویٰ پر منحصر ہوتا ہے۔

بابا فریدؒ کے ارشاد “علت، قلت، ذلت” کا تعلق بھی اسی عاجزی اور دنیا سے بے رغبتی سے ہے، جو تمام اولیاء کا مشترکہ وصف ہے۔

رہنمائی

 اولیاء کے مراتب کو سمجھنے سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ اللہ کے دوستوں کی زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور اس کے بندوں کی خدمت ہے۔ہمیں ان کے مراتب کی بجائے ان کے تقویٰ، عاجزی، اور اللہ سے تعلق سے سیکھنا چاہیے۔اگر آپ کسی ولی کا مقام جاننا چاہتے ہیں، تو اس کی ظاہری شان و شوکت نہیں،

غوث (یا غوث اعظم) کو ولایت کا سب سے بلند مرتبہ سمجھا جاتا ہے، اور عام طور پر اسے اولیاء اللہ کے روحانی نظام کا سربراہ مانا جاتا ہے۔ تاہم غوث سے بھی بلند روحانی مرتبے موجود ہیں جو کہ بہت نادر اور خفیہ ہوتے ہیں۔ یہ مراتب عمومی طور پر رجال الغیب یا اہلِ غیب کے دائرے میں آتے ہیں، اور ان کا علم صرف اللہ کے خاص بندوں تک محدود ہوتا ہے

تحریر۔ احقر وقاص نعیم چشتی

Sabeen Dawood SyedAsad Raza Rashida Raja چشتی نظامی

Loading