Daily Roshni News

معراج: وقت، مادہ اور شعور کی آخری حدیں پھلانگنے کا سفر!۔۔۔ تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد

معراج: وقت، مادہ اور شعور کی آخری حدیں پھلانگنے کا سفر! – بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تاریخ کی نبضیں ڈوب رہی تھیں اور مکہ کی فضاؤں میں ایک عجیب سا سوگوار سناٹا طاری تھا۔

یہ نبوت کا گیارہواں سال تھا، جسے سیرت نگاروں نے ”عام الحزن“ یعنی ”غم کا سال“ لکھ کر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔

ذرا تصور کیجیے اس ہستی کا جو کائنات کا دولہا ہے، مگر زمین اس پر تنگ کر دی گئی ہے۔ وہ جس کے لیے افلاک سجائے گئے، اسے مکہ کی گلیوں میں طعنے دیے جا رہے ہیں۔

دو ہی تو سہارے تھے ظاہری دنیا میں؛ ایک شفقت کا سایہ جنابِ ابوطالب، جو قریش کی یلغار کے آگے دیوار بن جاتے تھے، اور دوسری وفا کی پیکر سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ، جو نبوت کے ماتھے سے پسینہ پونچھتی تھیں اور ساری دنیا کے جھٹلانے پر تصدیق کرتی تھیں۔

موت کے بے رحم ہاتھوں نے یکے بعد دیگرے یہ دونوں ڈھالیں چھین لیں۔ نبی کریم ﷺ تنہا رہ گئے۔ مکہ کے سردار قہقہے لگا رہے تھے، ابولہب کی مکار ہنسی گونج رہی تھی کہ

”اب محمد (ﷺ) بے یار و مددگار ہے۔“

دل کی تسلی کے لیے طائف کا سفر کیا، امید تھی کہ شاید وہاں کوئی ”اللہ“ کا نام لیوا مل جائے، مگر وہاں کیا ملا؟

پتھر، گالیاں، اور خون آلود نعلین!

جب وہ زمین پر سجدے میں گر کر اپنے رب سے شکوہ نہیں، بلکہ اپنی کمزوری کا اظہار کر رہے تھے کہ

”الٰہی! میں اپنی کمزوری کی شکایت تجھ سے کرتا ہوں“،

تو عرش کے کنگورے ہل گئے تھے۔

یہ وہ نازک ترین نفسیاتی اور جذباتی لمحہ تھا جب خالقِ کائنات نے فیصلہ کیا کہ اب زمین والوں کو دکھانا ہے کہ تم جسے مٹی کا انسان سمجھ کر دھتکار رہے ہو، آسمانوں پر اس کا مقام کیا ہے۔

زمین والوں نے اپنے دروازے بند کیے ہیں تو کیا ہوا، آج ہم اس کے لیے ساتوں آسمان، سدرۃ المنتہیٰ اور عرشِ بریں کے وہ دروازے کھولیں گے جو جبرائیل کے لیے بھی نہیں کھلتے۔

آج کی رات کسی تسلی کی رات نہیں تھی، یہ ”تاجپوشی“ کی رات تھی۔

اللہ نے اپنے محبوب کو بلا کر یہ پیغام دیا کہ

”اے محبوب! غم نہ کر، اگر مکہ کی زمین تنگ ہے تو دیکھ تیری ملکیت میں تو پوری کائنات ہے۔“

معراج دراصل طائف کے پتھروں کا جواب تھی، یہ بتانے کے لیے کہ پتھر مارنے والے کس پستی میں ہیں اور پتھر کھانے والا کس بلندی پر۔

رات کا پچھلا پہر تھا، کائنات پر سکون طاری تھا۔ نبی کریم ﷺ حرمِ کعبہ میں حطیم کے حصے میں (یا بعض روایات میں ام ہانیؓ کے گھر) آرام فرما تھے۔ نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت تھی۔

اچانک چھت پھٹی۔ یہ عام چھت کا پھٹنا نہیں تھا، یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ آج مادی دنیا (Physical World) کی چھت ہٹنے والی ہے اور غیب کی دنیا نمودار ہونے والی ہے۔

جبرائیلِ امینؑ اور میکائیلؑ نازل ہوئے۔

فرشتوں کا یہ نزول کسی وحی کو لانے کے لیے نہیں تھا، بلکہ ایک ”شاہی مہمان“ کو تیار کرنے کے لیے تھا۔

یہاں سفر کے آغاز سے پہلے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے عقل پرست اور جدید سائنس سے مرعوب ذہن ہضم نہیں کر پاتے، مگر جو روحانی سائنس کی رو سے ناگزیر تھا۔ وہ واقعہ تھا ”شقِ صدر“ (سینے کا چاک کیا جانا)۔

جبرائیلؑ نے نبی کریم ﷺ کا سینہ مبارک چاک کیا۔ دلِ اطہر کو، جو گوشت کا ایک لوتھڑا تھا، باہر نکالا گیا۔

ذرا منظر کی ہیبت کو محسوس کریں!

کائنات کا سب سے قیمتی دل، جبرائیل کے ہاتھوں میں ہے۔ اسے آبِ زمزم سے دھویا گیا۔

کیوں؟

کیا (معاذ اللہ) اس میں کوئی کثافت تھی؟

نہیں!

یہ دھونا دراصل اس دل کو اس ”کائناتی دباؤ“ (Cosmic Pressure) اور ”الہیاتی تجلیات“ کو برداشت کرنے کے قابل بنانا تھا جو آگے پیش آنے والی تھیں۔

پھر ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ”ایمان اور حکمت“ سے لبریز تھا۔ یہ کوئی استعارہ نہیں تھا، یہ ایک روحانی ٹیکنالوجی تھی جس کے ذریعے نبی ﷺ کے قلبِ مبارک کو ”Reinforce“ کیا گیا۔

سائنس آج کہتی ہے کہ اگر انسان خلا میں جائے تو اسے خاص سوٹ پہننا پڑتا ہے ورنہ دباؤ سے شریانیں پھٹ جائیں گی۔

معراج تو خلا سے بھی آگے، زمان و مکان کی حدود سے ماورا سفر تھا۔

ایک بشر کا مادی جسم اس ”نوری سفر“ کو کیسے برداشت کرتا؟

شقِ صدر دراصل وہ ”Divine Surgery“ تھی جس نے اس مادی جسم کو نوری لطافتوں میں ڈھال دیا تاکہ جب وہ اللہ کے روبرو ہوں تو جل کر خاک نہ ہوں بلکہ مسکرا کر بات کریں۔

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب المناقب، حدیث نمبر 3887)

جب یہ تیاری مکمل ہو گئی تو سواری لائی گئی۔

نام تھا ”براق“!

روایات کے الفاظ ہیں کہ وہ خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک سفید جانور تھا۔

لیکن ٹھہریے!

اسے محض ایک ”جانور“ سمجھنے کی غلطی مت کیجیے گا۔ اس کا نام خود اس کی حقیقت کھول رہا ہے۔ ”براق“ عربی لفظ ”برق“ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے,

”بجلی“ (Lightning)!

چودہ سو سال پہلے جب آئن اسٹائن پیدا بھی نہیں ہوا تھا، جب کسی کو ”Speed of Light“ (روشنی کی رفتار) کا تصور بھی نہیں تھا، تب میرے پیارے نبی ﷺ بتا رہے تھے کہ میری سواری کا تعلق ”روشنی“ اور ”بجلی“ کی رفتار سے ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ

”اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں اس کی نظر کی انتہا ہوتی تھی“ (منتہیٰ البصر)۔

آج کی جدید فزکس کہتی ہے کہ کائنات میں روشنی سے تیز کوئی شے نہیں، اور جب کوئی چیز روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہے تو اس کے لیے ”وقت تھم جاتا ہے“ (Time Dilation)۔

براق دراصل اللہ کی تخلیق کردہ ایک ایسی ”بائیولوجیکل ٹیکنالوجی“ تھی جو مادی جسم کو روشنی کی رفتار (یا اس سے بھی تیز) سفر کروانے پر مامور تھی۔

جب نبی ﷺ اس پر سوار ہونے لگے تو وہ بدکنے لگا۔ جبرائیلؑ نے اسے ڈانٹا:

”اے براق! کیا تو نہیں جانتا کہ تیرے اوپر کون سوار ہو رہا ہے؟ آج تک تجھ پر اس ہستی سے زیادہ مکرم کوئی سوار نہیں ہوا۔“

یہ سننا تھا کہ براق شرم سے پسینہ پسینہ ہو گیا۔ یہ بدکنا سرکشی نہیں تھی، یہ ”وجد“ اور ”خوشی کی انتہا“ تھی کہ کائنات کا دولہا میری پشت پر ہے۔

سفر کا پہلا مرحلہ ”اسراء“ (رات کا زمینی سفر) شروع ہوا۔ مکہ سے بیت المقدس (یروشلم)۔

یہاں عقل سوال اٹھاتی ہے کہ اگر اللہ نے نبی ﷺ کو آسمان پر بلانا ہی تھا، تو سیدھا مکہ سے اوپر کیوں نہیں اٹھا لیا؟

بیچ میں یروشلم کا ”اسٹاپ“ کیوں؟

اس ”ڈی ٹور“ (Detour) کی کیا منطق تھی؟

یہاں میرا قلم رک کر آپ کو اس کی ”جیو پولیٹیکل“ اور ”الہیاتی حکمت“ سمجھانا چاہتا ہے۔

یروشلم محض ایک شہر نہیں، یہ ہزاروں سال سے نبوت کا مرکز تھا۔

ابراہیمؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ، داؤدؑ، سلیمانؑ، زکریاؑ اور عیسیٰؑ, یہ سب اسی خطے کے امین تھے۔ یہ ”بنی اسرائیل“ کا ہیڈکوارٹر تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو آسمان پر لے جانے سے پہلے یہ اعلان کرنا چاہتا تھا کہ آج نبوت کی امانت، روحانیت کا مرکز اور قیادت کا تاج باضابطہ طور پر ”بنی اسرائیل“ سے چھین کر ”بنی اسماعیل“ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

یہ محض سفر نہیں تھا، یہ ”شفٹ آف پاور“ (Shift of Power) تھا۔

جب آپ ﷺ مسجدِ اقصیٰ کے دروازے پر پہنچے، تو وہاں ایک عجیب منظر تھا۔ رات کی تاریکی کے باوجود وہاں ایک نورانی ہجوم تھا۔ آدمؑ سے لے کر عیسیٰؑ تک، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام صف بستہ کھڑے تھے۔ تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا اجتماع، سب سے مقدس ہجوم۔ سب منتظر تھے۔

کس کے؟

اپنے ”امام“ کے۔

جیسے ہی محمد عربی ﷺ داخل ہوئے، جبرائیلؑ نے ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھایا۔

یہ نماز محض عبادت نہیں تھی، یہ ”بیعت“ تھی۔ اس رات تمام انبیاء نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ کر اس بات کی گواہی دی کہ آپ ﷺ ہی ”سید المرسلین“ ہیں، آپ ہی وہ ”احمد“ ہیں جن کی بشارتیں تورات اور انجیل میں دی گئی تھیں۔

اگر آج موسیٰؑ زندہ ہوتے تو وہ بھی آپ کی شریعت کے پابند ہوتے۔ اس امامت نے ثابت کر دیا کہ دینِ اسلام کسی نئے مذہب کا نام نہیں، بلکہ یہ اسی سلسلے کی آخری اور مکمل کڑی ہے جس کی بنیاد آدمؑ نے رکھی تھی۔

مسجدِ اقصیٰ میں اس رات ”ماضی، حال اور مستقبل“ ایک صف میں کھڑے تھے۔

نماز کے بعد، ایک چھوٹی سی تفصیل جو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے مگر جس میں ہدایت کا سمندر ہے:

نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے براق کو اس حلقے (کنڈے) سے باندھا جس سے انبیاء اپنی سواریاں باندھتے تھے۔

(حوالہ: سنن نسائی، حدیث نمبر 450)

ذرا سوچیے!

وہ سواری جو جنت سے آئی ہے، جس کے ساتھ جبرائیلؑ جیسا محافظ ہے، جسے اللہ کے حکم کے بغیر ہلنے کی اجازت نہیں، اسے ”باندھنے“ کی کیا ضرورت؟

کیا وہ بھاگ جاتی؟

یہاں نبی ﷺ نے امت کو ”اسباب اور توکل“ کا فرق سمجھایا۔

آپ ﷺ نے بتایا کہ چاہے تم آسمانوں کے مسافر ہو، چاہے تمہارا اللہ پر کتنا ہی یقین کیوں نہ ہو، اس دنیا کے ”قانونِ اسباب“ (Law of Causality) کی تضحیک نہیں کرنی۔

اونٹ کا گھٹنا باندھنا توکل کے خلاف نہیں، بلکہ عین توکل ہے۔ معراج کے اس نوری سفر میں بھی آپ ﷺ نے اپنی امت کو زمینی حقائق کا سبق نہیں بھلایا۔

اب زمینی سفر مکمل ہو چکا تھا۔ امامت ہو چکی تھی۔ زمین نے گواہی دے دی تھی کہ اس کا وارث آ گیا ہے۔ اب وقت تھا اس ”چھلانگ“ کا جو کششِ ثقل (Gravity) کی بیڑیاں توڑ کر، وقت کی طنابیں کھینچ کر، اس انسانِ کامل کو وہاں لے جائے جہاں فرشتے بھی ”پر جلنے“ کے خوف سے رک جاتے ہیں۔

خیر بیت المقدس کی چٹان سے سفر کا وہ مرحلہ شروع ہوا جسے لغت میں ”معراج“ کہا جاتا ہے۔

ذرا لفظ پر غور کریں!

اللہ رب العزت نے یہاں ”طیران“ (اڑنا) یا ”عروج“ (بلندی) کا سادہ لفظ استعمال نہیں کیا، بلکہ ”معراج“ کا لفظ چنا۔

عربی گرائمر کی رو سے یہ ”آلۂ مکبر“ (Instrument) ہے، جس کا مطلب ہے

”وہ آلہ یا سیڑھی جس کے ذریعے اوپر چڑھا جائے“۔

یہ لفظ ہی بتاتا ہے کہ یہ سفر محض ہوا میں تیرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک منظم، ہائی ٹیک اور ڈائمنشنل سفر تھا جس کے لیے ایک خاص ”ایلیویٹر“ (Elevator) یا ”کائناتی سیڑھی“ استعمال کی گئی۔

یہ وہ ٹیکنالوجی تھی جو مادی جسم کو ایک ڈائمنشن سے دوسرے ڈائمنشن میں منتقل کرنے کے لیے ناگزیر تھی۔

جیسے ہی نبی کریم ﷺ اور جبرائیلِ امینؑ اس نورانی سیڑھی کے ذریعے فضاؤں کو چیرتے ہوئے بلندیوں کی طرف محوِ پرواز ہوئے، زمین ایک چھوٹی سی گیند کی طرح نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

اب سامنے وہ دنیا تھی جسے ہم ”عالمِ بالا“ کہتے ہیں، وہ دنیا جو ہماری ٹیلی اسکوپس اور ہماری عقل کی رسائی سے باہر ہے۔

جب یہ قافلہ پہلے آسمان کی سرحد پر پہنچا، تو وہاں ایک حیران کن مکالمہ ہوا۔ یہ مکالمہ ہمیں کائنات کا ”ایڈمنسٹریٹو اسٹرکچر“ (انتظامی ڈھانچہ) سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ جبرائیلؑ نے پہلے آسمان کے دروازے پر دستک دی۔

اندر سے آواز آئی: ”کون ہے؟“

جبرائیلؑ نے جواب دیا: ”میں جبرائیل ہوں۔“

پوچھا گیا: ”تمہارے ساتھ کون ہے؟“

جواب دیا: ”محمد (ﷺ) ہیں۔“

پھر وہ سوال پوچھا گیا جو کائنات کے نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے:

”أَوَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟“ (کیا انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا ہے؟ / کیا ان کی بعثت ہو چکی ہے؟)

جبرائیلؑ نے کہا: ”ہاں! انہیں دعوت دے کر بلایا گیا ہے۔“

تب دروازہ کھلا اور آواز آئی: ”مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ“ (خوش آمدید! کیا ہی مبارک آنے والے آئے ہیں)۔

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق، حدیث نمبر 3207)

یہاں میرا قلم ایک بار پھر رک کر ایک سوال اٹھاتا ہے:

کیا آسمان کے پہرے دار فرشتے نہیں جانتے تھے کہ یہ محمد ﷺ ہیں؟

کیا انہیں خبر نہیں تھی؟

بالکل تھی!

مگر یہ مکالمہ ہمیں یہ بتانے کے لیے ہے کہ اللہ کی کائنات کوئی ”فری فار آل“ (Free for all) چراگاہ نہیں ہے کہ جو مرضی قدم اٹھائے اور گھس آئے۔

یہ ایک ہائی سکیورٹی زون (High Security Zone) ہے۔ یہاں ہر چیز ”ضابطے“ اور ”پروٹوکول“ کے تحت چلتی ہے۔

جبرائیلؑ جیسے مقرب فرشتے کو بھی ”پاسپورٹ“ اور ”ویزا“ دکھانا پڑتا ہے۔

یہ سوال

”أَوَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟“ اس بات کی تصدیق تھی کہ اس مادی جسم (انسان) کو عالمِ بالا میں آنے کا ”Special Permit“ جاری ہو چکا ہے۔

یہ کائنات اندھی بہری نہیں، بلکہ ایک سخت ڈسپلن کے تابع ہے۔

نبی کریم ﷺ کا سفر جاری رہا۔ ہر آسمان پر ایک خاص نبی سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقاتیں اتفاقی (Random) نہیں تھیں، بلکہ ان میں ایک گہری ”اسٹریٹیجک“ اور ”تاریخی حکمت“ پوشیدہ تھی۔ آئیے ان ملاقاتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

پہلا آسمان (آدمؑ): یہاں انسانیت کے باپ حضرت آدمؑ سے ملاقات ہوئی۔ دائیں طرف دیکھتے تو مسکراتے (جنتی روحیں)، بائیں دیکھتے تو روتے (جہنمی روحیں)۔

حکمت: سفر کے آغاز میں ”باپ“ سے ملاقات کروا کر یہ پیغام دیا گیا کہ اے محمد ﷺ! آپ کا مشن اسی سلسلے کی تکمیل ہے جو اس ”پہلے انسان“ سے شروع ہوا تھا۔ یہ پوری انسانیت کی ”وحدت“ (Unity of Mankind) کا مظہر تھا۔

دوسرا آسمان (عیسیٰؑ اور یحییٰؑ): یہاں دو خالہ زاد بھائی ملے۔ عیسیٰؑ جو روح اللہ ہیں اور دوبارہ آنے والے ہیں، اور یحییٰؑ جنہوں نے جوانی میں حق کی خاطر گردن کٹوا دی۔

حکمت: یہ اشارہ تھا کہ آپ ﷺ کی امت کو عیسیٰؑ جیسی روحانیت اور یحییٰؑ جیسی قربانی، دونوں سے واسطہ پڑے گا۔ اور چونکہ آخری زمانے میں عیسیٰؑ نے آپ ﷺ کی شریعت نافذ کرنی ہے، یہ ایک طرح کی ”قائدانہ مشاورت“ تھی۔

تیسرا آسمان (یوسفؑ): جنہیں دنیا کا آدھا حسن دیا گیا۔

حکمت: ذرا یوسفؑ کی زندگی دیکھیں, بھائیوں نے کنویں میں پھینکا، غلام بنے، جیل گئے، مگر آخر میں مصر کے تخت پر بیٹھے۔ یہ ملاقات نبی ﷺ کے لیے ”خوشخبری“ تھی۔ اللہ بتا رہا تھا:

”اے میرے محبوب! آج مکہ والے آپ کو یوسف کی طرح نکال رہے ہیں، تکلیفیں دے رہے ہیں، لیکن عنقریب آپ فاتح بن کر مکہ میں داخل ہوں گے جیسے یوسف مصر میں ہوئے تھے۔“ یہ ”فتحِ مکہ“ کا ٹریلر تھا۔

جب سفر تیسرے آسمان (یوسفؑ) سے آگے بڑھا، تو چوتھے اور پانچویں آسمان پر دو ایسی ہستیوں سے ملاقات ہوئی جو نبوت کے دو اہم ترین ستونوں یعنی ”علم“ اور ”محبت“ کے امین تھے۔

چوتھا آسمان (ادریسؑ اور ”رفعتِ مکانی“): چوتھے آسمان پر سیدنا ادریس علیہ السلام تشریف فرما تھے۔ ادریسؑ وہ پہلے نبی ہیں جنہوں نے ”قلم“ سے لکھا۔ وہ فلکیات (Astronomy) اور حساب (Mathematics) کے ماہر تھے۔

جب نبی کریم ﷺ ان سے ملے، تو انہوں نے مرحبا کہا۔ یہاں ایک بہت بڑی ”جیومیٹری کی حکمت“ چھپی ہے۔ سات آسمانوں کے درمیان ”چوتھا“ آسمان بالکل ”وسط“ (Center) میں ہے (تین نیچے، تین اوپر)۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ادریسؑ کے بارے میں فرمایا:

”وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا“

(اور ہم نے انہیں بلند مقام پر اٹھا لیا)۔ [سورۃ مریم: 57]

سورج بھی نظامِ شمسی کے چوتھے فلک پر سمجھا جاتا تھا (قدیم فلکیات میں)۔

حکمت: ادریسؑ سے ملاقات نبی کریم ﷺ کو یہ اشارہ تھی کہ جیسے ادریسؑ کو علم اور قلم کی وجہ سے رفعت ملی، آپ ﷺ کی امت بھی ”اقرأ“ (پڑھو) اور ”قلم“ کے ذریعے رفعت پائے گی۔ یہ ”علمی عروج“ کی بشارت تھی۔ آپ ﷺ کو نبوت کے مرکز (Centrality) میں دکھایا گیا کہ آپ تمام علوم کا منبع ہیں۔

پانچواں آسمان (ہارونؑ اور ”عوامی مقبولیت“): پانچویں آسمان پر سیدنا ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ روایات میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک بوڑھے، سفید اور گھنی داڑھی والے انتہائی رعب دار شخص کو دیکھا جن کے ارد گرد ان کی قوم کے لوگ محبت سے جمع تھے۔ جبرائیلؑ نے بتایا:

”یہ ہارونؑ ہیں، جو اپنی قوم میں سب سے زیادہ محبین (چاہنے والے) رکھتے ہیں۔“

حکمت: ہارونؑ، موسیٰؑ کے بھائی اور وزیر تھے۔ موسیٰؑ جلالی تھے، لیکن ہارونؑ ”جمالی“ تھے۔ ان کی طبیعت میں نرمی تھی۔ بنی اسرائیل ان سے بہت محبت کرتے تھے۔

نبی کریم ﷺ کو یہاں ہارونؑ سے ملوا کر ”سافٹ پاور“ (Soft Power) کا درس دیا گیا۔ کہ اے محبوب ﷺ! آگے چل کر آپ کو ریاستِ مدینہ بنانی ہے، وہاں آپ کو موسیٰؑ جیسا جلال بھی چاہیے ہوگا (قانون نافذ کرنے کے لیے) اور ہارونؑ جیسی نرمی بھی چاہیے ہوگی (دلوں کو جوڑنے کے لیے)۔ ہارونؑ کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ ”لیڈرشپ“ صرف رعب سے نہیں، بلکہ محبت اور نرم گفتاری سے مکمل ہوتی ہے۔

چھٹا آسمان (موسیٰؑ): یہاں ایک عجیب اور رقت آمیز منظر ہوا۔ کلیم اللہ موسیٰؑ سے ملاقات ہوئی، اور جب نبی ﷺ آگے بڑھے تو موسیٰؑ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

پوچھا گیا: اے موسیٰ! روتے کیوں ہیں؟

انہوں نے کہا: ”یہ نوجوان (محمد ﷺ) جو میرے بعد مبعوث ہوا، اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ جنت میں جائیں گے۔“

یہ رونا ”حسد“ کا نہیں تھا، یہ ”رشک“ کا تھا اور اپنی قوم (بنی اسرائیل) کی بدبختی پر افسوس کا تھا۔

موسیٰؑ کا مزاج جلالی تھا، انہوں نے اپنی قوم پر بہت محنت کی تھی مگر وہ نافرمان نکلی۔ آج وہ دیکھ رہے تھے کہ محمد ﷺ کی امت، جو آخری ہے، وہ بازی لے گئی ہے۔ یہ نبی ﷺ کے لیے ایک بہت بڑا ”اعزاز“ اور ”حوصلہ“ تھا۔

ساتواں آسمان (ابراہیمؑ): جد الانبیاء۔ وہ ”بیت المعمور“ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔

حکمت: ابراہیمؑ نے زمین پر کعبہ تعمیر کیا تھا، اور اب وہ صلہ کے طور پر آسمانی کعبہ (بیت المعمور) کے پاس تشریف فرما تھے۔ نبی ﷺ کو وہاں ملوا کر یہ سند دی گئی کہ

”آپ ہی ابراہیمؑ کے حقیقی وارث اور دینِ حنیفی کے امین ہیں۔“

ساتویں آسمان پر نبی کریم ﷺ کو ”بیت المعمور“ (The Much-Frequented House) دکھایا گیا۔ یہ زمین والے کعبے کے بالکل عین اوپر (Parallel) ہے۔ روایات میں ہے کہ اگر یہ گرے تو سیدھا کعبہ پر گرے۔

یہاں نبی ﷺ نے وہ منظر دیکھا جو انسانی تخیل کو ماؤف کر دیتا ہے۔

فرمایا: ”اس گھر میں روزانہ 70,000 فرشتے طواف کے لیے داخل ہوتے ہیں اور جو ایک بار نکل جاتا ہے، قیامت تک اس کی دوبارہ باری نہیں آتی۔“

(حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 162)

ذرا کیلکولیٹر اٹھائیں اور حساب لگائیں!

کائنات کے پہلے دن سے لے کر قیامت تک، ہر روز 70 ہزار نئے فرشتے۔ یہ کھربوں، نہیں بلکہ ان گنت تعداد ہے۔

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ یہ کائنات ”خالی“ (Empty) نہیں ہے، یہ ویران نہیں ہے، بلکہ یہ ”Life Forms“ (فرشتوں) سے اس قدر بھری ہوئی ہے کہ وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں۔

ہمارا زمین پر بیٹھ کر یہ تکبر کرنا کہ ”صرف ہم ہی ہیں“، ہماری جہالت ہے۔ اللہ کی بادشاہت اتنی وسیع ہے کہ ہماری زمین اس کے سامنے ریگستان کے ایک ذرے کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔

خلاصہ یہ ہے کہ

پہلا آسمان (آدمؑ): انسانیت کی جڑ۔

دوسرا (عیسیٰ/یحییٰ): روحانیت اور قربانی۔

تیسرا (یوسف): حسن اور حکومت۔

چوتھا (ادریس): علم اور حکمت۔

پانچواں (ہارون): نرمی اور عوامی رابطہ۔

چھٹا (موسیٰ): قانون اور جہاد۔

ساتواں (ابراہیم): ملت کی تعمیر (کعبہ)۔

یہ ساتوں آسمان دراصل نبی کریم ﷺ کی ”جامع شخصیت“ کے سات پہلو تھے جو اس رات مکمل ہو کر نکھر گئے۔

پھر ساتویں آسمان سے بھی اوپر، نبی کریم ﷺ کو اس مقام پر لے جایا گیا جسے قرآن نے ”سدرۃ المنتہیٰ“ کہا ہے۔

”سدرۃ“ کا مطلب بیری کا درخت اور ”منتہیٰ“ کا مطلب انتہا/حد (The Utmost Boundary)۔

یہ وہ مقام ہے جہاں مخلوق کے علم، عمل اور رسائی کی حد ختم ہو جاتی ہے۔

زمین سے جو کچھ اوپر جاتا ہے، وہ یہاں رک جاتا ہے۔ اوپر (عرش) سے جو کچھ احکام نیچے آتے ہیں، وہ پہلے یہاں ریسیو (Receive) ہوتے ہیں۔

یہ کائنات کا ”ایونٹ ہورائزن“ (Event Horizon) ہے۔ یہ ”Boundary of the Created Universe“ ہے۔

اس درخت کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے اور پھل بڑے مٹکوں جیسے تھے۔ جب اللہ کے نور نے اسے ڈھانپا تو اس کے رنگ ایسے بدل گئے کہ کوئی انسانی آنکھ یا زبان اس حسن کو بیان نہیں کر سکتی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ”فزکس“ ختم ہوتی ہے اور ”میٹا فزکس“ کا راج شروع ہوتا ہے۔

یہاں تاریخ کا وہ لمحہ آیا جو ”انسان“ (بشر) کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ کر جبرائیلِ امینؑ، جن کے چھ سو پر ہیں اور جو کائنات کے سب سے طاقتور فرشتے ہیں، وہ رک گئے۔

نبی ﷺ نے پوچھا:

”اے جبرائیل! کیا ایسے مقام پر دوست دوست کو چھوڑ دے گا؟“

جبرائیلؑ نے لرزتے ہوئے جواب دیا:

”اے محمد (ﷺ)! یہ میری حد ہے۔ اگر میں یہاں سے ایک پور (انگلی کا سرا) بھی آگے بڑھا، تو اللہ کے نور کی تجلیات (Radiation of Divine Light) میرے پروں کو جلا کر خاک کر دیں گی۔ یہ آپ ہی کا مقام ہے، آپ آگے جائیں، اللہ نے آپ کے لیے راستے کھول دیے ہیں۔“

یہاں ایک الہیاتی نکتہ نوٹ کریں:

جبرائیلؑ ”عقلِ کل“ اور ”قانون“ کی علامت ہیں۔ قانون اور عقل کی ایک حد ہوتی ہے، وہ ایک مقام پر جا کر ”فریز“ (Freeze) ہو جاتے ہیں۔

محمد عربی ﷺ ”عشق“ اور ”عبدیتِ کاملہ“ کا پیکر ہیں۔ عشق کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ عشق آگ میں کود جاتا ہے اور کندن بن کر نکلتا ہے۔

یہ منظر بتاتا ہے کہ انسان (بشر) کا پوٹینشل فرشتے (نوری مخلوق) سے زیادہ ہے۔ فرشتہ ”مجبور“ ہے، اس کی لیمٹ فکس ہے۔ انسان ”اشرف“ ہے، اس کے لیے اگر وہ چاہے تو زمان و مکان کی حدود ہٹا دی جاتی ہیں۔

بقول اقبال:

اگر یک سرِ مُو برتر پَرم

فروغِ تجلی بسوزد پَرم

اب جبرائیلؑ بھی پیچھے رہ گئے تھے۔ سواری بھی شاید وہیں رک گئی۔

اب نبی کریم ﷺ تنہا تھے۔ اکیلے۔ اس لامکاں میں جہاں نہ آواز تھی، نہ ہوا، نہ وقت، نہ سمت۔

صرف ایک ”خالق“ اور ایک ”عبد“!

سدرۃ المنتہیٰ، وہ بیری کا درخت جو کائنات کی آخری حد ہے، پیچھے رہ چکا تھا۔

جبرائیلِ امینؑ، جو نوری مخلوق کے سردار ہیں، اپنی حدوں پر رک کر عاجزی کا اعتراف کر چکے تھے۔

اب سامنے کوئی مادی راستہ نہیں تھا، کوئی سمت (Direction) نہیں تھی، کوئی ”اوپر“ یا ”نیچے“ نہیں تھا۔

یہ ”عالمِ ہویت“ تھا۔ یہ وہ مقام تھا جسے فلسفی ”Singularity“ کہتے ہیں اور علماء ”لامکاں“۔ یہاں وقت (Time) کا وجود ختم ہو چکا تھا، یہاں مکان (Space) کے پیمانے ٹوٹ چکے تھے۔

ایک عجیب سی خاموشی اور ہیبت تھی۔ اس مقام پر نبی کریم ﷺ تنہا تھے۔ اکیلے۔ بغیر کسی گائیڈ کے۔

یہ تنہائی خوفناک نہیں تھی، بلکہ یہ ”محبوب کی خلوت“ تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کے لیے کائنات بنی تھی۔ ایک بشر، مٹی کا بنا ہوا انسان، اس مقام پر قدم رکھ رہا تھا جہاں نوری فرشتے بھی جل کر خاک ہو جاتے ہیں۔ یہ انسان کی عظمت کا سب سے بڑا ثبوت تھا۔

تنہائی کے اس سفر میں سب سے پہلے ایک آواز سنائی دی,

”صَرِيفَ الْأَقْلَامِ“ (قلموں کے چلنے کی آواز)۔

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، حدیث نمبر 349)

یہ آواز کیا تھی؟

یہ کائنات کے ”ایڈمنسٹریٹو ہیڈکوارٹر“ کی آواز تھی۔ وہ قلم جو اللہ کے حکم سے کائنات کی تقدیر لکھ رہے ہیں، جو کہکشاؤں کی گردش، ستاروں کی موت و حیات، اور انسانوں کے رزق اور موت کے فیصلے لکھ رہے ہیں، ان کی سرسراہٹ تھی۔

سائنسدان آج ”Information Theory“ کی بات کرتے ہیں کہ کائنات دراصل مادہ نہیں، بلکہ ”ڈیٹا“ اور ”انفارمیشن“ ہے۔

1400 سال پہلے معراج کے دولہا نے بتا دیا کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ”قلم“ (Source Code Writer) ہے جو مسلسل چل رہا ہے۔

یہ کائنات ”آٹو پائلٹ“ پر نہیں ہے، اسے لمحہ بہ لمحہ لکھا اور کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

نبی کریم ﷺ کو یہ آواز سنا کر دراصل ”Authoritative Access“ دیا گیا کہ دیکھو! کائنات کا کنٹرول روم یہاں ہے۔

نبی کریم ﷺ آگے بڑھے۔ یہ سفر اب قدموں کا نہیں تھا، یہ ”جذب“ کا سفر تھا۔

قرآن نے اس قربت کو جیومیٹری کی زبان میں بیان کیا:

”فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ“

(پس وہ دو کمانوں کے فاصلے پر رہ گیا یا اس سے بھی قریب)۔ [سورۃ النجم: 9]

عربوں میں رواج تھا کہ جب دو سردار آپس میں معاہدہ کرتے تو اپنی کمانیں (Bows) ملا دیتے تھے تاکہ یہ ظاہر ہو کہ اب ہم ”ایک“ ہیں۔

یہاں ”دو کمانوں“ کا استعارہ اس بات کی دلیل ہے کہ خالق اور مخلوق کے درمیان جو ”اجنبیت“ کا پردہ تھا، وہ ہٹ چکا ہے۔

یہ ”فزیکل ڈسٹنس“ نہیں تھا (کیونکہ اللہ جگہ سے پاک ہے)، یہ ”مقام اور مرتبے“ کا قرب تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں اللہ نے اپنے محبوب کو اپنے ”رازوں“ کا امین بنایا۔

اس مقام پر ایک بادل (رفرف) ظاہر ہوا جس نے نبی کریم ﷺ کو اپنے اندر ڈھانپ لیا اور اوپر لے گیا۔

یہ ایک ”Divine Elevator“ تھی جو انہیں اس خاص مجلس میں لے گئی جہاں سوائے اللہ کے کوئی نہیں تھا۔

یہ تاریخِ اسلام کا سب سے نازک اور پیچیدہ سوال ہے جس نے صدیوں تک علماء اور صوفیاء کو الجھائے رکھا:

کیا شبِ معراج نبی کریم ﷺ نے اللہ کو اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھا؟

حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ جس نے کہا محمد ﷺ نے رب کو دیکھا، اس نے جھوٹ باندھا۔ (کیونکہ ان کے پیش نظر قرآن کی آیت تھی: ”لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ“ – نگاہیں اسے نہیں پا سکتیں)۔

لیکن حضرت عبداللہ ابن عباسؓ (جو رئیس المفسرین ہیں) فرماتے تھے کہ ”ہاں! دیکھا۔“

میرا ادنی سا تجزیہ اور علمی توجیہ:

نبی کریم ﷺ سے خود پوچھا گیا:

”هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟“

(کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا؟)

آپ ﷺ نے فرمایا:

”نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ“

(وہ تو نور ہی نور ہے، میں اسے کیسے دیکھتا؟)

ایک اور روایت میں ہے:

”رَأَيْتُ نُورًا“

(میں نے ایک نور دیکھا)۔

(حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 178)

یہاں ”Physics of Vision“ (بصارت کی فزکس) کو سمجھیں۔

انسانی آنکھ ”روشنی کے انعکاس“ (Reflection) سے دیکھتی ہے۔ اللہ ”مادہ“ (Matter) نہیں ہے, جس سے روشنی ٹکرا کر واپس آئے۔

اللہ ”نور السموات والارض“ ہے۔

اگر سورج کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھا جا سکتا، تو سورج کے خالق کو یہ مادی آنکھ کیسے دیکھ سکتی ہے؟

لیکن!

نبی کریم ﷺ کی آنکھ اس رات عام آنکھ نہیں تھی۔ ان کی بصارت کو ”ماورائی طاقت“ دی گئی تھی۔ انہوں نے اللہ کو دیکھا، لیکن یہ دیکھنا ”احاطہ“ (Encompassing) والا نہیں تھا، بلکہ ”تجلی“ والا تھا۔

اللہ نے اپنے نور کا پردہ ہٹایا اور نبی ﷺ نے اپنے رب کو اس شان سے پہچانا جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔

قرآن گواہی دیتا ہے:

”مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ“

(نگاہ نہ بہکی اور نہ حد سے بڑھی)۔

اس تنہائی میں، اس وسعت میں، جب بندہ اپنے رب کے روبرو ہوا، تو گفتگو کا آغاز کیسے ہوا؟

یہ وہ مکالمہ ہے جسے ہم اپنی ہر نماز کے ”تشہد“ (التحیات) میں دہراتے ہیں، مگر افسوس کہ ہم میں سے اکثر اس کے پس منظر اور اس کی ”رومانیت“ سے ناواقف ہیں۔

نبی کریم ﷺ، جو سراپا ادب تھے، انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں تحفہ پیش کیا:

”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ“

(تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات صرف اللہ کے لیے ہیں)۔

یہ ”سلام“ نہیں تھا (کیونکہ اللہ السلام ہے، اسے سلامتی کی ضرورت نہیں)، یہ ”عاجزی کا نذرانہ“ تھا۔

جواب میں ربِ کائنات نے، جو اپنے محبوب کو سامنے دیکھ کر محبت سے لبریز تھا، فرمایا:

”السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ“

(سلامتی ہو آپ پر اے نبی (خاص)! اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں)۔

اللہ نے ڈائریکٹ اپنے محبوب کو سلام کیا۔

یہ وہ اعزاز تھا جو کسی فرشتے یا رسول کو نہیں ملا۔

اور یہاں نبی کریم ﷺ کی ”رحمۃ اللعالمین“ والی شان دیکھیں۔ اتنے بڑے مقام پر، جہاں کوئی دوسرا موجود نہیں، جہاں انسان اپنی ہوش کھو بیٹھتا ہے، وہاں انہیں ہم گناہگار یاد رہے۔ انہوں نے اللہ کے سلام کا جواب صرف اپنے لیے نہیں رکھا، بلکہ فرمایا:

”السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ“

(سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر)۔

آپ نے ”میں“ نہیں کہا، ”ہم“ کہا۔

اس ”ہم“ میں ابوبکر رض بھی تھے، عمر رض بھی، عثمان رض بھی, علی رض بھی, معاویہ رض بھی اور چودہ سو سال بعد آنے والا مجھ سا ایک گناہگار امتی بھی بلال شوکت آزاد بھی۔

اس مکالمے کو سن کر آسمانوں کے فرشتے وجد میں آ گئے اور یک زبان ہو کر پکار اٹھے:

”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“۔

یہ نماز کا دل ہے۔ معراج کا یہ تحفہ ہمیں ہر روز معراج کی یاد دلاتا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر اللہ نے اپنی امت کے لیے ایک تحفہ دیا۔

50 نمازیں روزانہ۔

واپسی پر چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰؑ سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات تاریخ ساز تھی۔

موسیٰؑ نے پوچھا:

”اللہ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟“

فرمایا:

”50 نمازیں روزانہ۔“

موسیٰؑ (جو جلالی طبیعت کے تھے اور بنی اسرائیل کے سخت رویوں اور بہانوں کا تلخ تجربہ رکھتے تھے) نے فوراً کہا:

”واپس جائیے! آپ کی امت کمزور ہے، ان کے جسم اور دل یہ بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے۔ میں نے لوگوں کو آزما لیا ہے۔ رب سے تخفیف (کمی) کی درخواست کیجیے۔“

نبی ﷺ واپس گئے (شاید اسی رفرف یا براق کے ذریعے)، اللہ نے 5 کم کر دیں۔

پھر موسیٰؑ نے واپس بھیجا۔

یہ سلسلہ چلتا رہا۔

نبی ﷺ 9 بار واپس گئے اور ہر بار 5 نمازیں کم ہوئیں۔

یہاں تک کہ 5 نمازیں رہ گئیں۔

موسیٰؑ نے پھر کہا:

”اے محمد ﷺ! یہ بھی زیادہ ہیں، واللہ! آپ کی امت یہ بھی نہیں پڑھے گی، اور کم کروائیے۔“

لیکن نبی کریم ﷺ کی حیاء آڑے آ گئی۔ فرمایا:

”اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے کہ بار بار جاؤں۔ میں اس پر راضی ہوں اور سر تسلیم خم کرتا ہوں۔“

تب اللہ کی طرف سے ندا آئی:

”میں نے اپنا فریضہ (جو لوحِ محفوظ میں 5 ہی تھا) قائم کر دیا، لیکن اپنے بندوں کے لیے تخفیف کر دی۔ جو یہ 5 پڑھے گا، اسے اجر 50 ہی کا ملے گا۔“

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، حدیث نمبر 349)

میرا ادنی سا تجزیہ اور حکمت الہی کی حقیقت جانیئے۔

یہاں سوال اٹھتا ہے:

اللہ کو پتا تھا کہ 5 ہی پڑھنی ہیں، تو 50 کا خاکہ کیوں رچایا؟

اور موسیٰؑ کو درمیان میں کیوں ڈالا؟

بوجھ کا احساس: اللہ چاہتا تھا کہ انسان کو احساس ہو کہ میری بندگی کا حق تو یہ تھا کہ تم 24 گھنٹے سجدے میں رہو (50 نمازیں)۔

یہ تو ”رحمت“ ہے کہ صرف 5 مانگی جا رہی ہیں۔ اگر شروع میں ہی 5 ملتیں، تو ہم کہتے ”کتنا مشکل ہے۔“ اب ہم کہتے ہیں ”شکر ہے 50 نہیں ہیں۔“ یہ ”Psychology of Gratitude“ ہے۔

موسیٰؑ کا کردار: موسیٰؑ نے طور پر اللہ کو دیکھنے کی خواہش کی تھی (رب ارنی) اور منع کر دیے گئے تھے, محمد ﷺ نے دیکھ لیا۔

موسیٰؑ بار بار نبی ﷺ کو واپس بھیج کر دراصل نبی ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل کر رہے تھے اور ان کے وسیلے سے اللہ کی تجلیات کا عکس دیکھ رہے تھے۔ یہ ان کی محبت تھی۔

بونس سسٹم: اللہ کی ریاضی مختلف ہے۔ کام 5 کا، دام 50 کا۔ یہ امتِ محمدیہ پر خاص کرم ہے۔

جب یہ سارا سفر, مکہ سے یروشلم، یروشلم سے سات آسمان، سدرۃ المنتہیٰ، دیدارِ الٰہی، 50 سے 5 نمازوں کی آمد و رفت، جنت و جہنم کا تفصیلی مشاہدہ, مکمل ہوا اور نبی کریم ﷺ واپس اپنے بستر پر تشریف لائے، تو روایات کے وہ الفاظ جو عقل کو ہلا دیتے ہیں:

”بستر ابھی گرم تھا اور وضو کا پانی ابھی ہل رہا تھا۔“

یہاں آئن اسٹائن کا ”Theory of Relativity“ (نظریہ اضافیت) سجدے میں گر جاتا ہے۔

جدید سائنس کہتی ہے کہ جب آپ روشنی کی رفتار (Speed of Light) سے سفر کرتے ہیں، تو آپ کے لیے وقت سست (Dilate) ہو جاتا ہے۔ اگر آپ روشنی کی رفتار سے جائیں، تو آپ کے لیے چند منٹ گزریں گے مگر زمین پر ہزاروں سال گزر چکے ہوں گے (Twin Paradox)۔

لیکن معراج میں الٹ ہوا۔ نبی ﷺ نے کائناتی وقت (Cosmic Time) کے مطابق ہزاروں سال کا فاصلہ اور واقعات دیکھے، مگر زمین پر وقت ”فریز“ (Freeze) ہو چکا تھا۔

یہ اللہ کا اشارہ تھا کہ

”وقت میری مخلوق ہے۔ جب میں اپنے محبوب کو اپنی محفل میں بلاتا ہوں، تو میں کائنات کی گھڑی کو روک دیتا ہوں (Time Stop)۔ میرا محبوب مجھ سے جتنی مرضی باتیں کرے، زمین والوں کو خبر بھی نہیں ہوگی کہ وہ کب گئے۔“

یہ معجزہ نہیں، یہ ”Creator’s Privilege“ (خالق کا اختیار) ہے۔

خیر رات کا وہ ہنگامہ خیز سفر، جس نے ساتوں آسمانوں کے سکوت کو توڑ دیا تھا، اب اختتام پذیر ہو چکا تھا۔

کائنات کا دولہا واپس اپنے بستر پر آ چکا تھا۔ مکہ کی صبح حسبِ معمول طلوع ہو رہی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے، قریش کے سردار اپنی محفلیں جما رہے تھے، اور عام زندگی رواں دواں تھی۔

لیکن حرمِ کعبہ کے ایک کونے میں، ایک ہستی ﷺ اپنی چادر میں لپٹی، گہری سوچ میں گم تھی۔

وہ ہستی جو ابھی ابھی ”قابَ قوسین“ کی منزلیں طے کر کے آئی تھی، اس کے لیے مکہ کی یہ تنگ گلیاں اور یہ پتھر کے خداؤں کے پجاری کتنے حقیر اور چھوٹے لگ رہے ہوں گے؟

نبی کریم ﷺ کے دل میں ایک بوجھ تھا:

”میں لوگوں کو یہ بات کیسے بتاؤں؟“

یہ کوئی معمولی دعویٰ نہیں تھا۔ اس دور میں مکہ سے بیت المقدس جانے اور آنے میں ایک مہینہ لگتا تھا۔ اور یہاں دعویٰ یہ تھا کہ

”میں رات کے ایک حصے میں نہ صرف بیت المقدس گیا، بلکہ ساتوں آسمان پار کر کے اپنے رب سے مل کر واپس بھی آ گیا۔“

عقلِ عامہ (Common Sense) کے لیے یہ ایک دھماکہ تھا۔ نبی ﷺ جانتے تھے کہ لوگ جھٹلائیں گے، مذاق اڑائیں گے، شاید پتھر ماریں گے۔ لیکن ”حق“ چھپایا نہیں جا سکتا، چاہے سننے والوں کے کان پھٹ جائیں۔

ابوجہل (عمرو بن ہشام) کا گزر ہوا۔ اس نے نبی ﷺ کو غمگین اور فکر مند بیٹھے دیکھا تو طنزاً پوچھا:

”اے محمد (ﷺ)! کیا آج کوئی نئی بات ہوئی ہے؟“

نبی کریم ﷺ نے پوری سچائی اور دیانت کے ساتھ فرمایا:

”ہاں! آج رات مجھے سیر کرائی گئی۔“

ابوجہل نے ہنس کر پوچھا:

”کہاں کی؟“

فرمایا:

”بیت المقدس کی۔“

ابوجہل کے چہرے پر ایک مکارانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے سوچا کہ آج محمد (ﷺ) نے ایسی بات کہہ دی ہے جس سے میں انہیں پوری قوم کے سامنے جھوٹا ثابت کر سکتا ہوں۔

اس نے تصدیق کے لیے پوچھا:

”تم راتوں رات بیت المقدس ہو آئے اور اب صبح ہمارے درمیان موجود ہو؟“

فرمایا:

”ہاں!“

ابوجہل نے کہا:

”اگر میں اپنی قوم کو بلاؤں تو کیا تم ان کے سامنے بھی یہی بات کہو گے؟“

فرمایا:

”ہاں! بلا لو۔“

ابوجہل نے شور مچا دیا:

”اے بنی کعب! اے قریش! ادھر آؤ، ایک تماشا دیکھو۔“

لوگ جمع ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور پوری تفصیل کے ساتھ اپنا سفر بیان کر دیا۔

مجمع میں ایک طوفان آ گیا۔ کچھ لوگ ہنسنے لگے، کچھ نے حیرت سے سر پر ہاتھ رکھ لیے، کچھ تالیاں پیٹنے لگے۔ وہ لوگ جو بیت المقدس جا چکے تھے، وہ کہنے لگے:

”خدا کی قسم! اونٹوں پر وہاں جانے میں ایک مہینہ لگتا ہے اور آنے میں ایک مہینہ، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک رات میں یہ سفر طے ہو جائے؟“

یہ ”ایمان کا لٹمس ٹیسٹ“ (Litmus Test) تھا۔ کمزور ایمان والے ڈگمگا گئے، اور کچھ مرتد ہو گئے۔ عقل اور مادی پیمانے (Materialistic Scales) نبی کے دعوے کو تولنے سے قاصر تھے۔

قریش کے سیانوں نے سوچا کہ محمد (ﷺ) کو پکڑنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان سے ”ثبوت“ مانگا جائے۔ انہیں معلوم تھا کہ نبی ﷺ نے اس سے پہلے کبھی بیت المقدس نہیں دیکھا۔

انہوں نے چیلنج کیا:

”اگر تم سچے ہو، تو ہمیں بیت المقدس کا نقشہ بتاؤ۔ اس کے کتنے دروازے ہیں؟ اس کی دیواریں کیسی ہیں؟ اس کا صحن کیسا ہے؟“

نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:

”میں اس سوال پر اتنا پریشان ہوا جتنا زندگی میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ (کیونکہ میں رات کے وقت گیا تھا اور میرا مقصد عمارت کا معائنہ کرنا نہیں تھا، میں تو امامت کے لیے گیا تھا)۔“

لیکن پھر کیا ہوا؟

اللہ اپنے نبی کو تنہا کیسے چھوڑ سکتا تھا؟

نبی ﷺ فرماتے ہیں:

”فَجَلَّى اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ“

(پس اللہ نے میرے لیے بیت المقدس کو روشن/ظاہر کر دیا)۔

”أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَأُخْبِرُهُمْ“

(میں اسے دیکھتا جاتا تھا اور انہیں ایک ایک چیز بتاتا جاتا تھا)۔

(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب مناقب الانصار، حدیث نمبر 3886)

میرے قلم کا سائنسی تجزیہ:

آج کی زبان میں اسے ”Live Streaming“، ”Augmented Reality (AR)“ یا ”Holographic Projection“ کہتے ہیں۔

اللہ نے حطیم کے مقام پر، نبی ﷺ اور بیت المقدس کے درمیان سے تمام پردے (Veils of Space) ہٹا دیے۔

نبی ﷺ مکہ میں کھڑے تھے، مگر بیت المقدس ان کی آنکھوں کے سامنے ایسے تھا جیسے وہ اس کے صحن میں کھڑے ہوں۔ وہ پتھر گنتے جاتے اور بتاتے جاتے۔

قریش کے لوگ (جو کئی بار وہاں جا چکے تھے) حیران رہ گئے۔ وہ کہنے لگے:

”خدا کی قسم! نقشہ تو بالکل ٹھیک بتایا ہے۔“

لیکن چونکہ ان کے دلوں پر مہر تھی، وہ پھر بھی نہ مانے اور کہنے لگے:

”یہ تو کھلا جادو ہے۔“

(یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معجزہ دیکھنے سے ایمان نہیں آتا، ایمان ”طلب“ سے آتا ہے)۔

نبی ﷺ نے صرف روحانی یا بصری ثبوت نہیں دیا، بلکہ ایک مادی ثبوت بھی دیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

”واپسی پر میں قریش کے ایک تجارتی قافلے کے اوپر سے گزرا۔ ان کا ایک اونٹ بھاگ گیا تھا اور وہ اسے ڈھونڈ رہے تھے۔ میں نے ان کے پانی کے پیالے سے پانی پیا اور اسے ڈھک دیا۔ وہ قافلہ فلاں وقت مکہ میں داخل ہوگا۔ اور اس قافلے کے آگے ایک خاکستری رنگ کا اونٹ ہے جس پر دو بوریاں لدی ہیں۔“

لوگ بھاگ کر گھاٹی کی طرف گئے کہ دیکھیں قافلہ آتا ہے یا نہیں۔

ٹھیک اسی وقت، اسی حلیے کے ساتھ قافلہ نمودار ہوا۔ جب قافلے والوں سے پوچھا گیا، تو انہوں نے گواہی دی کہ

”ہاں! ہمارا اونٹ بھاگ گیا تھا اور ہمارے پانی کے برتن سے کسی نے پانی پیا تھا حالانکہ وہاں کوئی نہیں تھا۔“

یہ ”Circumstantial Evidence“ تھا، مگر ضد کا کوئی علاج نہیں۔ قریش نے اسے بھی جادو کہہ کر رد کر دیا۔

اس ہنگامے میں کچھ لوگ بھاگے بھاگے حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئے (جو ابھی تک واقعے سے بے خبر تھے)۔

انہوں نے کہا:

”اے ابوبکر! اپنے دوست کی خبر لو۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ راتوں رات بیت المقدس اور آسمانوں پر ہو آئے۔ کیا تم اس بات کو مان سکتے ہو؟“

ابوبکر صدیقؓ نے ایک لمحے کا توقف نہیں کیا۔ انہوں نے جو جواب دیا، وہ ”Higher Rationality“ (اعلیٰ عقلیت) کا شاہکار تھا۔

فرمایا:

”اگر انہوں نے یہ کہا ہے، تو سچ کہا ہے۔“ (صَدَقَ)

لوگوں نے کہا:

”تم اس ناممکن بات کی تصدیق کرتے ہو؟“

ابوبکرؓ نے فرمایا:

”مجھے اس میں تعجب کی کیا بات لگتی ہے؟ میں تو اس سے بھی بڑی اور دور کی بات پر صبح و شام یقین کرتا ہوں کہ ان کے پاس ساتویں آسمان کے اوپر سے اللہ کی وحی آتی ہے اور فوراً پہنچ جاتی ہے۔ اگر آسمان سے زمین کا سفر (وحی کا) پلک جھپکتے ہو سکتا ہے، تو زمین سے آسمان کا سفر کیوں نہیں؟“

یہ وہ دلیل تھی جس نے عقل پرستوں کے منہ بند کر دیے۔ اسی دن نبی کریم ﷺ نے انہیں ”الصدیق“ (سب سے بڑا سچا) کا لقب دیا اور وہ صدیق اکبر ہوگئے, سبحان اللہ, ماشاء اللہ۔

معراج نے امت کو چھانٹ دیا۔ منافق الگ ہو گئے، کمزور الگ ہو گئے، اور ”صدیق“ الگ ہو گئے۔

معراج سے واپسی پر نبی کریم ﷺ امت کے لیے تین بڑے تحفے لائے:

پنجگانہ نماز: جس کا ذکر تفصیل سے ہو چکا۔ یہ بندے کا اللہ سے رابطے کا ڈائریکٹ چینل ہے۔

سورۃ البقرہ کی آخری آیات (آمن الرسول۔۔۔): یہ آیات کسی فرشتے کے ذریعے نازل نہیں ہوئیں، بلکہ اللہ نے براہِ راست نبی ﷺ کو عطا کیں۔ ان میں امت کے لیے دعائیں اور مغفرت کی نوید ہے۔ یہ امت کے لیے ”سیفٹی والو“ ہے۔

شرک کے علاوہ بخشش کی بشارت: اللہ نے وعدہ کیا کہ امتِ محمدیہ کا جو فرد اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرے گا، اس کے باقی تمام گناہ (کبیرہ بھی) بالآخر معاف کر دیے جائیں گے اور وہ جنت میں جائے گا۔ (یہ امید کا سب سے بڑا دروازہ ہے)۔

(حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 173)

میرے دوستو!

میرے ہم وطنو!

آج کی رات (شبِ معراج) جب آپ مساجد میں چراغاں دیکھتے ہیں، حلوے کھاتے ہیں یا نعتیں سنتے ہیں، تو ذرا رک کر سوچیں کہ اس سفر کا اصل مقصد کیا تھا؟

معراج محض ایک ”معجزہ“ نہیں ہے جس پر واہ واہ کی جائے۔

معراج ”انسان کے مقام“ (Human Potential) کا تعین ہے۔

یہ سفر بتاتا ہے کہ انسان مٹی کا ڈھیر نہیں ہے، یہ کائنات کا دولہا ہے۔ اگر انسان اپنے رب سے جڑ جائے، تو ستارے اس کی راہ کی دھول بن جاتے ہیں۔

اقبالؒ نے کہا تھا:

سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفیٰ سے مجھے

کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں

اور سب سے اہم بات: نبی کریم ﷺ تو معراج کر کے واپس آ گئے، لیکن وہ ہمارے لیے ایک ”پرسنل معراج“ چھوڑ گئے ہیں۔

وہ ہے ”نماز“۔

حدیث ہے:

”الصَّلَاةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِ“

(نماز مومن کی معراج ہے)۔

جب آپ ”اللہ اکبر“ کہہ کر ہاتھ اٹھاتے ہیں، تو دراصل آپ دنیا کو پیچھے پھینک دیتے ہیں اور اسی سفر پر روانہ ہوتے ہیں جس پر اس رات نبی ﷺ گئے تھے۔ آپ کا سجدہ آپ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پار لے جاتا ہے۔

اگر ہماری نماز ہمیں گناہوں سے نہیں روکتی، اگر ہمیں سکون نہیں دیتی، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے ابھی تک ”براق“ پر سواری نہیں کی۔ ہماری نماز محض ”ایکسرسائز“ ہے۔

آج کی رات نوافل پڑھنے سے زیادہ اس بات کا عہد کریں کہ جو تحفہ (5 نمازیں) ہمارے نبی ﷺ اتنی منتوں، محبتوں اور موسیٰؑ کی بارگیننگ کے بعد اوپر سے لائے تھے، ہم اسے ضائع نہیں کریں گے۔

جس نے نماز چھوڑ دی، اس نے دراصل اللہ سے ملنے کا وہ واحد ”ویزہ“ پھاڑ دیا جو اسے معراج تک لے جا سکتا تھا۔

اختتامی دعا:

”اے اللہ! ہمیں معراج کی حقیقت سمجھنے کی توفیق دے۔ ہمیں وہ نماز عطا کر جو واقعی ہماری معراج بن جائے۔ ہمیں ابوبکرؓ جیسی تصدیق اور عشق عطا کر۔ اور ہمیں روزِ قیامت اس ہستی ﷺ کے ہاتھوں حوضِ کوثر نصیب فرما جن کے قدموں کی دھول بننے کے لیے آسمان بھی ترس گئے تھے۔“

”سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً…“

(سفرِ معراج کا سلسلہ تمام ہوا)

نوٹ: آپ احباب آج تہجد ادا کریں تو دعا میں میرا نام لیکر میرے اور میرے اہل خانہ اور تمام امت مسلمہ کے حق میں دعائے خیر, دعائے رزق, دعائے ہدایت, دعائے استقامت اور دعائے خاتمہ بالخیر و توحید کردیجیئے گا, پلیز میرا نام تین بار پکار کر میری مغفرت کی دعا اللہ سے کردیجیئے گا۔

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

Loading