“امیر محترم! باہان صبح اپنے ٹڈی دل لشکر کے ساتھ حملہ آور ہونا چاہتا ہے۔”
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رات کو جب مخبر کے ذریعے یہ اطلاع حضرت امین الامۃ ؓ کو ملی تو آپ نے فوراً مجلس مشاورت منعقد کی۔ مشاورت کے بعد فیصلہ ہوا اگرچہ آج مسلمان سخت ترین اور اعصاب شکن جنگ لڑے ہیں لیکن اس کے باوجود بھرپور تیاری کے ساتھ باہان کے لشکر کا مقابلہ کریں گے۔
ہوا یوں کہ جبلہ بن ایہم کو باہان ارمنی نے بعد میں جنگ کی صورت حال پوچھی۔ اس نے کہا:
“سردار! ہم برابر مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرتے آرہے تھے۔ ان کو ہم نے ہر طرف سے گھیر لیا تھا۔ یہاں تک کہ سورج ڈھلنا شروع ہوگیا۔ حملے کے دوران نامعلوم شور شرابہ پیدا ہونا شروع ہوگیا۔ ہمارے سپاہی لڑائی سے بدکنے لگے۔ ان کی ہوا اکھڑ گئی۔ وہ کٹ کٹ کر گرنے لگے۔ پھر میدان سے بھاگنے لگے۔ سردار! مجھے لگتا ہے ان عربوں کے ساتھ ضرور کوئی غیبی مدد ہے۔ ورنہ یہ لوگ یوں چند آدمی لے کر اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر سے لڑنے نہ نکل آتے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اتنے چھوٹے سے گروہ کو قابو کرنا کیا مشکل تھا؟”
باہان نے کہا:
“میں تم لوگوں کو ایلچی بنا کر بھیجتا ہوں تو وہ تمھیں دھتکار دیتے ہیں، تمھاری بات منظور نہیں کی جاتی۔ اگر مقابلے کے لیے بھیجوں تو تم شکست کھا کر بھاگ آتے ہو۔ صلیب کی مدد کے ساتھ کل میں اپنے لشکر کو لے کر ان پر حملہ کروں گا اور انھیں مٹی میں ملا دوں گا۔”
غرض اس نے جبلہ کو سب کے سامنے بہت بے عزت کیا اور منصوبہ بندی کرنے لگا کہ کل کس طرح مسلمانوں کو زیر کرنا ہے۔ باہان کے منصوبے کی اطلاع پاکر حضرت امین الامۃ ؓ نے بھی مشاورت کے بعد ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم کرلیا۔
اس کے بعد آپ نے امیر المومنین سیدنا عمرفاروق ؓ کے پاس ایک قاصد کو خط دے کر روانہ کیا۔ اس خط میں آپ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کی لڑائی اور آئندہ کی صورت حال لکھی تھی۔ حضرت امیر المومنین نے وہ خط تمام لوگوں کو پڑھ کر سنایا تو بہت سے لوگ شام میں لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ جیسے جیسے یہ خبر پھیلتی گئی لوگ جوق در جوق آنا شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ مخلتف قبائل کے چھ ہزار سے زائد لوگوں کا لشکر مدینہ منورہ کے باہر جمع ہوگیا۔
سیدنا عمرفاروق ؓ نے سعید بن عامر کی قیادت میں اس لشکر کو شام کی طرف روانہ کیا۔ سعید بن عامر پہلے کئی مرتبہ شام آئے گئے تھے مگر لشکر کسی مختصر اور محفوظ راستے سے لے کر جانے کی کوشش میں سیدھے رستے سے بھٹک گئے۔ پندرہ بیس دن تک یہ مختلف جنگلوں اور پہاڑی گھاٹیوں میں پھرتے رہے۔ اسی دوران ایک جگہ پر ان کا ٹاکرا والی عمان کے ساتھ ہوگیا۔ وہ باہان کے لشکر کی مدد کے لیے ساز و سامان کا بند و بست کر رہا تھا۔ کافی دیر کی لڑائی کے بعد مسلمانوں کو فتح ہوئی اور بہت سا مال غنیمت بھی میسر آیا۔
اسی لڑائی کے دوران مسلمانوں کو اپنی طرف ایک دستہ بڑھتا ہوا نظر آیا۔ جب یہ قریب پہنچے تو انھوں نے تکبیریں بلند کیں۔ مسلمان پہلے تو سمجھے شاید رومیوں کی کمک پہنچ گئی ہے مگر جب تکبیریں سنی تو یقین ہوگیا ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔
واقدی کہتے ہیں یہ دستہ ایک ہزار سواروں پر مشتمل تھا جس کی کمان زبیر بن العوام اور فضل بن عباس کر رہے تھے۔ یہ دستہ والی عمان کی ہی سرکوبی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یہیں ان کی ملاقات مدینہ سے آنے والے امدادی لشکر سے ہوگئی۔ جب یہ فتح کے بعد یرموک پہنچے تو رومی اپنے پڑاؤ سے گردنیں اونچی کرکے دیکھنے لگے۔ کیوں کہ چھ ہزار سے زائد وہ مسلمان تھے جو مدینہ سے آئے تھے اور ایک ہزار کمک تھی۔ یوں سات سے ساڑھے سات ہزار کا لشکر جب تکبیر و تہلیل کی آوازیں بلند کرتے ہوئے یرموک کے میدان میں پہنچا تو رومیوں پر غم کے مہیب سائے چھا گئے۔ خوف و دہشت ان کے دلوں میں اتر گئی۔ اس کی بڑی وجہ حضرت خالد بن ولید ؓ کا وہ حملہ بھی تھا جس میں صرف ساٹھ بہادروں نے حصہ لیا تھا اور جبلہ کے ہزاروں کے لشکر کو خاک چٹا دی تھی۔ اب تو مسلمانوں کی طرف مزید کمک پہنچ گئی تھی۔ اب ان کا ڈرنا بنتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
رومی سپاہی مسلسل شکستوں سے انتہائی مایوسی کے شکار ہو چکے تھے۔ ان کے سامنے وہ باتیں بھی تھیں جو ان کے آسمانی کتب کے عالموں نے بتائی تھیں کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے پیروکار اس سرزمین کو فتح کریں گے۔ رومی سپاہی دیکھ رہے تھے کہ چند یا چند سو عرب جنگجو آتے ہیں اور ہمارے بڑے بڑے لشکروں کو مات دے دیتے ہیں۔ ہمارے کتنے ہی نامی گرامی پہلوانوں کو ان کے ننگے بدن اور پرانے ہتھیاروں والے سپاہیوں نے آسانی سے مار کاٹ کر رکھ دیا۔ رومی سپاہی لڑنے سے بہت بددل تھے مگر شہنشاہ کا ڈر، مال و دولت کا لالچ ان کو میدان میں کھینچ لاتا تھا۔ اس کے علاوہ اس متحدہ رومی لشکر میں سیاسی، نسلی و مذہبی اختلافات بھی موجود تھے۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ رومیوں کی پے در پے شکستوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں اصل وجہ ان کے عوام کا دینی بگاڑ تھا جس کی بدولت وہ راہ حق سے محروم رہے اور اس وقت دنیا کی سپر پاور سمجھی جانے والی سلطنت روما مٹھی بھر حق پرستوں سے شکست کھا گئی۔ ورنہ کسی قسم کی کمی ان کے پاس نہیں تھی، اگر کمی تھی تو صرف اور صرف حق بات کو نہ ماننے کی۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی پیروی نہ کرنے کی۔ جو قوم بھی ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کرے گی وہ جلد یا بدیر ضرور بالضرور تباہ ہوکر رہے گی۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
اور تم خار ہوئے تارک قرآں ہوکر ____
آج بھی مسلمان متحد ہوکر صحابہ کرام کی طرح ہر معاملے میں سو فیصد اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنا شروع کردیں تو وہی عروج، وہی دبدبہ، وہی شان و شوکت امتِ مسلمہ کو دوبارہ حاصل ہوسکتا ہے۔
علامہ محمد اقبال رحمہ اللّٰہ نے خوب کہا:
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں
۔۔۔۔
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
۔۔۔۔
منفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک؟
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
کون ہے تارک آئینِ رسولِ مختار؟
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟
ہو گئی کس کی نگہ طرزِ سلف سے بے زار؟
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں
۔۔۔۔
واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
۔۔۔۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود!
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہـ ـود
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟
دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباک
عدل اس کا تھا قوی لوثِ مراعات سے پاک
شجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناک
تھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوقُ الاَدراک
۔۔۔۔
ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا
اس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھا
جو بھروسا تھا اسے قوتِ بازو پر تھا
ہے تمہیں موت کا ڈر، اُس کو خدا کا ڈر تھا
۔۔۔۔
ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہے؟
حیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر!
تم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیم
تم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریم
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم
خودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددار
تم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثار
تم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بہ کنار
اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی
نقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کی
آج بھی ہو جو براہیم کا سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ کون ہیں؟”
جب قیدی باہان کے سامنے پیش کیے گئے تو اس نے حقارت سے پوچھا۔
جبلہ نے کہا:
“سردار! یہ مسلمان قیدی ہیں جو ہم نے گرفتار کیے تھے۔ بہت سوں کو ہم نے مار دیا ہے، یہ پانچ گرفتار ہوچکے ہیں۔ البتہ وہ انسان بچ گیا ہے جو ان سب سے زیادہ جنگجو ہے۔ جس نے ہمارے بہت سے قلعے اور شہر فتح کیے ہیں۔”
“کون ہے وہ؟”
باہان ارمنی نے پوچھا۔
“اس کا نام خالد بن ولید ہے۔ قبیلہ مخزوم سے اس کا تعلق ہے۔”
جبلہ نے بتایا۔
باہان کہنے لگا:
“ہم فی الحال حملے کو مؤخر کرتے ہیں۔ اس کی جگہ فریب کاری سے کام لے کر اس خالد بن ولید کو یہاں بلاتے ہیں، پھر گرفتار کرکے ان سب کو فنا کردیں گے۔ یہ قیدی ہمارے فریب دینے میں کام آئیں گے۔”
پھر باہان نے ایک شخص کو مسلمانوں کی طرف بھیج کر مذکرات کے لیے خالد بن ولید ؓ کو بلایا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ سے اس شخص کی ملاقات ہوئی۔ اس سے بات کرنے کے بعد آپ نے حضرت امین الامۃ ؓ کو سب قصہ سے آگاہ کیا۔ آپ نے کہا:
“ابو سلیمان! تم اکیلے نہ جاؤ۔ اپنے ساتھ سو بہادروں کو لے کر جاؤ۔ مجھے اکیلے جانا مناسب نہیں لگ رہا۔”
چنانچہ حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنے ساتھ سو بہترین شہسواروں کو لیا اور باہان کی طرف چل پڑے۔ جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ کیسے رومیوں کا لشکر ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ ملکِ روم کے مخلتف علاقوں سے اکٹھے کیے گئے سپاہیوں کا جم غفیر پانچ سات میل تک پھیلا ہوا تھا۔ اسلحے کے ڈھیر اور بے بہا جانور نظر آرہے تھے۔
یہ سو بہادر کسی بھی قسم کے خوف اور حیرت کو ظاہر کیے بغیر سینہ تان کر چلتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ ایک بڑے خیمہ تک پہنچ گئے۔ یہ ایک شاہی طرز کا خیمہ تھا جس کے ارد گرد بہت سے سپاہی چوکنے کھڑے تھے۔ قیمتی کپڑے سے بنے اس خیمے سے جبلہ برآمد ہوا اور حضرت خالد بن ولید ؓ کو کہنے لگا:
“آپ لوگ گھوڑوں سے اتر جائیں اور اپنے ہتھیار محافظوں کے حوالے کردیں۔”
آپ نے کہا:
“ہم گھوڑوں سے اتر جائیں گے مگر ہتھیار کسی صورت محافظوں کے حوالے نہیں کریں گے۔”
جبلہ اندر گیا اور باہان کو صورت سے مطلع کیا۔ اس نے اجازت دیدی۔ جبلہ نے کہا:
“ٹھیک ہے۔ ہتھیاروں سمیت اندر آجائیں مگر صرف خالد بن ولید۔ باقی کوئی نہیں۔ کیوں کہ ہم نے صرف خالد بن ولید کو بلاوا بھیجا تھا۔”
آپ نے فرمایا:
“ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ میں اکیلا نہیں، اپنے سب ساتھیوں سمیت اندر جاؤں گا۔”
اس نے کہا:
“سپہ سالار کے حکم کی تعظیم کیجیے۔”
آپ نے کہا:
“ہمارے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی ہے، ان کے بعد مسلمانوں کے امیر المؤمنین کی۔ تمھارے سپہ سالار کی، جو خدا کے رسول ﷺ کو نہیں مانتا بلکہ ان کے دین سے دشمنی رکھتا ہے، اطاعت یا تعظیم کرنا ہم پر ضروری نہیں۔”
جبلہ پھر اندر گیا۔ کچھ دیر بعد واپس آکر کہا:
“ٹھیک ہے آپ لوگ اندر آجائیں۔”
یہ سب لوگ اندر داخل ہوئے تو باہان اپنے خیمہ میں تخت پر شان و شوکت سے بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے خدام کو کہا:
“ان سب کو کرسیاں پیش کی جائیں مگر مسلمانوں نے کرسی کے بجائے نیچے بیٹھنا پسند کیا۔ پھر اپنے ہتھیاروں کو سنبھال کر زمین پر بیٹھ گئے۔”
حضرت خالد بن ولید ؓ نے کہا:
“باہان! بتاؤ تم کیا کہنا چاہتے ہو؟”
پھر ان دونوں کے درمیان دیر تک بات چیت ہوتی رہی۔ باہان وہی پرانی دھمکیاں، طعنے اور لالچ دیتا رہا، آپ نے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ بہت دیر تک گفتگو رہی۔ آخر باہان نے جب یہ کہا:
“تمھارے پانچ ساتھی میری قید میں ہیں۔ میں ابھی ان کی گردنیں اتار دوں گا۔”
یہ سن کر حضرت خالد بن ولید ؓ نے تلوار میان سے نکالی اور کھڑے ہوگئے۔ آپ کے ساری ساتھیوں نے بھی اپنے ہتھیار ان سب پر تان لیے۔ اچانک منظر بدلنے پر جبلہ اور باہان دم بخود رہ گئے۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے گرج کر فرمایا:
“اگر تم نے ایسی کوشش بھی کی تو ہم سب تمھارے سینکڑوں سپاہیوں کے لیے کافی ہوں گے۔ لمحوں میں تمھاری تکہ بوٹی کرکے رکھ دیں گے۔” پھر باہان کی طرف اشارہ کرکے کہا: “اور تمھیں تو ہم اسی وقت فنا کرکے رکھ دیں گے۔”
اس کے ساتھ مسلمانوں نے جب نعرہ تکبیر بلند کیا تو وہاں موجود ہر کسی پر دہشت چھا گئی۔ باہان نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے کہا:
“خالد! جلدی نہ کرو۔ میں اگر ایسا چاہتا تو تمھیں صلح کے لیے بلاتا ہی کیوں؟ میں صرف تمھیں آزما رہا تھا۔”
اس کے بعد مزید کچھ دیر بات چیت کرنے کے بعد اس نے خدام اور محافظوں کو حکم دیا کہ ان کے قیدیوں کو واپس کردیا جائے اور ان سب کو لشکر کے آخر تک باحفاظت واپس چھوڑ کر آئیں۔
حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنے قیدی ساتھیوں کو لیا اور واپس چلنے کے لیے مُڑے۔ باہان ارمنی نے آپ کو کہا:
“خالد! کل ہم تمھارے ساتھ جنگ کریں گے۔ اس کے لیے تیار رہنا۔”
آپ نے کہا:
“ہم اس کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا مددگار ہے۔”
یہ کہہ کر آپ نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور واپس اپنے لشکر کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب یہ سب لوگ مسلمانوں کے لشکر کے پاس پہنچے تو سب نے نعرہ تکبیر لگا کر ان کا استقبال کیا۔ پھر حضرت امین الامۃ ؓ ان سے گلے ملے اور باحفاظت واپسی پر سجدہ شکر ادا کیا۔ باقی لوگ بھی ان سے ملنے لگے۔ اس کے بعد حضرت امین الامۃ ؓ نے فرمایا:
“سب لوگ جمع ہو جائیں۔ باہان نے کل پھر جنگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لہذا سب جمع ہوں تاکہ حکمت عملی طے کی جائے۔”
پھر ایک مجلس مشاورت منعقد ہوئی جس میں جنگ کی تیاریوں اور ترتیب کا تعین کیا گیا۔ ساری رات مسلمان جنگ کے لیے اپنی اپنی تیاری اور نماز و دعا میں مشغول رہے۔ صبح فجر کے بعد لشکر اسلام نے میدان میں نکل کر صف بندی شروع کردی۔ حضرت خالد بن ولید ؓ اپنی اسپیشل فورس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:
“ہمارے اور رومیوں کے درمیان یہ ایک خون ریز اور فیصلہ کن جنگ ہوگی۔ آپ لوگ ہرقسم کی لڑائی میں خوب مہارت رکھتے ہو، بتاؤ تمھاری کیا رائے ہے؟”
انھوں نے کہا:
“امیر محترم! ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ جنگ کرنا ہمارے لیے خوشی کا موقع ہے۔ رومیوں سے لڑنا ہماری عین خواہش ہے۔ آپ کا جو حکم ہوگا ہم اس کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم لڑائی سے پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔” یہ سن کر آپ نے سب کو بہت دعائیں دی۔
حضرت امین الامۃ ؓ نے خالد بن ولید ؓ کی مشاورت سے لشکر کے ایک بازو پر حضرت معاذ بن جبل ؓ کو مقرر کیا اور دوسرے بازو پر کنانہ بن مبارک یا عمرو بن معدی کرب کو۔
کنانہ بن مبارک بہت جرأت مند اور شجاع انسان تھے۔ اکیلے کئی کئی لوگوں کو لمحوں میں خاک چٹا دیا کرتے تھے۔ اپنے قبیلے کے مشہور شہسوار اور ماہر شمشیر زن تھے۔
جب سب سالار مقرر کردیے گئے تو حضرت امین الامۃ ؓ نے خالد بن ولید ؓ کو فرمایا:
“ابو سلیمان! چونکہ امیر المومنین نے مجھے شام کے عسکری و انتظامی معاملات کا حاکم بنایا ہے تو میں تمھیں حکم دیتا ہوں کہ میدان میں لشکرِ اسلام کی سربراہی تم سنبھالو۔ تم اپنی مرضی سے جسے جہاں تعینات کرنا چاہتے ہو کرو، میری طرف سے مکمل اختیار ہے۔”
حضرت خالد بن ولید ؓ نے کہا:
“ٹھیک ہے امیر محترم! جیسے آپ کا حکم۔ میں ان شاء اللّٰه پوری ذمہ داری سے یہ خدمت سر انجام دوں گا۔ بس آپ اتنا کریے کہ یہ حکم تمام سالاروں کو کہلا بھیجیے۔”
حضرت امین الامۃ ؓ نے ضحاک بن قیس کو حکم دیا کہ پورے لشکر میں ہر سالار کے پاس میرا یہ حکم پہنچا دیا جائے۔ چنانچہ یہ گئے اور سب تک حضرت امین الامۃ ؓ کا حکم پہنچا دیا۔ مسلمان حضرت خالد بن ولید ؓ کے امیر بننے پر بہت خوش ہوئے۔ ان کو معلوم تھا کہ جنگی معاملات کی جانچ پرکھ میں حضرت خالد بن منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔”
جب تمام احکامات سے لشکر اسلام کو مطلع کردیا گیا تو حضرت خالد بن ولید ؓ نے پوری لشکر کا چکر لگایا۔ ہر صف کا جائزہ لیا اور ہر سپاہی کو بغور دیکھا۔ ہر سالار کو جنگ کے متعلق اہم ہدایات اور قرآن و حدیث سنا کر لہو گرمایا۔ جب یہ کام مکمل ہوچکا تو آپ نے اپنے اسپیشل لشکر میں مزید بہادروں کو شامل کرکے اس کے چار حصے کیے۔ ایک حصے پر عامر بن طفیل، دوسرے پر قیس بن ہبیرہ المردی، تیسرے پر میسرہ بن مسروق العبسی اور چوتھے کو اپنی کمان میں لیا۔
اب لشکرِ اسلام لڑائی کے لیے مکمل تیار تھا۔ پورے لشکر میں ذکر اور تلاوت قرآن کی آواز گونج رہی تھے۔ اسلام کے جانباز اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر کے ساتھ ٹکرانے اور تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔
دوسری طرف باہان نے بھی اپنا لشکر پوری تیاری سے آگے بڑھایا۔ ان کے لشکر کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے انسانوں اور لوہے کا سیلاب بہتا چلا آرہا ہو۔ ان کی سروں سے بلند اتنے زیادہ نیزے تھے جیسے گھنا جنگل ہو۔ یہ جب ایک مخصوص فاصلے پر پہنچ گئے تو وہاں صف بندی شروع کی۔ باہان نے پورے لشکر کی تیس صفیں بنائی تھیں۔ ہر صف میں اتنے سپاہی تھے جتنا کہ کُل مسلمان لشکر۔ باہان سب سے آگے آگے تھا۔ اس کے ارد گرد اس کے محافظ چل رہے تھے۔ جبلہ کا گھوڑا اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ یہ بھی بڑی شان و شوکت سے نکلا تھا۔ باہان نے پادریوں کو حکم دیا کہ پورے لشکر میں چکر لگائیں اور متبرک پانی چھڑکیں۔ دھونی دیں اور سپاہیوں کے جذبات کو گرمائیں۔ یہ پورے لشکر میں پھیل گئے اور اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔
سورج عین آسمان کے بیچ پہنچ چکا تھا۔ دھوپ سے ہر چیز واضح تھی۔ دونوں لشکر مخصوص فاصلے پر کھڑے تھے۔ رومی دیکھ رہے تھے کہ مسلمانوں نے مضبوط صف بندی کی ہے۔ نیزے اور گھوڑے برابر کھڑے ہیں۔ سپاہیوں میں مناسب فاصلہ ہے اور ان کے بالکل بے خوف چہرے ہیں۔
(جاری ہے)
ماخوذ از فتوح الشام للواقدی اُردو ترجمہ
تسہیل و تلخیص: محمد عثمان انصاری
#فتوحات_شام (قسط نمبر 38)
![]()

