کراچی: سانحہ گل پلازہ میں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی ہے جب کہ واقعے کے بعد اب بھی 73 افراد لاپتا ہیں۔
سندھ حکومت کی ہیلپ ڈیسک کے مطابق کل 70 افراد کے لاپتا ہونے کا اندراج ہوا تھا جب کہ آج مزید 3 افراد کے نام لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔
سندھ حکومت کی ہیلپ ڈیسک کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق گل پلازہ میں آگ پر تقریباً قابو پالیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے جب کہ ریسکیو اہلکار لاپتا افراد کو بھی تلاش کررہے ہیں۔
سانحہ گل پلازہ
ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب لگی، گراؤنڈ فلور پر لگنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچی، خوفناک آتشزدگی سے عمارت کے کئی حصے گر گئے۔
لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہفتے کی رات سوا 10 بجے سے جلتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔
فائر فائٹرز نے 33 گھنٹے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا جس کے بعد اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔
حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کے بعد فائر فائٹرز پلازہ کے اندر داخل ہوئے، جلی ہوئی دکانوں میں محدود پیمانے کا سرچ آپریشن کیا گیا ، اس دوران ایک بچے سمیت 3 افراد کے اعضا ملے جنہیں سول اسپتال ٹراما سینٹر منتقل کردیاگیا۔
سانحہ گل پلازہ میں اب تک 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔
تخریب کاری کا امکان مسترد
دوسری جانب کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔
چیف فائر آفیسر کا بیان
چیف فائر آفیسر کے مطابق گل پلازہ میں آرٹیفیشل گملوں اور پھولوں کی دکان میں ہفتے کی شب 10 بج کر14 منٹ پرآگ لگی تھی جب کہ 10 بج کر 38 منٹ پرریسکیو 1122 کو آگ کی اطلاع دی گئی۔
چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ 10 بج کر 57 منٹ پر 1122 کے 2 فائر ٹینڈر موقع پر پہنچے، گل پلازہ میں تقریباً سے 14 سے 16 داخلی اور خارجی راستے ہیں مگر تنگ داخلی اور خارجی راستوں کی وجہ سے آگ بجھانے میں شکلات کا سامنا رہا۔
چیف فائر آفیسر کے مطابق عمارت کے تمام داخلی اورخارجی راستوں میں دھواں بھر گیا تھا، آگ بجھانے کے 2 سے 3 گھنٹوں کے دوران پانی کی قلت ہوگئی تھی اور پھر پانی کے لیے آنے والے ٹینکر گرومندر کے قریب تعمیراتی کام میں پھنس گئے۔
ہجوم اور ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونےسے بھی پانی کی کمی فوری دور نہ ہوسکی: حکام
چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ ہجوم اور ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونےسے بھی پانی کی کمی فوری دور نہ ہوسکی جب کہ آگ بجھانے کے لیے فوم کا استعمال پہلے ہی دن کیا گیا۔
چیف فائر آفیسر نے مزید بتایا کہ 3 مختلف مقامات سے عمارت کے حصے گرچکے ہیں اور عمارت مخدوش ہوچکی ہے، اب بھی 12 فائر ٹینڈرز، 6 واٹرباوزر اور 2 اسنارکل موقع پر موجود ہیں، گل پلازہ کی آگ 90 فیصد بجھادی گئی ہے اور عمارت کے اندر موجود سامان میں 10 فیصد آگ لگی ہوئی ہے، رات گئے تک گراؤنڈ کی تمام دکانوں کو آگ بجھادی گئی تھی۔
![]()







