بچھڑے کا راز:
قرآن، تاریخ اور الہامی بشارتیں –
فہمِ الفاظ سے فہمِ تاریخ تک
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹر نیشنل )قرآن مجید کے واقعات بظاہر سادہ اور مختصر محسوس ہوتے ہیں، مگر جب انہی الفاظ کو غور، تدبر اور تاریخی تناظر کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ واقعات محض قصے نہیں رہتے بلکہ الٰہی حکمت، انسانی نفسیات اور آنے والے عظیم واقعات کی نشانیاں بن جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ کے پاس فرشتوں کی آمد اور ان کے سامنے بھنے ہوئے بچھڑے کا ذکر بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے جو قرآن، بائبل اور بعد کی تاریخی و مذہبی روایات میں محفوظ رہا اور جس نے صدیوں تک انسانی فکر کو متاثر کیا۔
قرآن مجید سورۃ ہود میں اس رات کا منظر اس طرح کھینچتا ہے کہ ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیمؑ کے پاس خوشخبری لے کر آئے، سلام کہا اور ابراہیمؑ نے کچھ دیر کے بعد ان کے سامنے ایک بھنا ہوا بچھڑا پیش کر دیا۔ ارشاد ہوتا ہے: وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ … فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ (ھود 11:69) یعنی ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے، سلام کہا اور وہ کچھ ہی دیر میں ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔
عام طور پر تفاسیر میں اس عمل کو حضرت ابراہیمؑ کی مہمان نوازی، فیاضی اور اعلیٰ اخلاق کی مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ تفسیر ابن کثیر اور تفسیر طبری کے مطابق انبیاء کی سنت یہ تھی کہ مہمان کے سامنے فوراً بہترین چیز پیش کی جائے۔ فرشتوں کا اس کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانا بھی اسی واقعے کا حصہ ہے، جس سے حضرت ابراہیمؑ کو لمحاتی خوف لاحق ہوا، پھر انہیں بتایا گیا کہ وہ قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں اور ساتھ ہی حضرت سارہؑ کو اولاد کی بشارت دی گئی۔ قرآن کہتا ہے: وَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ (ھود 11:71) یعنی ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔
یہاں بچھڑا صرف ایک کھانا نہیں رہتا بلکہ ایک عظیم الہامی تسلسل کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہی واقعہ ہمیں بائبل میں بھی ملتا ہے۔ کتابِ پیدائش میں بیان ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ ایک نرم اور اچھا بچھڑا مہمانوں کے لیے تیار کیا جائے (Genesis 18:7)۔ دو الہامی کتابوں میں ایک ہی تفصیل کا محفوظ رہنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس واقعے کی علامتی اور تاریخی اہمیت ہے، نہ کہ محض ایک ثقافتی روایت۔
حضرت ابراہیمؑ کا دور وہ زمانہ تھا جب ستاروں اور فلکی مشاہدات کا علم اپنے عروج پر تھا۔ قرآن خود حضرت ابراہیمؑ کے ستارے، چاند اور سورج کے مشاہدے کا ذکر کرتا ہے تاکہ وہ اپنی قوم پر توحید واضح کریں۔ سورۃ الانعام 06:76 تا 79 اور سورۃ الصافات 37:88 اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ فلکیات اس دور کی فکری فضا کا حصہ تھی، اگرچہ ابراہیمؑ نے اس علم کو الوہیت کا معیار ماننے سے انکار کر دیا۔
صدیوں بعد حضرت موسیٰؑ تشریف لائے، تورات نازل ہوئی، پھر وقت کے ساتھ اصل تورات گم ہو گئی۔ بعد میں جب یہودی علماء نے یادداشت اور روایات کی بنیاد پر متون مرتب کیے تو مختلف تصورات ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے۔ اسی تناظر میں یہودی mysticism اور علمِ نجوم کی کتاب سیفر یصیرا سامنے آتی ہے، جسے حضرت ابراہیمؑ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ تلمود (Sanhedrin 65b) میں یہاں تک ذکر ملتا ہے کہ بعض ربی اس کتاب کے ذریعے بچھڑے جیسی تخلیق کے تصورات بیان کرتے تھے۔ یوں بچھڑا، ستارے اور مستقبل کی بشارتیں یہودی mystic روایت میں ایک دوسرے سے جڑ گئیں، جو بعد میں کبالہ کا حصہ بنیں۔
اسلام ان تمام انسانی تعبیرات سے ایک واضح حد کھینچ دیتا ہے۔ قرآن کے مطابق علم ہو یا پیش گوئی، غیب کا قطعی اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ انسان ستارے دیکھ سکتا ہے، حساب لگا سکتا ہے، مگر حتمی علم نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہودی علماء رسول اللہ ﷺ کی آمد سے پہلے بعض واضح نشانیوں کے منتظر تھے۔
حضرت حسان بن ثابتؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ بچپن میں مدینہ کی ایک رات سحری کے وقت یہودیوں کو مشعلوں کی روشنی میں قلعے کی دیوار پر کھڑے دیکھا اور ایک یہودی عالم کو یہ کہتے سنا کہ وہ ستارہ طلوع ہو گیا ہے جس کے ساتھ ایک نبی کی پیدائش ہونی تھی۔ یہ روایت سیرت ابن ہشام اور دیگر کتبِ سیرت میں مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت حویصہ بن مسعود نے بھی اس واقعے کی گواہی دی۔
یہودیوں کے اس زبردست علم کا ایک اور واقعہ صفیہ بنت حییؓ بھی بیان کرتی ہیں ۔
کہتی ہیں کہ میرے والد اور چچا ۔۔۔ دونوں مجھ سے بہت پیار کرتے تھے ۔ جب وہ گھر آتے ، میں ان کے پاس جاتی تو وہ مجھے گود میں اٹھا لیتے لیکن جس دن ۔۔۔
محمد (ﷺ) مدینہ آئے تو میرے والد اور چچا صبح سویرے مونہہ اندھیرے ان سے ملنے کے لیے گئے ۔
دن گزرنے کے بعد جب وہ لوگ واپس آئے تو دیکھنے میں ۔۔۔ یوں لگ رہے تھے کہ جیسے شدید تھکے ہوئے ہوں ۔
میں ہمیشہ کی طرح بھاگی بھاگی ان کے پاس گئی لیکن دونوں اس طرح تھے کہ جیسے کسی گہری سوچ میں گم ہوں اور دونوں میں سے کسی ایک نے بھی مجھے اپنی گود میں ۔۔۔ نہیں اٹھایا ۔
یہاں تک ۔۔۔ کہ میں نے چچا کو کہتے سنا کہ ’’کیا یہ وہی ہیں کہ جن کی ستاروں کے ذریعے پیشن گوئی ہوئی تھی ؟‘‘
میرے والد ۔۔۔ کہ جو ھارونؑ کی نسل میں سے ایک بہت بڑے عالم تھے ، نے کہا کہ ہاں ۔۔۔ بخدا یہ وہی ہیں ۔
چچا نے دوبارہ پوچھا کہ کیا آپ کو یقین ہے ؟
والد نے کہا کہ ہاں ۔۔۔ بغیر کسی شک کے ۔
تو چچا نے پوچھا کہ کیا پھر ہمیں مان لینا چاہیئے ؟
تو والد نے کہا کہ ’’نہیں ۔۔۔ مرتے دم تک نہیں‘‘ ۔
۔ اسی کیفیت کے بارے میں قرآن کہتا ہے: خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ (البقرۃ 02:07) یعنی علم ہونے کے باوجود ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔
یوں فرشتوں کی آمد والی رات میں بچھڑے کا ذکر ہمیں محض مہمان نوازی کا سبق نہیں دیتا بلکہ ایک فکری راستہ دکھاتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ قرآن کے الفاظ تاریخ، علم اور نبوت کی گہری نشانیوں سے بھرپور ہیں۔ جو شخص ان الفاظ کو سطحی طور پر نہیں بلکہ غور و فکر کے ساتھ پڑھتا ہے، اس کے سامنے ماضی، حال اور مستقبل کے کئی بند دروازے کھلنے لگتے ہیں۔
اس پوری بحث کا پیغام یہی ہے کہ علم رکھنا کافی نہیں، اصل کامیابی حق کو پہچان کر اسے قبول کرنے میں ہے۔ قرآن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ الفاظ کو سمجھنا سیکھیں، کیونکہ جب الفاظ سمجھ میں آ جاتے ہیں تو اندیکھی دنیاؤں کے دروازے ایک ایک کر کے کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
حوالہ جات و مصادر:
قرآن مجید: سورۃ ہود 11:69–71؛ سورۃ الانعام 06:76–79؛ سورۃ الصافات 37:88؛ سورۃ البقرۃ 02:07 تفسیر ابن کثیر، تفسیر الطبری سیرت ابن ہشام ابن سعد، الطبقات الکبری The Bible, Book of Genesis 18:7 Talmud, Sanhedrin 65b Jewish Encyclopedia: Sefer Yetzirah۔
![]()

