Daily Roshni News

نسوانی مکر کے حوالے سے حکماء کی نصیحت ؛

📌 نسوانی مکر کے حوالے سے حکماء کی نصیحت ؛

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )علامہ مرزا حبیب اللہ خوئی فرماتے ہیں ؛ ينبغي لنا أن نذكر هنا شطراً من أوصاف النساء وأخبارهن وبعض مكايدهن من طريق الأخبار وغيرها، والمقصود بذلك التحذير عنهن والتنبيه على كيدهن، حيث وصفه الله سبحانه في كتابه العزيز بالعظمة مع أنه جعل كيد الشيطان ضعيفاً حيث قال: «إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ» وقال: «إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفاً». ولذلك قال بعض أهل العرفان: إنا من النسوان أحذر من الشيطان فأقول: قال رسول الله شاوروهن وخالفوهن وقيل: إياك وموافقة النساء فرأيهن إلى أفن وعزمهن إلى وهن، وقيل: أكثروا لهن من لا، فإن نعم تغريهن بالأمثلة قال الشاعر:

تعيرني بالغزو عرسي وما درت … بأني لها في كل ما أمرت ضدّ

ورأى سقراط امرأة تحمل ناراً فقال نار تحمل ناراً والحامل شر من المحمول وقيل له: أي السباع شر قال: المرأة وقيل: المرأة إذا أحبتك آذتك وإذا أبغضتك خانتك فحبها أذى وبغضها داء وقيل المرأة سبع معاشر وقيل حيوان شرير.

” ہمیں یہاں اخبار اور دیگر ذرائع کے حوالے سے عورتوں کے بعض اوصاف ، ان کے حالات اور ان کے کچھ مکر و فریب کا ذکر کرنا چاہیے ۔ اس کا مقصد ان سے خبردار کرنا اور ان کے مکر کی طرف توجہ دلانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز میں عورتوں کے مکر کو عظیم قرار دیا ہے حالانکہ شیطان کے مکر کو کمزور بتایا ہے ۔ چنانچہ فرمایا: (ترجمہ) : ” یہ تم عورتوں کے مکر میں سے ہے، بے شک تمہارا مکر بڑا عظیم ہے ۔ ” (سورۃ یوسف : 28) ۔ اور فرمایا: (ترجمہ) : ” بے شک شیطان کا مکر کمزور ہے ۔ ” (سورۃ النساء: 76 ) ۔ اسی وجہ سے بعض اھل عرفان نے کہا: میں شیطان سے زیادہ عورت سے ڈرتا ہوں ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں سے مشورہ کرو اور پھر ان کی مخالفت کرو ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے: عورتوں کی موافقت سے بچو کیونکہ ان کی رائے کمزوری کی طرف لے جاتی ہے اور ان کا عزم و ارادہ سستی کی طرف ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے: ان کے ساتھ “نہ” کا لفظ زیادہ استعمال کرو کیونکہ “ہاں” انہیں مثالیں بڑھانے پر آمادہ کر دیتی ہے ۔ ایک شاعر نے کہا ؛

میری بیوی مجھے جہاد پر طعنہ دیتی ہے اور وہ نہیں جانتی

کہ میں اس کے ہر حکم میں اس کا مخالف ہوں ۔

اور سقراط نے ایک عورت کو دیکھا جو آگ اٹھائے ہوئے تھی تو کہا: آگ آگ کو اٹھائے ہوئے ہے اور اٹھانے والی اٹھائی ہوئی چیز سے زیادہ بری ہے ۔ اور اس سے پوچھا گیا ؛ درندوں میں سب سے زیادہ برا کون سا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا ؛ عورت . اور یہ بھی کہا گیا ہے ؛ عورت اگر تم سے محبت کرے تو تمہیں اذیت دیتی ہے، اور اگر نفرت کرے تو تم سے خیانت کرتی ہے ۔  اس کی محبت اذیت ہے اور اس کی دشمنی بیماری ۔ اور کہا گیا ہے: عورت ساتھ رہنے والا درندہ ہے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے: وہ ایک شریر جانور ہے ۔ “

📚📖 [ منهاج البراعة في شرح نهج البلاغة ج ٥ ص ٣٠٩ ]

⚪نوٹ ؛ اس اقتباس میں حکماء نے صرف مکر اور فتنے کے پہلو کا ذکر کیا ہے کیوں کہ انسان نسوانی مکر میں جلد پھنستا ہے اور فتنے کا‌ شکار ہو جاتا ہے البتہ اس اقتباس میں جو رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ایک بات بیان کی گئ ہے اس کی صحت اور استناد پر راقم کو اطمینان نہیں البتہ اس سے ہٹ کر حکمت اور فلسفی نکتۂ نگاہ سے دیکھا جاۓ تو یہ اقتباس حقائق پر مبنی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نسوانی مکر اس نوعیت کا کیوں ہے ؟ اس بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ یہ مرد کی فطری خواہشات کا حصہ ہے اور نہ صرف فطرت کا حصہ ہے بلکہ کئ دفعہ تو یہی خواہش کئ خواہشات پر غالب آجاتی ھے نتیجتاً انسان اپنی عقل کھو بیٹھتا ہے اور یہاں وہ جس شے کا طالب ہے چونکہ وہ خود ایک زندہ مخلوق ہے لہذا اس مقام پر اپنے حواس کھو دینا شدید فتنے کا سبب ہو سکتا ہے

🖊️ سلمان الخوارزمي

Loading