Daily Roshni News

چین نے ایک بٹن دبایا اور پورا سمندر اندھا ہو گیا۔

چین نے ایک بٹن دبایا اور پورا سمندر اندھا ہو گیا۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ کسی فلم کا سین نہیں تھا۔

نہ ہی کوئی جوہری تجربہ۔ نہ آسمان شعلوں سے بھرا، نہ سمندر میں دھماکے۔

پھر بھی…

ایک لمحے میں پورا سمندر اندھا ہو گیا۔

جہاز اپنے راستے کھو بیٹھے۔

ریڈار اسکرینیں خالی ہو گئیں۔

نیویگیشن سسٹمز نے جواب دینا چھوڑ دیا۔

اور دنیا کی سب سے مصروف آبی گزرگاہ اچانک بے سمت ہو گئی۔

کیونکہ چین نے میزائل نہیں چلایا—

ایک بٹن دبایا۔

یہ جنگ لہروں پر نہیں، سگنلز پر لڑی گئی۔ GPS، سیٹلائیٹ لنکس، میرین کمیونیکیشن، اور نیویگیشنل فریکوئنسیز—

سب ایک ساتھ غیر مستحکم ہو گئیں۔

کپتانوں نے سمندر نہیں دیکھا،

انہوں نے اسکرین دیکھی—

اور اسکرین خاموش تھی۔

یہ وہ لمحہ تھا

جب دنیا کو اندازہ ہوا کہ جدید بحری طاقت صرف بحری جہازوں سے نہیں بنتی بلکہ الیکٹرانک کنٹرول سے بنتی ہے۔

ایک لمحے میں سمندر وہی تھا،

جہاز وہی تھے،

مگر راستے غائب ہو چکے تھے۔

یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔

یہ سائبر-الیکٹرانک وارفیئر کا عملی مظاہرہ تھا۔

چین نے دکھا دیا کہ اگر وہ چاہے تو دشمن کو ڈبوئے بغیر بھی اس کی بحری طاقت مفلوج کر سکتا ہے۔

کیونکہ جب نیوی کو یہ نہ پتا ہو کہ وہ کہاں ہے، تو اس کے پاس کتنے میزائل ہیں—

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہی وجہ ہے کہ آنے والی جنگوں میں سمندر کا کنٹرول، بارود سے نہیں، ڈیٹا سے حاصل کیا جائے گا۔

اس دن کے بعد کئی نیول پاورز نے خاموشی سے اپنے سسٹمز اپ گریڈ کیے۔

نئے بیک اپ پلان بنے اور ایک سچ تسلیم کیا گیا:

اگر سیٹلائیٹ آنکھیں بند کر لے،

تو دنیا کی طاقتور ترین نیوی بھی اندھی ہو جاتی ہے۔

یہ ایک انتباہ تھا۔

ایک خاموش پیغام۔

کہ جنگ اب پانی میں نہیں، اسپیکٹرم میں لڑی جائے گی۔

اور جو فریکوئنسی پر قابض ہو گا، وہ سمندروں کا بادشاہ ہو گا۔

یہ وہ حقیقت ہے

جس پر کم بات ہوتی ہے،

مگر آئندہ دہائیوں میں فیصلے اسی بنیاد پر ہوں گے۔

چین نے ایک بٹن دبایا—

اور دنیا نے سمجھ لیا

کہ مستقبل کی جنگ کتنی خاموش اور کتنی خوفناک ہو گی۔

Loading