Daily Roshni News

سورہ عصر کی حقیقت

سورہ عصر کی حقیقت

زبردست پوسٹ کو پ کی زندگی بدل دے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کائنات کا آخری الٹی میٹم، پگھلتی ہوئی زندگی اور خسارے کا عالمی بازار: سورۃ العصر کا سائنسی، فلسفیانہ اور انقلابی منشور! – بلال شوکت آزاد

کائنات کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی کہکشاؤں سے لے کر انسان کے جسم میں دھڑکتے ہوئے دل تک، ہر چیز ایک ہی ”قانون“ کی گرفت میں ہے، اور وہ قانون ہے ”زوال“۔

فزکس کی زبان میں اسے ”اینٹروپی“ (Entropy) یا ”تھرمو ڈائنامکس کا دوسرا قانون“ کہتے ہیں۔ یہ قانون بتاتا ہے کہ کائنات میں ہر چیز ”نظم“ (Order) سے ”انتشار“ (Disorder) کی طرف، اور ”زندگی“ سے ”موت“ کی طرف سفر کر رہی ہے۔

وقت کا پہیہ ایک بے رحم شکاری کی طرح چل رہا ہے جو ہر لمحہ ہمارے وجود کا ایک حصہ کاٹ کر ماضی کے کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔

اس کائناتی المیے (Cosmic Tragedy) کے بیچوں بیچ، قرآنِ مجید کی ایک مختصر ترین سورت، صرف تین آیات اور چند الفاظ پر مشتمل ”سورۃ العصر“ ایک ایسا دھماکہ خیز ”مینی فیسٹو“ ہے جو انسانی تاریخ، فلسفے اور سائنس کا نچوڑ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

امام شافعیؒ نے فرمایا تھا کہ

”اگر قرآن میں صرف یہی ایک سورت نازل ہوتی، تو بھی انسانیت کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔“

یہ جملہ کوئی مبالغہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں روایتی تفاسیر سے نکل کر ذرا گہرائی میں اترنا ہوگا۔

آج ہم دیکھیں گے کہ اللہ رب العزت نے زمانے کی قسم کھا کر انسان کو کس ”خسارے“ سے ڈرایا ہے اور وہ کون سا ”سروائیول کٹ“ (Survival Kit) ہے جو ہمیں اس تباہی سے بچا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بات کا آغاز ایک قسم سے کیا:

”وَالْعَصْرِ“

(قسم ہے زمانے کی/وقت کی/عصر کے وقت کی)۔

عربی زبان میں لفظ ”عصر“ کا مادہ (Root) ”ع ص ر“ ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کو ”نچوڑنا“ (To Squeeze)۔ جیسے کپڑے کو نچوڑا جاتا ہے یا پھل کا رس نکالا جاتا ہے۔

اللہ نے یہاں ”دہر“ (زمانہ) یا ”وقت“ کا عام لفظ استعمال نہیں کیا، بلکہ ”عصر“ کا لفظ چنا۔

کیوں؟

کیونکہ یہ لفظ وقت کی ”ماہیت“ (Nature) بتاتا ہے۔ وقت انسان کو نچوڑ رہا ہے۔ ہر گزرتا لمحہ ہماری زندگی کا رس، ہماری توانائی اور ہماری فرصت نچوڑ رہا ہے۔

یہ وقت ایک ایسا ”پریشر چیمبر“ ہے جس میں ہم قید ہیں۔

سائنسی اعتبار سے دیکھیں تو وقت (Time) کائنات کی چوتھی ڈائمنشن ہے۔ البرٹ آئن اسٹائن نے ہمیں بتایا کہ وقت ”نسبتی“ (Relative) ہے، لیکن انسانی زندگی کے لیے یہ ”یکطرفہ“ (Linear) ہے۔ یہ واپس نہیں آتا۔ یہ وہ واحد ”سرمایہ“ (Capital) ہے جو خرچ تو ہوتا ہے، مگر دوبارہ کمایا نہیں جا سکتا۔

جب اللہ ”زمانے“ کی قسم کھاتا ہے، تو وہ دراصل پوری انسانی تاریخ کو گواہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں آئیں اور مٹ گئیں، فرعون آئے اور مٹی ہو گئے، تہذیبیں بنیں اور کھنڈر بن گئیں۔

زمانے کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ

”اے انسان! دیکھ! یہ وقت کا بہاؤ گواہ ہے کہ جو میں اگلی بات کہنے والا ہوں، وہ اٹل حقیقت ہے۔“

قدیم عرب میں ایک بزرگ (یہ واقعہ مشہور مفسرِ قرآن امام فخر الدین رازیؒ (وفات: 1210ء) نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر ”تفسیرِ کبیر“ (مفاتیح الغیب) میں نقل کیا ہے۔) نے سورۃ العصر کا مفہوم بازار میں بیٹھے ایک ”برف فروش“ (Ice Vendor) سے سمجھا۔

وہ شخص چلتی پھرتی دھوپ میں کھڑا پکار رہا تھا:

”لوگو! مجھ پر رحم کرو، میرا سرمایہ پگھل رہا ہے۔“

ذرا اس جملے کی گہرائی میں ڈوب جائیں!

اگر وہ برف والا اپنی برف نہ بیچے، تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ

”چلو کل بیچ لوں گا۔“

نہیں!

اس کے پاس ”کل“ کا آپشن ہی نہیں ہے۔ اگر اس نے ابھی سودا نہ کیا، تو اس کا سرمایہ پانی بن کر زمین میں جذب ہو جائے گا اور اس کے ہاتھ صرف ”پچھتاوا“ رہ جائے گا۔

بالکل یہی حال انسان کا ہے۔ ہماری سانسیں وہ ”برف“ ہیں جو تیزی سے پگھل رہی ہیں۔ ہم بازارِ دنیا میں کھڑے ہیں۔ اگر ہم نے اس پگھلتی ہوئی برف (وقت) کے بدلے جنت، رضاِ الٰہی اور سکون نہ خریدا، تو ہم کچھ ”بچا“ نہیں سکیں گے، بلکہ ہم ”لٹ“ جائیں گے۔ اللہ نے اسی ”ایمرجنسی“ (Emergency) کی طرف اشارہ کیا ہے۔

قسم کھانے کے بعد اللہ نے وہ فیصلہ سنایا جس نے کائنات کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا:

”إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ“

(بے شک انسان خسارے میں ہے)۔

یہاں گرامر کا ایک باریک نکتہ سمجھیں۔

اللہ نے ”الْإِنسَانَ“ کہا۔ الف لام (The) استغراق کا ہے، یعنی ”پوری کی پوری جنسِ انسانی“۔ اس میں کوئی تفریق نہیں۔ چاہے کوئی بل گیٹس ہو یا سڑک کا بھکاری، کوئی نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہو یا ان پڑھ مزدور، کوئی بادشاہ ہو یا فقیر, ہر شخص کی ”Default Setting“ خسارہ ہے۔

ہماری عام منطق یہ ہے کہ ”محنت کرو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے، ورنہ ناکام۔“

لیکن قرآن کی منطق یہ ہے:

”تم پیدائشی طور پر ناکامی (خسارے) کی حالت میں ہو، تمہیں کامیاب ہونے کے لیے کچھ کرنا پڑے گا۔“

یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ سمندر کے بیچوں بیچ ایک کشتی میں ہوں جس کے پیندے میں سوراخ ہے۔ پانی تیزی سے اندر آ رہا ہے۔ اب اگر آپ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہیں، تو آپ کا ڈوبنا (خسارہ) طے شدہ ہے۔ بچنے کے لیے آپ کو ہاتھ پاؤں مارنے ہوں گے، پانی نکالنا ہوگا، سوراخ بند کرنا ہوگا۔

ہماری زندگی وہ کشتی ہے، اور وقت وہ پانی ہے جو اسے ڈبو رہا ہے۔

دنیا کی معاشیات (Economics) میں ”Break-even Point“ کا تصور ہوتا ہے، یعنی ”نہ نفع نہ نقصان“۔ لیکن زندگی کی معاشیات میں بریک ایون نہیں ہوتا۔ یا آپ جیت رہے ہیں، یا آپ ہار رہے ہیں۔

آج کا انسان سمجھتا ہے کہ اگر بینک بیلنس بڑھ رہا ہے، اگر فالوورز بڑھ رہے ہیں، اگر جائیداد بڑھ رہی ہے تو وہ ”منافع“ میں ہے۔ لیکن اللہ کہہ رہا ہے:

”خُسْرٍ“

(تم ٹوٹے ہوئے ہو، تم گھاٹے میں ہو)۔

کیوں؟

کیونکہ تم وہ چیز دے کر (زندگی دے کر) وہ چیز خرید رہے ہو (مٹی، پتھر، کاغذ کے نوٹ) جو فنا ہونے والی ہے۔

ایک ارب پتی انسان، جو بسترِ مرگ پر پڑا ہے، اپنی ساری دولت دے کر بھی ”ایک سانس“ واپس نہیں خرید سکتا۔ اس وقت اسے پتا چلتا ہے کہ جسے وہ منافع سمجھتا رہا، وہ دراصل خسارہ تھا۔ یہ ہے وہ ”Existential Crisis“ جس کی نشاندہی قرآن نے 1400 سال پہلے کر دی تھی۔

جب اللہ نے پوری انسانیت کے ڈوبنے کا اعلان کر دیا، تو مایوسی چھا گئی۔ لیکن پھر اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے ”إِلَّا“ (سوائے ان کے) کہہ کر وہ چار شرائط بیان کیں، وہ چار ستون کھڑے کیے جن پر عمل کر کے انسان اس آفاقی خسارے سے بچ سکتا ہے۔

یہ چار چیزیں الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک ”کمپاؤنڈ ریسیپی“ (Compound Recipe) ہے۔ جیسے دوا کے چار اجزاء مل کر اثر کرتے ہیں، ان میں سے ایک بھی کم ہو تو شفا نہیں ملتی۔

پہلا ستون:

”الَّذِينَ آمَنُوا“

(جو ایمان لائے)

یہاں ایمان سے مراد محض زبان سے کلمہ پڑھنا نہیں ہے۔ ایمان کا مطلب ہے زندگی کا ”مقصد“ (Purpose) اور ”سمت“ (Direction) متعین کرنا۔

اگر آپ بہت تیز دوڑ رہے ہیں، بہترین گاڑی میں ہیں، لیکن آپ کا ”روڈ میپ“ (GPS) غلط ہے، تو آپ جتنی تیز دوڑیں گے، منزل سے اتنا ہی دور ہوتے جائیں گے۔

ایمان انسان کا ”کائناتی کمپاس“ ہے۔

یہ بتاتا ہے کہ میں کون ہوں؟

کہاں سے آیا ہوں؟

اور مجھے کہاں جانا ہے؟

بغیر ایمان کے انسان کی زندگی ایک ”بے سمت سفر“ ہے۔ سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا کہ

”انسان کیمیکل سکم (Chemical Scum) ہے جو ایک درمیانے درجے کے سیارے پر رہتا ہے۔“

یہ ایمان سے خالی نقطہ نظر ہے۔

لیکن ایمان بتاتا ہے کہ تم ”خلیفۃ اللہ“ ہو، تمہارا مقصد اللہ کی معرفت ہے۔ ایمان انسان کو اس ”خسارے“ سے نکال کر ”ابدیت“ (Eternity) سے جوڑ دیتا ہے۔ جب آپ اللہ سے جڑتے ہیں، تو آپ کا فانی وقت بھی ”باقی“ ہو جاتا ہے۔

دوسرا ستون:

”وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ“

(اور نیک عمل کیے)

صرف نقشہ (ایمان) جیب میں رکھنے سے منزل نہیں ملتی، سفر (عمل) کرنا پڑتا ہے۔

ایمان ایک ”پوٹینشل انرجی“ (Potential Energy) ہے، اور عملِ صالح ”کائینیٹک انرجی“ (Kinetic Energy) ہے۔ اسلام میں ”نظریہ“ بغیر ”عمل“ کے مردہ ہے۔

”عملِ صالح“ (Righteous Deeds) وہ کرنسی ہے جو ہم اپنے پگھلتے ہوئے وقت کے بدلے خریدتے ہیں۔ جب آپ ایک گھنٹہ ضائع کرنے کے بجائے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، یا ایمانداری سے ڈیوٹی کرتے ہیں، تو آپ نے اپنی ”برف“ (وقت) کو پگھلنے سے بچا کر اسے ”سونے“ (اجر) میں تبدیل کر لیا۔

یہاں ”صالحات“ کا لفظ استعمال ہوا، یعنی وہ کام جو ”درست“ ہوں، جن میں بگاڑ نہ ہو۔ عمل تب صالح ہوتا ہے جب اس میں دو چیزیں ہوں:

(1) نیت خالص اللہ کے لیے ہو (اخلاص)، اور

(2) طریقہ نبی کریم ﷺ کے مطابق ہو (اتباع)۔

تیسرا ستون:

”وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ“

(اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی)

یہاں سے بات ”انفرادیت“ (Individualism) سے نکل کر ”اجتماعیت“ (Collectivism) میں داخل ہوتی ہے۔

اسلام ”جوگی“ بننے یا غار میں بیٹھنے کا مذہب نہیں ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ خود تو نیک بن جائیں، مگر آپ کا معاشرہ، آپ کے دوست اور آپ کے گھر والے جہنم کی طرف جا رہے ہوں اور آپ خاموش رہیں۔

اگر کشتی میں سوراخ ہو، اور آپ اپنے حصے کی جگہ خشک رکھیں مگر دوسروں کو سوراخ کرنے دیں، تو ڈوبیں گے تو آپ بھی۔

”تَوَاصَوْا“ کا لفظی مطلب ہے ”ایک دوسرے کو وصیت کرنا“، ”شدت سے تلقین کرنا“۔

”حق“ (Haqq) سے مراد سچائی، اسلام، عدل اور اللہ کا نظام ہے۔

آج کے اس ”Post-Truth Era“ میں، جہاں جھوٹ کو سچ بنا کر بیچا جاتا ہے، جہاں میڈیا اور سوشل میڈیا پر باطل کا شور ہے، وہاں کھڑے ہو کر ”حق بات“ کہنا، اور دوسروں کو حق پر جمے رہنے کی تلقین کرنا سب سے مشکل کام ہے۔

سورۃ العصر کہتی ہے کہ اگر تم خود تہجد گزار ہو، لیکن تم نے اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی برائی کو روکنے کی کوشش نہیں کی، تم نے حق کی آواز بلند نہیں کی، تو تم بھی ”خسارے“ میں ہو۔ یہ آیت ہر مسلمان کو ”داعی“ (Preacher) اور ”مصلح“ (Reformer) بناتی ہے۔

چوتھا ستون:

”وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ“

(اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی)

یہ آخری اور سب سے اہم ستون ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ جب آپ ”حق“ کی بات کریں گے، جب آپ سچ بولیں گے، جب آپ سود چھوڑیں گے، جب آپ پردہ کریں گے، تو کیا ہوگا؟

پھول نہیں نچھاور ہوں گے!

لوگ مخالفت کریں گے، دوست چھوڑ جائیں گے، معاشرہ طعنے دے گا، نوکری خطرے میں پڑے گی، شاید جان بھی چلی جائے۔ حق کا راستہ کانٹوں سے بھرا ہے۔

یہاں ضرورت پڑتی ہے ”صبر“ (Sabr) کی۔

اور صبر اکیلے نہیں ہوتا۔ جب پورا معاشرہ بگڑ چکا ہو، تو اکیلا انسان ٹوٹ جاتا ہے۔ اسے ”سپورٹ سسٹم“ چاہیے ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا:

”تَوَاصَوْا“

(ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں)۔

یعنی مومنین کی ایک جماعت ہونی چاہیے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اور کہے:

”میرے بھائی! گھبرانا نہیں، ڈٹے رہنا، یہ تکلیف عارضی ہے، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔“

صبر کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا نہیں ہے۔ عربی میں صبر کا مطلب ہے ”رکاوٹ کے باوجود جمے رہنا“۔ یہ ”Active Resistance“ (فعال مزاحمت) ہے۔

اپنی خواہشات کے خلاف جمنا، گناہ کے موقع پر جمنا، اور مصیبت میں اللہ کی رضا پر جمنا۔

یہ وہ ”نفسیاتی ڈھال“ (Psychological Shield) ہے جو مومن کو ڈپریشن اور مایوسی سے بچاتی ہے۔

میرے دوستو! میرے ہم وطنو!

سورۃ العصر آپ کی جیب میں رکھا ہوا محض ایک نورانی تعویذ نہیں، یہ آپ کی ”زندگی کی بیلنس شیٹ“ ہے۔

آج رات بستر پر لیٹ کر، اندھیرے میں اپنی چھت کو گھورتے ہوئے، اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں:

میں نے آج کے 24 گھنٹے (جو میری برف تھی) کہاں خرچ کیے؟

کیا میں نے اسے پگھل کر نالی میں بہنے دیا (سوشل میڈیا، غیبت، فضولیات)؟

یا میں نے اس سے کوئی ایسا اثاثہ خریدا جو قبر میں میرے کام آئے گا؟

یاد رکھیں!

دنیا میں کوئی بھی سودا ”ادھار“ پر ہو سکتا ہے، مگر ”وقت“ کا سودا نقد ہے۔ جو لمحہ گزر گیا، وہ کائنات کے خزانے دے کر بھی واپس نہیں آئے گا۔

ہم سب ایک جلتے ہوئے مکان میں ہیں، یا ایک ڈوبتی ہوئی کشتی میں ہیں۔ ہمارے پاس وقت کم ہے اور کام بہت زیادہ۔

آئیے!

اس سے پہلے کہ وہ آخری گھنٹی بجے، اس سے پہلے کہ ہماری سانسوں کی برف پوری پگھل جائے، اور اس سے پہلے کہ فرشتے ہمارا نام پکاریں، ہم ان چار ستونوں کو تھام لیں:

ایمان کی پختگی۔

عمل کی صالحیت۔

حق کی دعوت۔

صبر کی استقامت۔

یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو ”خسارے“ کے کنویں سے نکال کر ”کامیابی“ کے مینار تک لے جاتا ہے۔ یہ سورۃ العصر کا پیغام ہے، اور یہی زندگی کا واحد راز ہے۔ باقی سب افسانہ۔۔۔۔۔

Loading