فلسفہ تنقید
تحریر۔۔۔خلیل جبران
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ فلسفہ تنقید۔۔۔ تحریر۔۔۔خلیل جبران)لبنانی نژاد امریکی ادیب، شاعر اور مصنف خلیل جبران 1887-تا1931
لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف خلیل جبران کا اصل نام جبران بن خلیل تھا، خلیل جبران 4 جنوری 1887ء کو جدید لبنان کے شہر بشاری میں پیدا ہوئے،
جبران نوجوانی میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکہ ہجرت کر گئے اور وہاں فنون لطیفہ کی تعلیم کے بعد اپنا ادبی سفر شروع کیا۔ آپ نے فلسفہ، شاعری، مصوری، ناول | نگاری، غرضیکہ تقریبا ہر میدان میں نام کمایا۔ خلیل جبران اپنی کتاب The Prophet کی وجہ سے عالمی طور پر مشہور ہوئے۔ خلیل جبران کو ولیم شیکسپئیر اور لاؤزی کے بعد تاریخ میں تیسر اسب زیادہ پڑھا جانے والا شاعر مانا جاتا ہیں۔ آپ کی مشہور تصانیف میں الارواح المتمردة( بافی رو میں)، الا جنیہ المنكسرة (لوٹے ہوئے پر)، دمعتہ وابتسامت (اشک و تبسم) ، عرائس المروج ( وادی کی حسینہ)، المواکب (جلوس)، العواصف (طوفان)، آرباب الأرض (ارضی دیوتا)، النبی (دی پر ایٹ، پیغامبر)، المجنون (دیوانه ) رمل وزہد (ریت اور جھاگ) اور زر دیپتے شامل ہیں۔ جبران خلیل تقریبا 48 سال کی عمر میں 10 اپریل 1931ء کو نیو یارک میں وفات پاگئے۔
دو سبب ہیں ایک تو یہ کہ مریض اپنے آپ کو قسمت کے حوالے کر دیتا ہے اور دوسرا یہ کہ طبیب بزدل ہیں وہ ڈرتے ہیں کہ تکلیف دہ دوا دینے سے مریض بھڑک نہ اٹھے۔
مشرق کے یہ طبیب ہمارے اس مرد بیمار کی خانگی وطنی اور مذہبی بیماریوں کے لیے جس قسم کی مدہوش کن دوائیں پلاتے ہیں ان کی چند مثالیں سن لیجیے۔ شوہر اپنی بیوی سے اور بیوی اپنے شوہر سے بعض فطری اسباب کی بنا پر تنگ آکر ایک دوسرے سے لڑتے ہیں ۔ مار پٹائی ہوتی ہے اور ایک دوسرے کو چھوڑ جاتے ہیں لیکن ابھی پورا ایک دن رات گزرنے نہیں پاتا کہ شوہر کے خاندان والے بیوی کے خاندان کے افراد سے ملتے ہیں۔ ملمع سازی سے چپکتے ہوئے خیالات ایک دوسرے کے سامنے رکھتے ہیں اور وہ متفق ہو جاتے ہیں کہ میاں بیوی میں صلح کرائی جائے عورت کو بلایا جاتا ہے۔ اسے میٹھی میٹھی باتوں اور دل کو نرم کرنے والے نصائح سے رام کیا جاتا ہے اور اس طرح وہ مطمئن نہ ہونے کے باوجو د شرم کے مارے سر تسلیم خم کر دیتی ہے۔ پھر شوہر کو بلایا جاتا ہے اور اس کے دماغ کو زر نگار امثال و اقوال کے ذریعے ماؤف کر دیا جاتا ہے جن کی وجہ سے اس کے خیالات نرم تو ہو جاتے ہیں لیکن بدلتے نہیں۔ اور یوں وقتی طور پر پھر دونوں کے در میان صلح ہو جاتی ہے۔ ان کی روحیں ایک دوسرے سے منظر ہونے کے باوجود ایک ہی گھر میں، ایک ہی چھت کے نیچے اپنے ارادے کے بالکل خلاف زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
جب خویش و اقارب کی پلائی ہوئی نشہ آور دو کی مدہوشی اور اس کا اثر زائل ہوتا ہے۔ جو ضرور ہی زائل ہوتا ہے۔ اس وقت مرد پھر عورت سے نفرت کا اظہار کرنے لگ جاتا ہے اور اسی طرح بیوی اپنی ناراضگی کو بے نقاب کرنے لگ جاتی ہے۔ لیکن وہی لوگ جنہوں نے پہلے ان دونوں کو بے ہوشی کی نیند سلا یا تھاوہ پھر ان کو بے ہوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی طرح جنہوں نے پہلے اس شراب کے پیالے کا ایک گھونٹ پیا تھا وہ اب اس کا نشہ اتارنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ قوم کسی ظالم حکومت یا فرسودہ نظام کے خلاف بغاوت کرتی ہے۔ بیدار ہونے اور آزادی حاصل کرنے کے بلند ارادے سے اصلاحی انجمن کی بنیاد ڈال دیتی ہے۔ پوری شجاعت اور بہادری سے تقریریں ہو تیں اور اعلانات شائع ہوتے ہیں۔ اخبارات و رسائل جاری ہوتے ہیں اور ملک کے گوشے گوشے میں وفد بھیجے جاتے ہیں لیکن مہینہ دو مہینہ گزرنے نہیں پاتے کہ قوم سنتی ہے کہ جمعیت کا صدر یا تو گر فتار کر لیا جاتا ہے یا اسے حکومت کی طرف سے وظیفہ ملنا شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد اصلاحی انجمن کا نام سنے میں نہیں آتا۔یہ کیوں ….؟
اس لیے کہ اس کے ارکان اپنی عادت کے مطابق نشیلی دواپی کر سکون و اطمینان کی حالت میں بے ہوش ہو جاتے ہیں۔
ایسے ہی ایک جماعت اٹھتی ہے وہ اپنے پیشوا کے خلاف علم بغاوت بلند کرتی ہے اس کی ذات پر تنقید کرتی ہے۔ اس کے اعمال کا جائزہ لیتی ہے اس کی کارروائیوں کو بری نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پھر اس کو ڈراتی ہے کہ وہ ایسے مسلک کو اختیار کرلیں گے جو اس کے اوہام و خرافات کے بالکل خلاف اور عقل کے موافق ہے۔ لیکن بہت تھوڑے دنوں کے بعد ہم سنتے ہیں کہ اس ملک کے خیر خواہوں نے کوشش کر کے قوم اور اس کے پیشوا کے درمیان پید اہونے والے اختلافات کو ختم کر دیا ہے اور جادو اثر تخیلی باتوں کے اثر سے اسی
پیشوا کا زائل شده و قار از سر نو قوم کے دلوں میں پیدا کر دیا ہے اور قوم پھر اسی خود غرض پیشوا کی اندھی تقلید کرنے لگتی ہے۔ کمزور اور بے بس انسان کسی ظالم و جابر کے ظلم کی شکایت کرنے لگتا ہے تو اس کا پڑوسی اسے کہتا ہے کہ خاموش رہو۔ اس لیے کہ جو آنکھ تیر کا مقابلہ کرنے پر آتی ہے وہ پھوڑ دی جاتی ہے۔
دیبانی انسان، گوشہ نشین زاہدوں کے اخلاق و تقوی کو شک کی نگاہوں سے دیکھتا ہے تو اس کا ساتھی اسے مخاطب کرکے کہتا ہے کہ زبان سے کوئی لفظ نہ نکالنا۔
ایک شاگرد نحوی مناظروں کو بے کار سمجھ کر اس میں وقت ضائع کرنے سے پہلو بچا کر نکل جانا چاہتا ہے تو اس کا استاد اسے ڈانٹ کر کہتا ہے کہ تیری طرح کابل اور ست لوگ عذر گناہ بدتر از گناہ قسم کے بہانے تراش لیا کرتے ہیں۔
جب کوئی لڑکی بوڑھی عورتوں کی پرانی عادت کی تقلید نہیں کرتی تو اس کی ماں اسے کہتی ہے کہ تو مجھ سے بہتر نہیں ہو سکتی۔ مجھے لازم ہے کہ اسی راہ پر چل جس پر میں چلتی ہوں۔
نوجوان اٹھ کر مذہب میں انسان کی طرف سے داخل کی گئی باتوں کی تحقیق کرنا چاہتا ہے تو زاہد خشک اسے یہ کہہ کر چپ کراتا ہے کہ جو شخص پادری کے ہر حکم کو ایمان ویقین کی آنکھ سے نہیں دیکھے گا اسے اس دنیا میں دھند اور مہار کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ ای طرح زمانے کے دن رات گزرتے ہیں اور مشرق کا باشندہ اپنے نرم بستر پر غفلت میں پڑا کروٹیں بدلتا رہتا ہے۔ جب اسے چھر کاٹتے ہیں تو تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں کھول تو دیتا ہے لیکن پھر وہی غفلت اس پر طاری ہو جاتی ہے اور انہیں نشہ آور دواؤں کے اثر سے جو اس کے رگ وپے میں سرایت کر چکی ہیں اسی طرح مست پڑا رہتا ہے۔
جب کبھی کوئی انسان العتا ہے اور ان سونے والوں کو پکارتا ہے۔ ان کے گھروں، عبادت گاہوں اور دفتروں کو اپنی میخ و پکار سے بھر دیتا ہے تو وہ دائی شمار سے بند رہنے والی پلکوں کو کھول کو جمائیاں لے لے کر کہتے ہیں ۔ یہ کیسا انسان ہے جو نہ خود سوتا ہے اور نہ اوروں کو سونے دیتا ہے۔ اتنا کہہ کر وہ پھر اپنی آنکھیں بند کر کے اپنی روح سے کہتے ہیں۔
یہ انسان کافر ہے، محمد ہے۔ یہ نوجوانوں کے اخلاق خراب کرنے کے درپے ہے۔ یہ قوم کی بنیادوں کو گرا دینا اور انسانیت کو زہر یلے تیروں سے چھلنی کرنا چاہتا ہے۔
میں نے کئی بار اپنے نفس سے پو چھا کہ کیا وہ ان سرکش جاگنے والوں میں سے تو نہیں جو سکون بخش اور نشہ آور دواؤں کے پینے پر رضامند نہیں لیکن نفس مجھے ہمیشہ گول مول جواب دیتا۔ مگر جب میں نے دیکھا کہ لوگ میرا نام لے لے کر مجھے کوستے ہیں اور میری تعلیمات کو سن سن کر وہ کراہتے ہیں۔ اس وقت مجھے اپنی بیداری کا یقین آگیا اور میں جان گیا کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اپنے آپ کو شیریں اور لذیذ خوابوں اور سکون پذیر خیالات کے سپرد کر دیں بلکہ میں ان تنہائی پسند انسانوں کا ایک جزو ہوں جن کو زندگی تنگ اور پر خار وادیوں میں گھسیٹے لیے جاتی ہے۔ ایسی وادی میں جو جھٹپٹے والے بھیڑیوں اور میٹھی بولی بولنے والی بلبلوں سے معمور ہو۔
کل مفکر اور ادیب میرے ان گذشتہ خیالات کو پڑھ کر غصے سے کہیں گے۔ یہ حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ زندگی کے تاریک پہلو ہی کو دیکھتا ہے اور اسی وجہ سے اسے تاریکی کے سوا کوئی چیز نظری نہیں آتی۔ یہ تو اس سے پہلے بھی بہت مرتبہ ہمارے درمیان کھڑا ہو کر پکارتا رہا ہے ہماری حالت پر روتا اور افسوس کرتا رہا ہے۔“
ان مفکرین سے میں کہتا ہوں۔ میں مشرق کا نوحہ اس لیے کرتا ہوں کہ امراض کی وجہ سے ہنستاجہل ہے۔
میں اپنے پیارے وطن کا سوگ اس لیے مناتا ہوں کہ مصیبت کے وقت گانا بے عقلی ہے۔ میں اس لیے حد سے تجاوز کر رہا ہوں کہ جو شخص حق کے ظاہر کرنے میں بخل سے کام لیتا ہے۔ وہ حق کی آدھی بات کو تو ظاہر کر دیتا ہے لیکن باقی آدھی لوگوں کی بد گمانیوں اور ان کی باتوں کے خوف سے پو شیدہ رہ جاتی ہے۔ میں سڑی ہوئی لاش دیکھتا ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میر ادل بے چین ہو جاتا ہے اور میرے لیے نا ممکن ہو جاتا ہے کہ میں دائیں ہاتھ میں شراب کا پیالہ اور بائیں میں مٹھائی کی ڈلی لے کر اس کے سامنے بیٹھ جاؤں۔ اگر وہاں کوئی ایسا ہے جو میرے رونے کو جنسی ، میرے خوف کو رحم اور میری افراط کو اعتدال سے بدلنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ مجھے اہل مشرق میں آج کوئی ایک انصاف پسند، راست رو حاکم بتائے مجھے کوئی مذہبی پیشوا دکھائے جو اپنے علم کے ساتھ عمل بھی کرتا ہو۔ مجھے کسی ایسے شوہر کا پتہ دے جو اپنے بیوی کو اسی آنکھ سے دیکھتا ہو جس سے وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر 2016
![]()

