Daily Roshni News

سانحہ گُل پلازہ: ہلاکتیں 29 ہوگئیں، 85 لاپتہ، ’مزید لاشیں ملنے کی امید ختم‘

سانحہ گُل پلازہ: ہلاکتیں 29 ہوگئیں، 85 لاپتہ، ’مزید لاشیں ملنے کی امید ختم‘

کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کے بعد امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، تاہم محدود وسائل، بھاری ملبے اور تکنیکی رکاوٹوں کے باعث کام کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ اب تک اس سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 29 ہو چکی ہے جبکہ 85 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب مزید لاشیں ملنے کی امید نہیں ہے۔

حکام کے مطابق عمارت سے مکمل لاشیں ملنے کی امید تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جو لوگ آگ میں تین یا چار دن تک جھلستے رہے، ان کے جسمانی اعضا اب راکھ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

سرچ کے دوران اب بھی انسانی اعضا کی چھوٹی چھوٹی باقیات مل رہی ہیں، لیکن مکمل لاشیں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔

حکام نے بتایا کہ آج بھی عمارت سے ایک اور لاش کے اعضا برآمد ہوئے ہیں۔ اب تک سانحے میں مرنے والوں کی شناخت شدہ لاشوں کی تعداد 29 ہو گئی ہے۔

ریسکیو ٹیمیں متاثرہ عمارت کے ملبے میں محتاط انداز میں کام کر رہی ہیں تاکہ جتنی بھی باقیات ہیں انہیں نکالا جا سکے۔

حکام کے مطابق، سانحے میں جاں بحق مزید تین افراد کی لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ ان تینوں میتوں کی شناخت کے بعد سانحے میں شناخت ہونے والی لاشوں کی مجموعی تعداد 11 ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جن تین افراد کی لاشوں کی شناخت ہوئی ہے ان کے نام شہروز، محمد رضوان اور مریم ہیں۔ تینوں میتیں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

ریسکیو اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سترہ لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہیں اور انہیں ایدھی سرد خانے میں رکھا گیا ہے۔

حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف، مصباح، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی اور تنویر بھی شامل ہیں جن کی شناخت پہلے ہی ہو چکی تھی۔ باقی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل جاری ہے۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ اب تک 50 خاندانوں کی جانب سے ڈی این اے نمونے جمع کرائے جا چکے ہیں تاکہ ناقابل شناخت لاشوں کی شناخت ممکن بنائی جا سکے۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹس موصول ہونے کے بعد مزید میتوں کی شناخت میں پیش رفت متوقع ہے۔

حکام کے مطابق، امدادی ٹیمیں عمارت کے اندر داخل ہو چکی ہیں اور جہاں تک ممکن ہو رہا ہے سرچنگ کی جا رہی ہے، تاہم وہ حصے جو عمارت کے گرنے سے دب چکے ہیں وہاں تاحال رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔

فائر آفیسر ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ کولنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور دھواں ختم ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق جتنا ایریا کھلا اور محفوظ تھا اسے سرچ کر لیا گیا ہے اور وہاں کسی شخص یا لاش کی موجودگی نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ ریمپا پلازہ کے ساتھ متصل دبے ہوئے حصے کی سرچنگ صبح سورج کی روشنی میں مختلف مراحل میں کی جائے گی کیونکہ رات کے وقت وہاں کام کرنا خطرناک ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیسمنٹ یا دیگر حصوں میں گرم پانی موجود نہیں ہے جس سے آگ دوبارہ بھڑکنے کا خدشہ کم ہو گیا ہے۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے آج نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ فائر بریگیڈ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور آگ سے بچاؤ کی تربیت کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمارتوں میں فائر فائٹنگ کا موثر نظام ہونا ناگزیر ہے اور آگ کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ فوری ردعمل دیتی ہے۔

دوسری جانب فلاحی تنظیم جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس نے ریسکیو آپریشن پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 85 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاپتا افراد کو ڈھونڈنے کی رفتار تسلی بخش نہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عمارت میں متعدد دروازے موجود تھے تو لوگ چھت تک کیوں نہ پہنچ سکے۔

ظفر عباس نے مطالبہ کیا کہ ہر مرنے والے کی الگ ایف آئی آر درج کی جائے اور لاشوں کی وصولی اور شناخت کے لیے واضح نظام بنایا جائے۔

سانحے میں لاپتا افراد کے لواحقین کا دکھ بھی کم نہیں ہو رہا۔ ایک لاپتا نوجوان کے والد نے روتے ہوئے بتایا کہ تین دن سے گھر میں کسی نے کھانا تک نہیں کھایا۔

ان کے مطابق بیٹے کی جیکٹ، گلاس اور چپل دیکھ کر گھر والے رو پڑتے ہیں۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ خدارا کچھ کریں اور ان کے بیٹے کو تلاش کیا جائے۔

آج نیوز کی ٹیم گل پلازہ کی بیسمنٹ میں بھی پہنچی جہاں مکمل تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ بیسمنٹ کی تمام دکانیں جل کر خاکستر ہو چکی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کل دو بج کر پندرہ منٹ پر وہاں دوبارہ آگ لگی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بیسمنٹ کو راکھ بنا دیا۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور بعد ازاں رات گئے دوبارہ گل پلازہ پہنچ کر ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔ متعلقہ اداروں نے انہیں وہاں بریفنگ دی۔

میئر کراچی کے مطابق متاثرہ پلازہ میں ستر فیصد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ پہلے اور دوسرے فلور کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایس بی سی اے اور دیگر ادارے مل کر جیک سسٹم نصب کریں گے کیونکہ بلڈنگ میں کچھ تکنیکی نقص کی نشاندہی ہوئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہر کی تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم نصب ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

ادھر پولیس نے ملبے سے نکلنے والی نقدی چرانے کی کوشش کرنے والے ایک مبینہ مزدور کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کے مطابق موقع پر موجود انتظامیہ نے مزدور کو رقم چوری کرتے ہوئے پکڑا جسے مزید تفتیش کے لیے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

تاجر برادری نے سانحے کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انہیں تنہا نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ایک کروڑ روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ کئی بازاروں میں حفاظتی انتظامات تسلی بخش نہیں جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔

سانحہ گل پلازہ کا معاملہ قومی اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا جہاں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں فاروق ستار اور امین الحق نے واقعے کو مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شہلا رضا اور عبدالقادر پٹیل نے سانحے کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیا۔

ایوان میں ہونے والی اس تلخ بحث نے اس سانحے کے مختلف پہلوؤں پر جاری سیاسی اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا۔

Loading