کیا آپ جانتے ہیں ؟
انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کیا آپ جانتے ہیں ؟۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی)تاریخِ انسانی میں کم از کم دو بار انسان نے ایسا دوڑا کہ تاریخ رقم ہو گئی۔
مگر عجیب بات یہ ہے کہ
ایک کو پوری دنیا نے یاد رکھا،
اور دوسرے کو صرف اس کے چند چاہنے والوں نے… وہ بھی مدھم آواز میں۔
490 قبلِ مسیح
یونان کے علاقے میراتھن میں گھمسان کی جنگ برپا تھی۔
دو فریق آمنے سامنے تھے:
ایک طرف فارسی سلطنت، دوسری طرف یونانی ریاستیں—
دونوں اپنی اپنی سپر پاور ہونے کا دعویٰ کیے ہوئے۔
جنگ کا پانسہ یونانیوں کے حق میں پلٹا۔
فتح کے فوراً بعد فیڈی پیڈیز (Pheidippides) نامی ایک پیغام رساں کو حکم دیا گیا کہ
وہ میدانِ میراتھن سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور شہر ایتھنز جا کر اعلان کرے:
“ہم جنگ جیت گئے ہیں!”
وہ گھوڑے پر سوار ہونے کے بجائے پیدل ہی دوڑ پڑا۔
ایتھنز پہنچ کر اس نے فتح کا اعلان کیا
اور شدید تھکن و پیاس کے باعث وہیں گر کر جان دے دی۔
آج،
اسی واقعے کی یاد میں
دنیا بھر میں میراتھن ریسز ہوتی ہیں۔
یہاں تک کہ جدید اولمپکس میں مشعل لے کر دوڑنا بھی
اسی داستان سے متاثر ہو کر علامتی طور پر شامل کیا گیاہے
اب آئیے تاریخ کے ایک اور باب کی طرف…
مگر یہ باب
نہ یونان میں لکھا گیا،
نہ اولمپکس میں شامل ہوا۔
غزوۂ ذی قَرَد (غزوۂ الغابہ)
مشرکین نے مدینہ کے چرواہوں پر حملہ کیا
اور نبی اکرم ﷺ کے اونٹ چھین کر فرار ہو گئے۔
اسی لمحے
حضرت سَلَمَہ بن اَکْوَعؓ
اکیلے ہی دشمن کے پیچھے لپکے۔
نہ گھوڑا،
نہ لشکر،
صرف ایمان، رفتار اور مہارت۔
وہ مسلسل دوڑتے رہے
اور تیر اندازی کرتے رہے۔
حضرت سلمہؓ خود بیان کرتے ہیں:
“میں ان کا پیچھا کرتا رہا،
یہاں تک کہ کوئی گھڑ سوار بھی مجھ سے بچ نہ سکا۔”
کسی نے رسول اللہ ﷺ تک خبر پہنچائی،
تو آپ ﷺ بھی لشکر لے کر روانہ ہوئے—
مگر وہاں پہنچنے سے پہلے ہی
حضرت سلمہؓ تنِ تنہا اونٹ چھڑا چکے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آج کا بہترین پیدل سپاہی سلمہ ہے”
(خَیْرُ رَجَّالَتِنَا الْیَوْمِ سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَع)
اور
پیدل ہونے کے باوجود
انہیں سوار کے برابر مالِ غنیمت عطا فرمایا گیا۔
اگر آج کے عسکری معیار کے مطابق
ایسی کارکردگی صرف شدید ٹریننگ کے بعد ایلیٹ فورس کا جوان دکھا سکتا ہے۔
اگر محتاط اندازہ لگایا جائے تو
حضرت سلمہؓ نے:
15 سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے
8 سے 12 کلومیٹر تک
مکمل جنگی دباؤ، ہتھیاروں کے ساتھ،
گھوڑ سوار دشمن کا تعاقب کیا
یہ محض دوڑ نہیں تھی،
یہ موت کے ساتھ ریس تھی۔
سلام ہے ایسی ماؤں پر
جنہوں نے سلمہ بن اکوعؓ جیسے بہادر جنے۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا آج تک کہیں “سلمہ بن اکوع ریس” ہوئی؟
کیا ذی قَرَد کے نام سے کوئی مقابلہ منعقد ہوا؟
کیا ہمارے علما تواتر سے ایسے واقعات اس انداز میں بیان کرتے ہیں
کہ نوجوانوں میں صحت، فٹنس اور جسمانی قوت کا شوق پیدا ہو؟
جبکہ ایک قبل از مسیح واقعہ
آج دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا مقابلہ بن چکا ہے—
اور
اسلامی تاریخ کا ایک زندہ، مستند، عملی کارنامہ
خاموشی سے نوے فیصد مسلمانوں کو بھی اس بات کا نہیں پتہ ہو گا۔
#MoralLessons #MoralStory #viralphotochallen#MoralLessons #MoralStory #viralphotochallen#morning#MoralLessons #MoralStory #viralphotochallen#MoralLessons #MoralStory #viralphotochallen#morning#morasge
مزید اس طرح کے سبق آموز اور دلچسپ واقعات کے لئے ہمارا فیس بک پیج Moral Lessons سبق آموز کہانیاں کریں .
![]()

