بلٹ پروف گاڑیاں
تحریر ۔ ناز پروین
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بلٹ پروف گاڑیاں۔۔۔ تحریر ۔ ناز پروین)ایک تقریب میں شرکت کے لیے صدر کی طرف جانا ہوا .راستے میں ایک ناکے پر رکے تو نظر تھریٹ میٹر پر پڑی ۔جی ہم پشاور کے شہری گزشتہ چند سال سے مختلف سڑکوں پر نصب اس تھریٹ میٹر کے عادی ہو گئے ہیں ۔اس دن سوئی ریڈ کلر کے آخر میں آ کر رکی ہوئی تھی جس پر لکھا تھا ہائی الرٹ ۔۔ویسے بھی عادت ہو گئی ہے کہ گھر سے نکلتے راستے میں مسلسل آیت الکرسی کا ورد جاری رہتا ہے لیکن نہ جانے کیوں اس تھریٹ میٹر کو دیکھ کر دل ڈوب سا گیا ۔۔یا اللہ ہمارے حالات کب تک ہائی الرٹ پر رہیں گے ۔بچے چھوٹے تھے ایک صبح گھر میں سکول کی تیاری کر رہے تھے اور میں کچن میں ناشتہ بنانے میں لگی تھی کہ اچانک باہر سڑک پر ایک پولیس والے کی گاڑی کے نیچے نصب بم زوردار دھماکے سے پھٹ گیا اور میرے گھر کی کھڑکیوں کے تمام شیشے ایک چھناکے کے ساتھ ٹوٹ کر چاروں طرف بکھر گئے ۔لگتا تھا قیامت آگئی ہے ۔۔بچے بھی سہم گئے ۔۔تینوں منزلوں پر ہر طرف شیشوں کی کرچیاں بکھری تھیں ۔اور آج جب کہ میرے بچے ماشاءاللہ جوان ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں ہم کے پی کے باسی ابھی تک شیشوں کی کرچیاں چننے میں لگے ہیں ۔اس دوران ہمارے صوبے کا نام سرحد سے بدل کر کے پی ہو گیا لیکن ہمارے نصیب نہ بدلے ۔شوہر نامدار جیو نیوز کے لیے 10 سال سے زیادہ کام کرتے رہے ۔186 بم دھماکوں کی لائیو کوریج کی ۔اسی ایک لائیو کوریج کے دوران صدر سٹیڈیم کے باہر کھڑے دھماکے میں جان بحق ہونے والوں کے بارے میں بتا رہے تھے ۔۔میں اور بچے ٹی وی کے سامنے بیٹھے انہیں سن رہے تھے کہ پس منظر میں ایک اور دھماکہ ہو گیا جس کی طاقت اتنی تھی کہ شوہر صاحب بھی گر پڑے ۔۔میں اور بچے گھر میں بیٹھے ٹی وی سکرین کے سامنے صدمے سے سن ہو گئے ۔شکر ہے کہ میاں صاحب کو معمولی چوٹیں آئیں لیکن نہ پوچھیے کہ دل کی کیا حالت ہوئی ۔اے پی ایس کا سانحہ ہو یا سی پی او کے قریب واقع مسجد کا دھماکہ ۔۔۔کیا کیا گنوائیں کیا کیا بتائیں ۔۔10 ۔۔12 پولیس والوں کی ہلاکت تو اب روزانہ کا معمول بن چکا ہے ۔۔2025 میں 1762 افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے جو 2024 کی نسبت 67 فیصد اضافہ تھا ۔جنوبی اضلاع ۔۔جو پہلے ہی پسماندہ تھے ۔۔ میں بد امنی عروج پر ہے ۔دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ عام شہری اور دفاعی اداروں کے جوان بھی شہید ہو رہے ہیں ۔نہ جانے یہ حالات کب سدھریں گے ۔پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے اکثر شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا ہے تقریبات میں شرکت کرنی ہوتی ہے ۔گزشتہ چند ہفتوں سے ایسا ہو رہا ہے کہ گھر سے نکلیں اور موبائل آن کریں تو انتظامی اداروں کی جانب سے انتباہی پیغام گردش میں ہوتا ہے کہ خودکش بمبار شہر میں داخل ہو چکے ہیں ۔اور فلاں فلاں جگہ پر دہشت گردی کا شدید امکان ہے ۔راستے میں ناکوں پر یا ٹریفک جام میں گاڑی رکتی ہے تو بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے کہ یا اللہ اب دھماکہ ہوا کہ اب ۔پشاور جو ایک چھوٹا سا شہر ہے ۔جب اس کی چار پانچ جگہوں پر دہشت گردی کے امکانات ہوں تو بتائیے ہم کس راستے سے جائیں اور کہاں پر جائیں ۔۔کون سی جگہ محفوظ ہے۔۔ جائے امان کہاں ہے ۔۔سرمایہ داروں اور صاحب ثروت کی بڑی تعداد پشاور سے کوچ کر کے اسلام آباد میں جا بسی ہے .اسلام آباد کی ایک سرکاری تقریب میں شرکت کے دوران ایک سابق سفیر سے بات چیت ہو رہی تھی انہیں اپنے ادارے میں ہونے والی تقریب میں مدعو کیا تو مسکرا کر کہنے لگے میڈم میں تو مصروف ہوں گا شاید نہ آ سکوں ۔پھر مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ پشاور میں کیسے رہتی ہیں ۔دہشت گردی کی اس فضا میں آپ کیسے اپنے خاندان والوں کے ہمراہ سروائیو کر رہی ہیں ۔اب میں انہیں کیا بتاتی کہ پہلے میرا بچپن افغان جنگ کے دنوں میں انہی بم دھماکوں کی گونج کے زیر اثر گزرا اور اب جب کہ میرے بچے ماشاءاللہ جوان ہو چکے ہیں ہم ابھی بھی اسی خوف کی فضا میں زندہ ہیں ۔آپ سب یقیناً ان حالات سے بخوبی واقف ہیں ۔۔لیکن آج اخبار میں ایک خبر پڑھی تو مجبور ہو گئی کہ دوبارہ سے ان باتوں کا ذکر کروں ۔خبر تھی کہ خیبر پختون خواہ کے تمام فیلڈ افسران کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی بد امنی کے باعث فیلڈ افسران عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں ۔گزشتہ سال چار اسسٹنٹ کمشنرز دہشت گردی کا شکار ہوئے ۔اس لیے انہیں بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی جائیں گی ۔ابتدائی مرحلے میں 150 اسسٹنٹ کمشنرز اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی جائیں گی جس مقصد کے لیے موجودہ سرکاری گاڑیوں کو بلٹ پروف میں تبدیل کیا جائے گا ۔ایک گاڑی کو بلٹ پروف بنانے پر 70 سے 80 لاکھ روپے لاگت آئے گی ۔یہ خبر پڑھ کر میں سوچنے لگی کہ میرے بے چارے پولیس کانسٹیبل اور سپاہی جو روزانہ ہی دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں وہ عدم تحفظ کا اظہار کیوں نہیں کرتے انہیں بھی تو بلٹ پروف گاڑیاں دینی چاہئیں ۔میرے جیسے عام شہری جو روزانہ ناکوں پر رک کر تھریٹ میٹر کو دیکھتے ہیں جو ہمیشہ ہائی الرٹ پر رہتا ہے کیا ہم سب کو بھی بلٹ پروف گاڑیاں دی جائیں گی ۔ہمارے معصوم بچے جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے روشن چہروں چمکتی آنکھوں کے ساتھ گھروں سے روانہ ہوتے ہیں کیا اے پی ایس جیسے سانحے سے بچانے کے لیے انہیں بھی بلٹ پروف گاڑیاں دی جائیں گی ۔سرکار سے گزارش ہے کہ اپنے اعلیٰ افسران کو عدم تحفظ کاشکار ہونے سے بچانا ہے تو کروڑوں لاکھوں کی بلٹ پروف گاڑیاں اس کا حل نہیں ۔اپنی پالیسیوں پر غور کریں ۔اپنے ہمسائیوں کو دشمن نہ بنائیں ۔40 سال سے زائد دہشت گردی کا شکار میرا صوبہ زخمی زخمی ہے ترقی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ جہاں امن امان ہی نہ ہو جان ہی محفوظ نہ ہو وہاں سرمایہ کاری کیا خاک آئے گی۔۔ غیر ملکی صنعت کار کیسے ایسے صوبے میں آکر سرمایہ کاری کریں گے ۔اب تو جو تھوڑی بہت صنعتیں کام کر رہی تھیں وہ بھی اپنا بوریا بستر باندھ کر دوسرے صوبوں میں منتقل ہو رہی ہیں ۔جناب بلٹ پروف گاڑیاں مسئلے کا حل نہیں ۔مسئلے کو جڑ سے اکھاڑیں۔پالیسی میکرز دفاعی ادارے سیاست دان مذہبی رہنما سب کو ساتھ بٹھائیں اور صوبے میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش کریں ۔تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک پرامن خوشگوار ماحول میں پرورش پائیں ۔ عدم تحفظ کا شکار مجھ سمیت کے پی کا ہر شہری ہے ۔۔آپ کس کس کو بلٹ پروف گاڑیاں دیں گے !!!
![]()

