طارق بن زیاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پورا نام: طارق بن زیاد
لقب: فاتحِ اندلس
پیدائش: 670ء کے لگ بھگ (شمالی افریقہ)
وفات: 720ء کے بعد (اندازاً)
شعبہ: عسکری قیادت، فتوحات
عالمی شناخت: Europe میں اسلام کا دروازہ کھولنے والا جرنیل
ابتدائی زندگی: غلامی سے قیادت تک
طارق بن زیاد بربر نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدا میں وہ ایک عام سپاہی تھے، مگر
غیر معمولی جرات
نظم و ضبط
دیانت
اور ایمان
نے انہیں نمایاں کر دیا۔
وہ موسیٰ بن نصیر کے ماتحت رہے، جنہوں نے طارق کی صلاحیت پہچان کر انہیں ایک تاریخی مہم سونپی۔
تاریخ ساز لمحہ
اندلس کی مہم
میں سات سو گیارہ میں طارق بن زیاد کو پیش قدمی کا حکم ملا۔
ان کے ساتھ
تقریباً 7,000 سپاہی
محدود وسائل
مگر غیر متزلزل یقین تھا
جب وہ اندلس کے ساحل پر اترے تو
طارق بن زیاد نے کشتیاں جلا دیں اور لشکر سے کہا”اب تمہارے سامنے دشمن ہے، اور پیچھے سمندر۔
صبر اور استقامت کے سوا کوئی راستہ نہیں
یہ الفاظ نہیں، عزم کی تلوار تھے۔
طارق کی حکمتِ عملی
فوج کا نظم
اور ایمان
نے فیصلہ بدل دیا۔
رودرک شکست کھا گیا
اندلس کے دروازے کھل گئے
چند سالوں میں پورا اندلس اسلامی ریاست بن گیا۔
طارق بن زیاد کا کردار
فتح کے بعد ظلم نہیں کیا
مقامی آبادی کو امان دی
مذہبی آزادی دی
عدل قائم کیا
اسی حسنِ سلوک کی وجہ سے
اندلس میں اسلام صرف تلوار سے نہیں، کردار سے پھیلا۔
لوگوں کی آراء (عالمی اعتراف)
✅ یورپی مورخ Stanley Lane-Poole:
اگر طارق بن زیاد نہ ہوتا تو یورپ کی تاریخ مختلف ہوتی۔”
✅ ہسپانوی مؤرخین
“طارق نے اندلس کو تہذیب، علم اور برداشت دی۔”
✅ مسلم مؤرخین
طارق بن زیاد ایمان کی وہ مثال ہے جس نے براعظم بدل دیا۔
طارق بن زیاد کے کامیابی کے اصول
-
یقین وسائل سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے
-
قیادت حکم سے نہیں، مثال سے بنتی ہے
-
جب مقصد بڑا ہو تو خوف چھوٹا ہو جاتا ہے
-
فتح کے بعد عاجزی ضروری ہے
-
تاریخ بہادروں کو یاد رکھتی ہے
طارق بن زیاد کے منسوب اقوال
“میدانِ جنگ میں تعداد نہیں، حوصلہ جیتتا ہے۔”
جو اللہ پر بھروسہ کرے، اس کے لیے سمندر بھی راستہ بن جاتا ہے۔
پیچھے ہٹنے کا راستہ چھوڑ دو، آگے بڑھنے کی طاقت مل جائے گی۔
یہ اقوال تاریخی روایات میں منسوب ہیں اور معنی کے اعتبار سے ان کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں
اندلس: طارق کا دائمی اثر
اندلس میں
سائنس
فلسفہ
طب
فنِ تعمیر
کا سنہری دور شروع ہوا
یورپ نے علم مسلمانوں سے سیکھا
یہ سب طارق کے پہلے قدم کا نتیجہ تھا
وفات: خاموش رخصتی
اتنی عظیم فتوحات کے باوجود
طارق بن زیاد گمنامی میں رخصت ہوئے
نہ محل، نہ خزانہ
صرف تاریخ میں نام چھوڑ گئے
یہی عظمت کی اصل پہچان ہے۔
✅ ہمیں طارق بن زیاد سے کیا سیکھنا چاہیے؟
خوف کو جلا دو، راستے خود بنیں گے
نیت صاف ہو تو وسائل کم بھی کافی ہوتے ہیں
فتح کے بعد عاجزی سب سے بڑا ہنر ہے
ایک فرد بھی تاریخ کا دھارا موڑ سکتا ہے
حوالہ جات
-
Stanley Lane-Poole – The Moors in Spain
-
Encyclopaedia Britannica – Tariq ibn Ziyad
-
Ibn Abd al-Hakam – Futuh Misr wa’l-Andalus
-
Philip K. Hitti – History of the Arabs
Biography Series No. #10
#motivatinalquites
![]()

