Daily Roshni News

وادی جن ۔۔اسرار۔۔۔معمہ۔۔۔یا حقیقت؟۔۔۔ تحریر۔۔۔عثمان مغل

وادی جن ۔۔اسرار۔۔۔معمہ۔۔۔یا حقیقت؟

تحریر۔۔۔عثمان مغل

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ وادی جن ۔۔اسرار۔۔۔معمہ۔۔۔یا حقیقت؟۔۔۔ تحریر۔۔۔عثمان مغل)مدینہ منورہ کے شمال۔ مغرب میں 35 کیلو میٹر دور ایک ”وادی بیضہ “ ہے جو وادی جن کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اس وادی کے بارے میں طرح طرح کی باتیں مشہور ہیں۔

اس وادی کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک مخصوص علاقہ میں کوئی گاڑی کھڑی نہیں رہ سکتی، چاہے چڑھائی کیوں نہ ہو یا ڈھلان کسی کار ، یا کسی بھی گاڑی کو وہاں کھڑا کر دیا جائے تو وہ خود بخود چلنے لگتی ہے۔ بعض گاڑیوں کی رفتار اچانک بڑھ جاتی ہے اور بعض کا چلنا دشوار ہو جاتا ہے ۔ ڈھلان پر بعض گاڑیاں الٹی بھی چلنے لگتی ہیں کچھ لوگوں نے یہاں پانی ڈال کر بھی مختلف کہانیوں کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ پانی ڈھلان کی سمت بننے کے بجائے الٹا بہنے لگتا ہے۔ کچھ لوگ اس کو جنات کی حرکتیں کہتے ہیں اور کچھ لوگ اسے قدرتی اثر بتاتے ہیں۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان پہاڑیوں میں مقناطیسی کشش ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی یہ حالت ہوتی ہے۔ وادی بیضہ (انڈے) کی شکل کی ہے۔

اس کی پہاڑیوں کے درمیان مقناطیسی میدان بن گیا ہے جس کی وجہ سے مخصوص علاقہ میں داخل ہوتے ہی گاڑیوں کی حرکت ،رفتار میں فرق آجاتا ہے۔

یہاں کے لوگوں کا تصور یہ ہے کہ یہاں آباد جنات لوگوں کو جلد سے جلد باہر دھکیلنا چاہتے ہیں، وادی کی مخصوص حدود میں داخل ہونے والی کسی بھی گاڑی کو اگر بند کر دیا جائے تو وہ گاڑی خود بخود وادی سے باہر کی جانب چلنا شروع ہو جاتی ہے اور حیرت کی بات ہے کہ جس سمت کو گاڑی خود بخود چلنے لگتی ہے وہ راستہ ڈھلوان کی بجائے چڑھائی والا ہے۔

مذکورہ وادی میں دن کے وقت بھی بہت ہی کم لوگ جاتے ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ رات کے اوقات میں یہاں رکنے والے افراد کو انتہائی حیرت انگیز تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔ اطراف کی آبادی میں رہائش پذیر مقامی باشندوں کے مطابق زمانہ قدیم سے اب تک یہ جگہ جنات کی آماجگاہ رہی ہے ۔ جنات اپنے یہاں کسی انسان کو برداشت نہیں کرتے۔ سنگلاخ پہاڑوں پر مشتمل اس وادی کی چٹانوں میں ایسے سوراخ پائے جاتے ہیں جنہیں یہاں کے باشندے جنات کی رہائش گاہوں سے موسوم کرتے ہیں۔

مدینہ منورہ سے تقریباً 8، 7 کلو میٹر پہلے وہ مخصوص حدود شروع ہو جاتی ہے جس کے اندر داخل ہونے والی گاڑی خود بخود چل کر اس حدود سے باہر سے باہر نکل آتی ہے۔ اس وادی کا ذاتی طور پر جائزہ لینے والے ایک شخص نے بتایا کہ :

جب ہم وہاں پہنچے تو سڑک پر بہت کم گاڑیاں رواں دواں تھیں، جیسے ہی ہماری گاڑی اس مخصوص حدود میں داخل ہوئی گاڑی کا انجمن زور لگانے لگا جیسے گاڑی انتہائی بلندی کی طرف جارہی ہو اور جیسے جیسے ہم وادی کے اندر داخل ہوتے گئے گاڑی کے انجن پر پریشر بتدریج بڑھتا گیا اور آخر کار ہم وادی کے اندر اس مقام پر پہنچ گئے جہاں سڑک ختم ہو جاتی ہے اور سڑک کے اختتام پر ایک دائرہ بنا ہوا ہے۔ ہم نے گاڑی روک دی اور اسے نیوٹرل گیئر میں ڈال دیا۔ جیسے ہی بریک سے اپنا پیر بنایا گاڑی نے اچانک آہستگی سے واپس چلنا شروع کر دیا ہم نے دیکھا کہ آگے کسی قدر چڑھاؤ تھا یعنی سڑک بلندی کی طرف جارہی تھی لیکن گاڑی کی رفتار بندر بیج بڑھتی جارہی تھی، سڑک پر ہمارے علاوہ انکار کا گاڑیاں اور بھی دکھائی دے رہی تھیں۔ میں نے مسلسل اس بات پر نظر رکھی کہ گاڑی نیوٹرل گیئر میں ہی ہے۔ اور اسکے ساتھ ساتھ میں اسپیڈو میٹر پر بھی نگاور کھے ہوئے تھا۔ گاڑی کی اسپیڈ بڑھتی گئی یہاں تک کہ اسپیڈ 110 کیلو میٹر فی گھنٹہ تک جا پہنچی۔

میں سوچ رہا تھا کہ یا الہی یہ کیا ماجرا ہے۔ گاڑی خود بخود کیسے اتنی رفتار سے چل رہی ہے …. ؟ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی ہم نے وہ مخصوص حد پار کی گاڑی کی رفتار ٹوٹ گئی اور کم ہوتے ہوئے بالآخر ایک مقام پہ جا کر رک گئی۔

کچھ کا کہنا تھا یہ قدرت کا کرشمہ ہے ۔ کچھ کا خیال تھا کہ اس وادی میں جنات کا بسیرا ہے اور یہ سب جنات کا کام ہے۔ جنات کو یہ بات پسند نہیں کہ انسان ان کے علاقہ میں آئیں، اس لئے وہ یہاں آنیوالی گاڑیوں کو واپس دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ چند لوگوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ وادی کے اطراف میں موجود کسی ایک یا ایک سے زائد پہاڑوں میں خاص طرح کی مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے جو گاڑی کی ایک سمت میں خود بخود چلنے کی وجہ ہے۔ بہر حال اس مقام کے بارے میں مختلف لوگ مختلف نظریات رکھتے ہیں۔ ماہرین طبقات الارض اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مقامات دنیا میں دیگر ممالک میں بھی ہیں اور ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

سائنسدانوں نے ان مقامات کو “گریویٹی بل“ گینگ بل اور مسٹری پوائنٹس کے نام دیے ہیں۔ ان تمام مقامات پر یہ بات مشترک ہے کہ وہاں رکی ہوئی گاڑی کو اگر نیوٹرل گیئر میں ڈال کر بریک فری کردیا جائے تو گاڑی نہ صرف خود بخود چلنے لگی ہے بلکہ چڑھائی پر بھی آسانی سے چڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر پانی زمین پر ڈالا جائے تو وہ نشیب میں جانے کی بجائے بلندی کی طرف جانے لگتا ہے۔ یا کسی گیند کو اگر زمین پر گرایا جائے تو وہ بھی بلندی کی طرف لڑھکنے لگتی ہے۔ ایسے بہت سے مقامات ہیں اور انہیں ” گریویٹی بل کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ مقامات دنیا کے پانچ براعظموں میں پائے جاتے ہیں۔ ایسے مقامات

ہندوستان اور چین میں بھی موجود ہیں۔ ہندوستان میں یہ مقام لداخ کے شہر لیسہ سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر کار گل سری گر نیشنل ہائی وے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ سطح سمندر سے 1100 فیٹ کی بلندی پر ہے۔ اس مقام کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں گاڑی خود بخود چلنے لگتی ہے۔ اور اوپر سے گذرنے والے جہازوں کو بھی مقناطیسی طاقت سے بچانے کیلئے معمول سے زیاد و بلندی پر لے جانا پڑتا ہے۔

ایسے بہت سے مقامات امریکہ میں بھی ہیں۔ ریاست فلوریڈا کے علاقے لیک ویلز میں واقع ایک ایسی ہی گریویٹی بل کو اسپوک بل یعنی “جنات” والی پہاڑی کہا جاتا ہے۔ یہاں بھی گاڑی خود بخود چلنے لگتی ہے اور پانی نیچے کی بجائے اوپر کی جانب جاتا محسوس ہوتا ہے۔ یہ مقام اور لینڈ اور ٹیپا کے درمیان واقع ہے۔ امریکہ میں بہت سے ایسے مقامات کو ڈھونڈ کر سیاحتی مقامات کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ کیلیفورنیا میں سانتا کروز کے مقام پر واقع “مسٹری کو اکٹ“ ہے جہاں ایک کا بیج بنادیا گیا ہے۔ وہاں کے چیکمین کے مطابق اس علاقے میں کشش نقل کا قانون معمول کے مطابق کام نہیں کرتا اور کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر کوئی سیدھا کھڑا ہو سکتا ہے نہ لٹک سکتا ہے کیونکہ شمال سے مغرب کی جانب سفر کرنے والی مقناطیسی لہریں اسے ایک طرف جھکا دیتی ہیں۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ ایسے مقامات سعودی عرب کے جنوبی علاقوں اسیر اور نجران میں بھی موجود ہیں جہاں اس طرح کے واقعات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس وادی کے اطراف رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے راتوں میں یہاں سر گوشیاں سنی ہیں۔ اگر کوئی یہاں شام کے وقت یا رات کے وقت مظہر نے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ایسی آوازیں سنائی دیتی ہیں جیسے کہ ان سے اس وادی کو چھوڑنے کیلئے کہا جارہا ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ یہاں ایک بہت بڑی جھیل تھی لیکن اب خشک ہو گئی ہے یہاں بہت کم پانی بچا ہے۔ جب تک جھیل میں پانی تھا قریب اور دور سے لوگ یہاں پکنک منانے آتے تھے، بڑے بڑے نیچے نصب کئے جاتے تھے اور تفریح مناتے تھے ۔

اس سلسلہ میں کئی ایک ممالک کے ماہرین نے تجربے کئے ہیں، لیکن ان تمام کے تجربات کے آگے وہاں جاکر شخصی طور پر تجربہ کرنے والوں کے تاثرات الگ ہی ہیں۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر2016

Loading