وادیِ طُویٰ ، جہاں جوتیاں نہیں، دل اُتارے جاتے ہیں
تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم )جو قرآن آنکھیں گیلی نہ کرے وہ قرآن نہیں رہتا،وہ صرف ترجمہ بن جاتا ہے۔ایسا قرآن دل نہیں بدلتا، صرف qualified کرتا ہے۔
اور رب نے یہ قرآن
بہت محسوس کر کے نازل کیا ہے
یہ دل سے کہا گیا کلام ہے، دماغ کے لیے نہیں۔
اگر یہ صرف دماغ میں جا رہا ہے تو استاد بدل لو،
کیونکہ اس کا تعلق منطق سے نہیں، سپردگی سے ہے۔
یہ سننے کی چیز ہے،
ماننے کی چیز ہے،
غیب پر ایمان لانے کی چیز ہے
جیسے ہوا،
جیسے خوشبو،
جیسے محبت۔
یہ سب
اُس کی ذات کے عکس ہیں۔
اب ایک نو حرفی وادی کی بات سنو……
﴿إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى﴾
(سورۃ طٰہٰ، آیت 12)
“میں ہی تیرا رب ہوں، جوتیاں اتار دے، تو وادیِ مقدس طُویٰ میں ہے۔”
یہ صرف جگہ کا حکم نہیں، یہ حالت کا اعلان ہے۔
ہر طرف اُس کی موجودگی کے نشان بکھرے ہیں.
مگر سوال یہ ہے:
مقدس کیا ہوتا ہے؟
پانی اندر تک جاتا ہے،
روح تک۔
کیونکہ روح پانی پر رکھی گئی ہے۔
اور جس نے روح تک جانا ہو اُسے گندگی ساتھ نہیں لانی چاہیے۔
ہم جوتی
ہر جگہ پہن کر چلے جاتے ہیں، مگر یہاں جوتی اُتارنے کو کہا گیا۔
اس کا مطلب ہے:
روح مقدس ہے۔
ہوا کی طرح،
پانی کی طرح،
روشنی کی طرح
روح بھی مقدس ہے۔
ہم پوچھتے رہے
مقدس وادی کہاں ہے؟
سن لو……
وہ تمہارے اندر ہے۔
ہماری روحوں میں رب کی پیاس رکھی گئی ہے۔
ہمارے motherboard میں اُس کی chip لگی ہے۔
ہم اس کے ذکر کے بغیر سکون سے نہیں رہ سکتے۔
اب ذرا
طُویٰ کو دیکھو….
اس کے مادے ہیں: ط، و، ی
طَوَي
یعنی
چھپی ہوئی شے۔
قرآن کو
اوپر سے نہ پڑھا کرو، اندر سے پڑھا کرو۔
عمومی قرآن
کانوں سے گزر جاتا ہے،
خصوصی قرآن
دل میں اُتر جاتا ہے۔
وضو سے
قرآن چھُوا جاتا ہے مگر روح کی پاکیزگی سے سمجھا جاتا ہے۔
یہ وادیِ طُویٰ ہے
یہاں دنیا کی گندگی نہیں لائی جاتی ورنہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
جب خدا سامنے ہو تو پوری کائنات ایک کتاب لگتی ہے.
اور اس میں اُس کی تعریف کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
اگر اس کی طلب ہے
تو اس وادی میں آؤ،
اور
جوتیاں اتار دو۔
علم کو ناخالص نہ کرو، حقیقی علم دو۔
درست راستہ بتاؤ….
سبز گھاس کے میدانوں کی طرف،
جہاں خود
جوتی اُتارنے کا دل کرے۔
﴿إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى﴾
یہ آیت
صرف موسیٰؑ سے نہیں کہی گئی تھی،
یہ
ہر اُس دل سے کہی جا رہی ہے، جو رب تک جانا چاہتا ہے۔
#مقیتہ_وسیم
#وادی_طوی
#قرآن_دل_سے
#مقدس
#روح_کی_پاکیزگی
#قرآنی_تدبر
#غیب_پر_ایمان
#نور_اور_طلب
#قرآن_سے_ملاقات
![]()

