گوری رنگت تاریخی پس منظر سے نفسیاتی عارضے تک
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )گوری رنگت کی برتری کا تصور محض جدید دور کی پیداوار نہیں بلکہ یہ ایک ایسا رجحان ہے جو برصغیر سمیت دنیا کی مختلف تہذیبوں میں ہزاروں سال سے جڑیں رکھتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ رجحان اتنا گہرا ہو گیا کہ آج انڈیا اور پاکستان میں یہ ایک سماجی نفسیاتی جنون کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں حسن، طاقت اور کامیابی کو صرف گورے رنگ کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔
آریائی اقوام جب برصغیر میں آئیں تو ان کی رنگت نسبتاً صاف اور روشن تھی۔
اس فرق نے انہیں مقامی دراوڑ اور سانولے قبائل سے ممتاز بنا دیا۔ رفتہ رفتہ گوری رنگت کو طاقت، اقتدار اور مذہبی برتری کی علامت بنا دیا گیا۔ ادبیات، مذہبی رسومات اور سماجی ڈھانچوں نے بھی گوری رنگت کو حسن اور شرافت کے ساتھ جوڑ دیا ترک النسل سلاطین دلی اور مغل سب سفید رنگت تھے
بعد کے زمانوں میں، نوآبادیاتی دور نے اس رجحان کو مزید مستحکم کیا۔ انگریز حکمرانوں کی گوری رنگت کو طاقت، اختیار اور اعلیٰ حیثیت کے ساتھ دیکھا گیا، جس نے عوامی ذہنیت میں یہ تصور مزید پختہ کر دیا کہ گورا رنگ ہی اصل معیار ہے۔
آج برصغیر میں گوری رنگت ایک نفسیاتی کمزوری بن چکی ہے۔ لوگ اپنی اصل شناخت اور قدرتی حسن کو بھول کر مصنوعی گورے پن کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ حسن کے معیار کو اتنا محدود کر دیا گیا ہے کہ نین نقش، شخصیت یا ذہانت کی خوبصورتی کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
شادی کے رشتوں میں “رنگت” کو سب سے اہم معیار سمجھا جاتا ہے۔
ملازمت اور میڈیا میں بھی گوری رنگت والے افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔
خود اعتمادی کی کمی اور احساسِ کمتری ان نوجوانوں میں زیادہ ہوتی ہے جن کی رنگت سانولی یا گہری ہو۔
یہ نفسیاتی کمزوری مارکیٹ نے اپنا سب سے بڑا کاروبار بنا لی ہے۔ لاکھوں روپے کی فئیرنس کریمیں، گولیاں اور انجیکشنز عام لوگوں کے لیے دستیاب ہیں۔ پہلے یہ فیشن صرف فلمی اداکاروں اور ماڈلز تک محدود تھا، مگر اب ہر طبقہ اس دوڑ میں شامل ہو گیا ہے۔ اشتہارات، ڈرامے اور فلمیں گورے پن کو حسن اور کامیابی کے ساتھ جوڑ کر اس جنون کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
یہ رجحان صرف برصغیر تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اسی نوعیت کی نفسیاتی و سماجی صورت حال موجود ہے۔
افریقہ کے کئی ممالک میں جلد کو بلیچ کرنا ایک بڑے سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق نائجیریا میں تقریباً 77 فیصد خواتین گورا کرنے والی مصنوعات استعمال کرتی
ہیں
(WHO Report, 2018)۔
جاپان، کوریا اور چین میں صدیوں سے گوری رنگت کو اعلیٰ طبقے اور حسن کی علامت سمجھا گیا ہے، کیونکہ قدیم زرعی معاشروں میں کسان دھوپ میں رہ کر سانولے ہوتے اور جاگیردار طبقہ گوری رنگت کا حامل رہتا۔ آج بھی کوریا اور جاپان کی کاسمیٹک انڈسٹری دنیا میں سب سے بڑی “whitening products” تیار کرنے والی مارکیٹ ہے۔
یورپ قرونِ وسطیٰ اور نشاۃ الثانیہ کے دور میں یورپی خواتین سفید پاؤڈر اور زہریلے لیڈ بیسڈ کریمز سے رنگت کو مزید گورا کرنے کی کوشش کرتی تھیں، کیونکہ گوری جلد دولت اور “indoor life” کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
اکیڈمک ماہرین (Pierre Bourdieu, Frantz Fanon) کے مطابق یہ رجحان “symbolic power” اور “colonial mentality” کی پیداوار ہے، جو معاشروں میں طبقاتی تفریق اور احساسِ کمتری کو مزید گہرا کرتا ہے۔
گوری رنگت کا سحر ایک تاریخی وراثت کے ساتھ ساتھ ایک سماجی نفسیاتی بیماری بن چکا ہے۔ جب تک معاشرہ حسن کے معیار کو رنگت کی قید سے آزاد نہیں کرے گا، یہ احساسِ کمتری اور مصنوعی حسن کی دوڑ ہماری نئی نسل کو جسمانی اور ذہنی دونوں سطحوں پر نقصان پہنچاتی رہے گی۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حسن کو شخصیت، ذہانت، اخلاق اور کردار میں تلاش کیا جائے، نہ کہ صرف رنگت کی سفیدی میں۔
وہ دراصل ہمارے جسم کی ایک حیاتیاتی ڈھال ہے۔ اس میں چھیڑ چھاڑ کئی طرح کے نقصانات پیدا کر سکتی ہے
کریمیں اور انجیکشنز میں استعمال ہونے والے کیمیکلز (جیسے ہائیڈروکینون، سٹیرائیڈز اور پارہ) جلد کو پتلا اور حساس بنا دیتے ہیں، جس سے ایکنی، داغ دھبے اور مستقل سیاہ دھبے پڑ جاتے ہیں۔
کینسر کا خطرہ کچھ وائٹنگ پروڈکٹس براہِ راست جلدی سرطان کے خطرے کو بڑھاتی ہیں کیونکہ یہ جلد کی UV protection کو کمزور کر دیتی ہیں۔
گولیاں اور انجیکشن جسم کے اندرونی اعضاء، خاص طور پر جگر اور گردوں کو متاثر کر کے سنگین امراض پیدا کر سکتے ہیں۔
قدرتی رنگت دراصل ہمارے خطے کےموسم اور دھوپکے حساب سے بنی ہے۔ مثال کے طور پر برصغیر جیسے دھوپ والے علاقوں میں سانولی رنگت ایک حفاظتی ڈھال ہے جو UV شعاعوں سے بچاتی ہے۔ اگر اس میں تبدیلی کی جائے تو یہ جسم کی قدرتی حفاظت کو توڑ دیتی ہے، جس سے صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں۔
مسلسل گورا ہونے کی کوشش ایک احساسِ کمتری کو جنم دیتی ہے۔ خود اعتمادی شخصیت کے بجائے رنگت پر منحصر ہو جاتی ہے۔ ناکامی کی صورت میں ڈپریشن اور سماجی اضطراب پیدا ہوتا ہے۔
جب معاشرہ رنگت میں چھیڑ چھاڑ کو حسن کا معیار بنا لے تو اس سے امیر اور غریب کے درمیان ایک نیا حسناتی طبقاتی فرق پیدا ہوتا ہے
مصنوعی حسن کی دوڑ میں معاشرہ فطری جمالیات اور اصل اقدار کو بھول جاتا ہے۔کچھ سالوں پہلے انڈیا اور پاکستان میں ان مصنوعات سے متعلق ایسے ایسے اشتہارات دیکھے گئے جنہوں نے نوجوان لڑکیوں میں بری طرح احساس کمتری کو جنم دیا۔
![]()

