نیکی کی نفسیات
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی تاریخ میں “خیر” کا تصور بنیادی طور پر ہمیشہ سے دو متضاد نفسیاتی دھاروں میں تقسیم رہا ہے۔ ایک وہ نیکی ہے جو کسی ماورائی طاقت کی خوشنودی، جنت کی ہوس یا دوزخ کے خوف سے کشید کی جاتی ہے، اور دوسری وہ جو کسی جزا و سزا کے تصور سے ماورا، خالصتاً انسانی جبلت اور دوسرے کے دکھ کی اپنی ذات میں منتقلی سے جنم لیتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان فرق صرف نیت کا ہی نہیں، بلکہ اس کے نتائج کا بھی ہے جو نہ صرف ایک فرد کی انفرادی شخصیت بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی ڈھانچے پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
جب نیکی کا محرک “ثواب” یا “رضا” کی صورت میں انعام کی لالچ ہو، تو یہ عمل ایک “کائناتی لین دین” بن جاتا ہے۔ یہاں مظلوم یا ضرورت مند انسان محض ایک “آلہ” ہے جس کے ذریعے ایک “نیکوکار” اپنی عاقبت کا سودا کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے فرد کی ہمدردی سطحی اور میکانیکی ہوتی ہے۔ اس کا ضمیر صرف اس وقت جاگتا ہے جب اسے اپنے “اعمال نامے” کی فکر ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کا “روحانی سرمایہ دار” ہے جو نیکی کی شکل میں انویسٹمنٹ کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں بھاری منافع سمیٹ سکے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عبادات کا شور تو بہت ہے مگر اخلاقیات کا قحط۔ ہم دنیا میں سب سے زیادہ حاجی، نمازی اور حفاظ پیدا کرنے کے باوجود بددیانتی، ہیرا پھیری اور جھوٹ میں عالمی ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں نیکی ایک “محکمہ” ہے اور زندگی الگ سے ایک دوسرا “محکمہ” ہے ۔تسبیح کے دانوں پر جنت کا پلاٹ بک کروانے والا شخص بازار میں ناپ تول میں کمی کرتے ہوئے ذرہ برابر شرمندگی محسوس نہیں کرتا، کیونکہ اس کے نزدیک نیکی کا مقصد معاشرے کا سدھار نہیں بلکہ اپنی ذاتی “نجات” ہے۔ اور بس …
اس کے برعکس، جب نیکی “انسانیت” کے درد سے جنم لیتی ہے، تو پھر وہ کسی مخصوص مذہب یا عقیدے کی محتاج نہیں رہتی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی “انا” کے حصار کو توڑ کر کائنات کے اجتماعی دکھ کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی لئے ایدھی، مدر ٹریسا اور ڈاکٹر روتھ فاؤ جیسے لوگ اس لیے عظیم نہیں تھے کہ وہ کسی بڑے انعام کے منتظر تھے، بلکہ اس لیے انکا کردار نا قابل فراموش ہے کہ ان کے ہاں نیکی “بندگی کا جبر” نہیں، بلکہ “وجود کا ایک تقاضا” بن چکی تھی۔ جب ایدھی کسی گندے نالے سے لاوارث بچہ اٹھاتا تھا، تو وہ کسی آسمانی فہرست میں اپنا نام درج کروانے کی تگ و دو نہیں کر رہا ہوتا تھا، بلکہ وہ تو انسانیت کے ٹوٹے ہوئے وقار کی مرمت کر رہا ہوتا تھا۔
الغرض ایسی بے غرض نیکی صرف فرد واحد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورا ایک “کلچر” تخلیق کرتی ہے۔ یہ نسلوں کے ضمیر کو بیدار کرتی ہے کیونکہ اس میں منافقت کی بو نہیں ہوتی۔ یہ معاشرے کو “خوف زدہ صالحین” لالچی مومنین اور خود غرض و نمائشی الحاج و حفاظ کے بجائے “بیدار مغز انسان” دیتی ہے۔ جب عمل بے لوث ہو، تو وہ معاشرے میں ” اعتماد پیدا کرتا ہے، جو کسی بھی قوم کی ترقی کی پہلی شرط ہے۔
مذہبی لالچ پر مبنی نیکی فرد کو ایک “عارضی نفسیاتی تسکین” تو دے سکتی ہے کہ “میں نے اپنا فرض پورا کر دیا”، لیکن یہ معاشرے میں کوئی انقلابی تبدیلی لانے میں ہمیشہ ناکام ہی رہتی ہے۔ کیوں کہ یہ نیکی “ایگوسینٹرک” ہے اس کا رخ عقیدتمند کی اپنی ذات کی طرف ہوتا ہے۔دوسری طرف، وہ نیکی جس میں اپنی ذات کی نفی ہو اور دوسرے کی خوشی اپنی تسکین بن جائے، وہ “سوشل انجینئرنگ” کرتی ہے۔ یہ نیکی “الٹروئسٹک” ہے کہ اس کا رخ ذات سے باہر پوری کائنات کی طرف ہے۔
یاد رکھو کہ اگر تمہاری کی نیکی کسی “ریوارڈ” کی محتاج ہے، تو پھر تم صرف ایک ملازم ایک غلام ہو ، آزاد انسان ہرگز نہیں۔ اور ملازموں و غلاموں سے بنے ہوئے معاشرے کبھی اخلاقی بلندیوں کو نہیں چھو سکتے۔ پائیدار تبدیلی کبھی بھی انفرادی “ثواب کے ذخیرے” سے نہیں پھوٹتی ، بلکہ یہ ہمیشہ اس اجتماعی درد سے ہی وجود میں آتی ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے سامنے جھکنے اور اسے سہارا دینے پر انسانیت کے ناتے مجبور کر دے، بلا کسی خوفِ عذاب اور بنا کسی بھی طمعِ جنت کے …
عفاف
![]()

