اُردو ادب سے ایک شاہکار افسانہ
نجات
تحریر۔۔۔منشی پریم چند
قسط نمبر3
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اُردو ادب سے ایک شاہکار افسانہ۔۔۔ تحریر۔۔۔منشی پریم چند)خود اس سے نہ اٹھ سکتا۔اس لیے تھوڑا تھوڑا لاتا تھا۔ چار بجے بھوسہ ختم ہوا۔ پنڈت کی نیند بھی کھلی، منہ ہاتھ دھو کے پان کھایا اور باہر نکلے۔ دیکھا تو دکھی ٹوکرے پر سر رکھے سو رہاہے۔ زور سے بولے۔
ارے دکھیا ! تو سورہا ہے۔ لکڑی تو ابھی جوں کی توں پڑی ہے۔ اتنی دیر تو کیا کر رہا تھا ؟ مٹھی بھر بھوسہ اٹھانے میں شام کر دی۔ اس پر سو رہا ہے۔ کلہاڑی اٹھا لے اور لکڑی پھاڑ ڈال ۔ تجھ سے ذرا بھر لکڑی نہیں پھٹتی۔ پھر ساعت بھی ویسی ہی نکلے گی۔ مجھے دوش مت دینا۔ اسی لئے تو کہتے ہیں جہاں بینچ کے گھر کھانے کو ہوا اس کی آنکھ بدل جاتی ہے“۔
دکھی نے پھر کلہاڑی اٹھائی۔ جو باتیں اس نے پہلے سوچ رکھی تھیں، وہ سب بھول گیا۔ پیٹ پیٹھ میں دھنسا جاتا تھا۔ دل ڈوبا جاتا تھا۔ پر دل کو سمجھا کر اٹھا۔ پنڈت ہیں۔ کہیں ساعت ٹھیک نہ بچاریں تو پھر سفینہ ناس ہو جائے ۔ تب ہی تو ان کا دنیا میں اتنا مان ہے۔ ساعت ہی کا تو سب کھیل ہے۔ جسے چاہیں بنا دیں، جسے چاہیں بگاڑ دیں گے۔
پنڈت جی گانٹھ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے اور حوصلہ افزائی کرنے لگے ۔ ہاں مار کس کے ۔ اور کس کے مار۔ ایسے زور سے مار ، تیرے ہاتھوں میں جیسے دم ہی نہیں۔ لگا کس کے۔ کھڑا کھڑا سوچنے کیا لگتا ہے۔ ہاں بس پھٹا ہی چاہتی ہے، اس سوراخ میں “۔ دکھی اپنے ہوش میں نہیں تھا ۔ نہ معلوم کوئی غیبی طاقت اس کے ہاتھوں کو چلارہی تھی۔ تھکان ، بھوک ، پیاس، کمزوری سب کے سب جیسے ہو ا ہو گئی تھیں۔ اسے اپنے قوت بازو پر خود تعجب ہو رہا تھا۔ ایک ایک چوٹ پہاڑ کی مانند پڑتی تھی۔ آدھ گھنٹے تک وہ اسی طرح بے خبری کی حالت میں ہاتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ لکڑی سچ سے پھٹ گئی اور دکھی کے ہاتھ سے کلہاڑی چھوٹ کر گر پڑی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بھی چکر کھا کر گر پڑا۔ بھوکا پیاسا تکان خوردہ جسم جواب دے گیا۔ پنڈت جی نے پکارا۔ اٹھ کر دو چار ہاتھ اور لگا دے۔
نیکی نیکی ہو جائیں“۔
پنڈت جی نے اب اسے دق کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اندر جا کر بوٹی چھانی۔
حاجات ضروری سے فارغ ہوئے، نہایا اور پنڈ توں کالباس پہن کر باہر نکلے۔ دیکھی ابھی تک وہیں پڑا تھا۔
زور سے پکارا۔ ”ارے دکھی ! کیا پڑے ہی رہو گے ۔ چلو تمہارے ہی گھر چل رہا ہوں سب سامان ٹھیک ہے نا؟“ دکھی پھر بھی نہ اٹھا۔ اب پنڈت جی کو کچھ فکر ہوئی۔ پاس جا کر دیکھاتو د کھی اکڑا ہوا پڑا تھا۔ بدحواس ہو کر بھاگے اور پنڈتانی بولے۔ دکھیا تو جیسے مر گیا۔ پنڈ تانی ہی تعجب انگیز لیجے میں بولیں۔” بھی تو لکڑی چیر رہا تھا !؟”
ہاں لکڑی چیرتے چیرتے مر گیا۔ اب کیا ہو گا؟ پنڈتانی نے مطمئن ہو کر کہا۔ ”چھر وٹے میں کہلا بھیجو مردہ اٹھالے جائیں“۔
دم کے دم میں یہ خبر گاؤں بھر میں پھیل گئی۔ گاؤں میں زیادہ تر بر ہمن ہی تھے۔ صرف ایک گھر گونڈ کا تھا۔ لوگوں نے ادھر کا راستہ چھوڑ دیا۔ کنویں کا راستہ ادھر ہی سے تھا۔ پانی کیونکر بھرا جائے؟ چہار کی لاش کے پاس ہو کر پانی بھرنے کون جائے ۔ ایک بڑھیا نے پنڈت جی سے کہا۔
مروہ کیوں نہیں اٹھواتے۔ کوئی گاؤں میں پانی ہے گا یا نہیں ؟“ ادھر گونڈ نے چہرونے میں جاکر سب سے کہہ دیا۔ خبر دار مردہ اٹھانے مت جانا۔ ابھی پولیس کی تحقیقات ہو گی۔
دل لگی ہے کہ ایک غریب کی جان لے لی۔ پنڈت ہوں گے تو اپنے گھر ہوں گے۔ لاش اٹھاؤ گے تو تم بھی پکڑے جاؤ گے۔
اس کے بعد ہی پنڈت جی پہنچے۔ پر چھونے میں کوئی آدمی لاش اٹھانے کو تیار نہ ہوا۔ ہاں دکھی کی بیوی اور لڑکی دونوں ہائے ہائے کرتی وہاں سے چلیں اور پنڈت جی کے دروازے پر آکر سر پیٹ کر رونے لگیں۔ ان کے ساتھ دس پانی اور چہار میں تھیں۔ کوئی روتی تھی، کوئی سمجھاتی تھی، پر چہار ایک بھی نہ تھا۔ پنڈت جی نے ان سب کو بہت دھمکایا، سمجھایا، منت کی۔ پر چہاروں کے دل پر پولیس کا ایسار عب چھایا کہ ایک بھی مان نہ سکا۔ آخر نا امید ہو کر لوٹ آئے۔
آدھی رات تک رونا پیٹنا جاری رہا۔ دیوتاؤں کا سونا مشکل ہو گیا۔ مگر لاش اٹھانے کوئی نہ آیا۔ اور برہمن چمہار کی لاش کیسے اٹھاتے ؟ پہلا ایسا کسی شاستر پوران میں لکھا ہو ، کہیں کوئی دکھا دے۔
پنڈتانی نے جھنجھلا کر کہا۔ ” ان ڈائنوں نے تو کھوپڑی چاٹ ڈالی۔ ان سبھوں کا گلا بھی نہیں تھا تا”۔ پنڈت نے کہا۔ ” چڑیلوں کو رونے دو۔ کب تک روئیں گی۔ جیتا تھا تو کوئی بات نہ ہو چھتا تھا۔ مر گیا تو شور و غل مچانے کے لئے سب آپ نھیں“۔
پنڈتانی: چماروں کا رونا منحوس ہوتا ہے؟
پنڈت: ہاں بہت منحوس۔ پنڈتانی: ابھی سے بو آنے لگی۔
پنڈت : چہار تھا سرا کہیں کا ۔ ان سبھوں کو کھانے پینے میں کوئی بچار نہیں ہوتا۔
پنڈتانی ان لوگوں کو نفرت بھی معلوم نہیں ہوتی۔
پنڈت سب کے سب بھرشٹ ہیں۔ رات تو کسی طرح کئی مگر صبح بھی کوئی چہار نہ آیا۔ چہارنی بھی رو پیٹ کر چلی گئی۔ بد بو پھیلنے لگی۔
پنڈت جی نے ایک رسی نکالی۔ اس کا پھندہ بنا کر مردے کے پیر میں ڈالا اور پھندے کو کھینچ کر کس دیا۔ ابھی کچھ کچھ اندھیرا تھا۔ پنڈت جی نے رسی پکڑ کر لاش کو گھسیٹنا شروع کیا اور گھسیٹ کر گاؤں سے باہر لے گئے۔
وہاں سے آکر نہائے ، در گا پٹھے پڑھا اور سر میں گنگا جل چھڑ کا۔ ادھر دکھی کی لاش کو کھیت میں گیدڑ، گدھ اور کوے نوچ رہے تھے۔ یہی اس کی تمام زندگی کی بھگتی، خدمت اور اعتقاد کا انعام تھا۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر2016
![]()

