Daily Roshni News

گل پلازہ آتشزدگی: سرچ آپریشن مکمل کرلیا گیا، عمارت کو سیل کرنے کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ کے 10 ویں روز بھی مخدوش عمارت کا ملبہ تاحال نہیں اٹھایا جا سکا جب کہ سانحے میں جاں بحق افراد کی لاشوں اور باقیات کی تلاش کے لیے جاری سرچ آپریشن مکمل کرلیا گیا، جس کے بعد عمارت کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 73 ہوگئی جب کہ 23 لاشوں میں سے 16 کی شناخت ڈی این اے سے ہوئی۔

کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر گزشتہ ہفتے پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ سے متعلق ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے سرچ آپریشن مکمل کرلیا، جس کے بعد تازہ صورت حال سے آگاہ کیا گیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی نے بتایا کہ گل پلازہ کی متاثرہ عمارت میں گزشتہ 9 روز سے جاری سرچ آپریشن تقریباً مکمل کرلیا گیا ہے، آج ایک مرتبہ سروے ٹیم دوبارہ جائزہ لے گئی اور اس کے بعد متاثرہ عمارت کو سیل کر دیا جائے گا، ابھی بھی کسی کا کوئی پیارا لاپتا ہے تو رابطہ کرسکتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 73 اور لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست 79 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 13 افراد اب تک اپنے ڈی این اے جمع کرانے نہیں آئے ہیں اور نہ وہ رابطہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 55 افراد کے لواحقین کے ڈی این اے نمونے جمع کرائے ہیں جب کہ 13 افراد کے لواحقین کو پیر تک وقت دیا گیا ہے، اگر وہ پیر کو آجاتے ہیں تو ان کے نمونے حاصل کر لیے جائیں گے بصورت دیگر انہیں فہرست سے خارج کر دیا جائے گا۔

جاوید نبی کھوسو کے مطابق بعض کیسز میں ایک ہی خاندان کے 3 یا 4 افراد بھی شامل ہیں جب کہ ابتدائی دن ہی 6 لاشوں کی شناخت کر لی گئی تھی۔ اب تک مجموعی طور پر 23 جاں بحق افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے بتایا کہ گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور میزنائن فرسٹ فلور کو مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا ہے جب کہ ایک حصہ تاحال سرچ کے مرحلے میں ہے۔ انہوں نے شہریوں کو متاثرہ عمارت میں داخل نہ ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ احتیاطی طور پر مارکنگ بھی کر دی گئی ہے۔

جاوید نبی کھوسو نے مزید بتایا کہ 30 لاشوں کا ڈیٹا حکومت کو بھیج دیا گیا، لاشوں کا ڈیٹا معاوضے کی ادائیگی کے لیے بھیجا گیا ہے، 30 لاشوں کی شناخت اورمکمل جانچ کے بعد ڈیٹا بھیجا گیا اور ورثا میں چیک جلد ہی تقسیم کیے جائیں گے۔

مقدمے کے بعد بیانات درج کرائے جا رہے ہیں، ایس ایس پی سٹی

دوسری طرف ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے میڈیا کو بتایا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ ایک روز قبل ہی درج کیا گیا ہے اور مقدمے کے اندراج کے بعد بیانات قلمبند کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

عارف عزیز نے بتایا کہ گل پلازہ کے 6 گارڈز کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں، ہفتے کو 10 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور دوران تفتیش غفلت اور لاپرواہی سامنے آنے پر تمام پہلو سامنے لائے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمارت سے ملنے والے ڈی وی آر کا ڈیٹا بہت زیادہ ہے، ڈی وی آر کی مدد سے تفتیش میں مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، گل پلازہ کے دروازے کیوں بند کیے گئے اور آگ لگنے کے بعد کیوں دروازے نہیں کھولے گئے اس پر بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 73 ہوگئی

اس سے قبل گل پلازہ سانحے کے 9 ویں روز بھی عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری رہا، آج مزید ایک لاش کی شناخت ڈی این اے کی مدد سی ہوئی ہے۔

انچارچ شناخت پروجیکٹ سی پی ایل سی عامر حسن کے مطابق شناخت ہوئی لاش عبدالحسیب نامی شخص کی ہے، اب تک 23 لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے، جس میں 16 لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے ہوئی، جس کے بعد تاحال جاں بحق افراد کی تعداد 73 ہوگئی ہے جب کہ 82 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

عامر حسن کے مطابق آپریشن ٹیم کو تیسری منزل سے مزید انسانی باقیات بھی ملی ہیں، جنہیں ڈی این اے کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا

سانحہ گل پلازہ کے شہدا کی تدفین کا سلسلہ جاری ہے، گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق ایک ہی خاندان کی 3 خواتین سمیت 4 افراد کی نمازِ جنازہ دہلی کالونی عید گاہ گراؤنڈ میں ادا کردی گئی ہے۔

نماز جنازہ میں رشتے داروں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی جب کہ نماز جنازہ میں ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار، منعم ظفر، نجمی عالم سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی ہے۔

دہلی کالونی کے ایک ہی خاندان کے 6 افراد سانحے میں لاپتا ہوئے تھے، جن میں سے 4 افراد کی شناخت ہوگئی جب کہ خاتون سمیت 2 ابھی تک لاپتا ہیں۔

جاں بحق افراد میں 14 سالہ مریم، 35 سالہ مصباح پروین، 32 سالہ محمد سعد اور 30 سالہ نمرہ شامل ہیں جب کہ کوثر پروین اور اشرف علی ابھی تک لاپتا ہیں۔ متاثرہ خاندان شاپنگ کے لیے گل پلازہ گیا تھا۔

اسی طرح سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق 17 سالہ محمد شیش کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، نماز جنازہ شہید محمد شیش کے والد نے پڑھائی جو کہ گارڈن کشتی والی مسجد میں ادا کی گئی۔ بعدازاں شیش کو گارڈن میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

اس کے علاوہ سکھر کے اطہر شیخ کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں سپرد خان کردیا گیا، اطہر بھی سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہوا۔

تحقیقات کے لیے لاہور سے ٹیکنیکل ٹیم گل پلازہ پہنچ گئی

دوسری جانب سانحے کی تحقیقات کے لیے لاہور سے ٹیکنیکل ٹیم گل پلازہ پہنچی جس نے مختلف مقامات کا جائزہ لیا۔ ٹیم میں لاہور سے آئے فارنزک ٹیم کا عملہ بھی موجود ہے، جسے پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے مختلف مقامات کا معائنہ کرایا۔

اربن سرچنگ آپریشن ٹیم کی جانب سے مختلف مقامات پر مارکنگ کردی گئی۔ اربن سرچنگ ٹیم کے مطابق جہاں سرچنگ کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے وہاں مارکنگ کی جا رہی ہے، گل پلازہ کے مختلف مقامات پر H کا نشان مارک کیا گیا ہے، H نشان کا مطلب خطرے کی نشاندہی، عمارت گرنے کا خدشہ ہے۔

سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ درج

ادھر پولیس نے سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ تھانہ نبی بخش میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق آگ غفلت اور لاپرواہی کے باعث لگی، جبکہ عمارت میں مناسب حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔

مقدمے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واقعے کے وقت عمارت کی لائٹس اور دروازے بند تھے، جس کے باعث آگ بھڑکنے کے بعد بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے نام مقدمے میں شامل کیے جائیں گے۔

تحقیقاتی ٹیم نے ہفتے کے روز جائے وقوع کا دورہ کیا اور دو چوکیداروں سمیت عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے جب کہ ٹیم نے متاثرہ عمارت کے مختلف حصوں کا بھی جائزہ لیا۔

ریسکیو اہلکاروں کے مطابق عمارت کی تقریباً 80 سے 90 فیصد سرچنگ مکمل کی جا چکی ہے اور ہیوی مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے اور مزید تلاش کا عمل جاری ہے۔

یاد رہے کہ گل پلازہ میں گزشتہ ہفتے کی شب اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں تقریبا 1200 دکانیں جل کر خاک ہوگئی تھیں۔

Loading