Daily Roshni News

یہ کیسا امیر جو اپنے پچھلے امرا ء سے برعکس وضع قطع میں ہے۔

سید منور حسن کو میں بچپن سے جانتا ہوں
ہمارے قریب ہی ناظم آباد نمبر۳ میں وہ رہا کرتے تھے، گورنمنٹ کالج ناظم آباد میں پڑھتے تھے ، کرکٹ کھیلتے تھے ، موسیقی سے شغف رکھتے تھے، بلکہ ایک میوزک گروپ کے ہیڈ تھے ، شرٹ پینٹ ٹائی کوٹ پہنتے تھے ، کلین شیو تھے ، طلبہ میں کمیونزم اور سوشلزم کا پرچار کرنے والی تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر تھے ، جماعت اسلامی کے سخت مخالف
ناظم آباد ہی کے ایک مرد درویش آصف صدیقی کی ان کی صلاحیتوں پر نظر رکی ، انہوں نے انکو اپنے “خصوصی ربط” میں رکھ لیا ، یہ جماعت اور جمعیت کے کام کا بنیادی طریقہ ہوتا تھا جس سے ہم بھی گزرے اور ہم نے آگے کیا جو اب مفقود ہوچکا ہے

آصف صدیقی نے ان پر کام کیا، بار بار ان سے ملاقاتیں کیں ، ان کے چھبتے ہوئے سوالات کا تحمل سے جواب دیا ، انکے ذہن میں اسلام کے خلاف بھرے ہوئے خیالات کو مولانا مودودی کے لٹریچر کی روشنی میں صاف کیا ،
کہتے ہیں کئ بار تلخی بھی ہوئ ، بحث و مجادلہ بھی ہوا ، مگر آصف صدیقی کے اخلاص نے بالآخر منور حسن کے دل کی سخت چٹان کو پگھلا دیا اور بتدریج اللہ ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی محبت ان کے دل میں جگہ کرتی چلی گئ

اور وہ کمیونزم اور سوشلزم کا پرچار کرنے والی تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کو چھوڑ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ میں آگئے اور آگے آگے ہی بڑھتے چلے گئے

اب یہ پرانے والے منور حسن نہیں رہے کرکٹ جسے جنون کی حد تک محبت کرتے تھے ، شائید کھیلتے رہتے تو ٹیسٹ کرکٹر ہوتے ، چھوڑ دی ، موسیقی سے شغف رکھتے تھے، وہ بھی چھوڑ دی ، بلکہ اپنے میوزک گروپ کو بھی خیر باد کردیا ، شرٹ پینٹ ٹائی کوٹ بتدریج کم کرتے کرتے بالکل ہی چھوڑ دیا ، کلین شیو تھے ایک دن آصف صدیقی کے کہنے پر داڑھی شیو کرنا چھوڑ دی اور ہلکی ہلکی داڑھی نکلنا شروع ہوگئ

گویا یہ تبدیلیاں تھیں جو انکی وضع قطع رہن سہن مین آئ اس کہ وجہ مرد درویش آصف علی کہ مہمیز اور مطالعہ قرآن حدیث اور مولانا مودودی کا لٹریچر تھا جو انکے مسلسل پڑھتے رہنے کی وجہ سے آئ

اس کے بعد منور حسن نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اپنی پوری زندگی کو اعلائے کلمتہ الحق کے لئیے وقف کردیا اور زندگی کی آخری سانس تک اس میں لگے رہے

جماعت اسلامی اور جمعیت میں اکثریت اسی طرح تعلیمی اداروں سے ہوتی ہوئ اس عظیم تحریک سے وابستہ ہوئ اور ان میں اسی طرح تبدیلیاں آئیں ہیں

مگر افسوس میں آج کے دور کے جماعتیوں میں یہ تبدیلیاں میں نہیں دیکھتا خاص کر ان کے نئے امیر کو دیکھ کر دنیا حیران ہورہی ہے یہ کیسا امیر جو اپنے پچھلے امرا ء سے برعکس وضع قطع میں ہے ، لونڈوں لپاڑوں کے کپڑے پہنتا ہے ، عورتوں میں جاکر سیلفیاں بنواتا ہے ،مسلسل مخلوط اجتماعات کروا رہا ہے

شمس خان

Loading