Daily Roshni News

صدائے جرس۔۔۔ تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین  عظیمی ؒ۔۔

صدائے جرس

تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین  عظیمی ؒ۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ صدائے جرس۔۔۔ تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین  عظیمی ؒہر طرف یہ شور و غوغا بر پا ہے کہ موجودہ نسل اسلام سے دور ہو گئی ہے۔ اسلاف کی پیروی نہیں کرتی۔ ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ موجودہ نسل کے اسلاف میں ہمارا بھی شمار ہے۔احتساب ایک ایسا عمل ہے جو تمام فاسد مادوں سے انسان کو پاک کر دیتا ہے۔

قوم میں توانائی اور زندگی کی روح پھونک دیتا ہے۔ اچھا دوست وہ ہے جو دوستوں کے احتساب پر خوش ہو اور اپنی اصلاح کی کو شش کرے لیکن ساتھ ہی یہ عمل اختیار کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر دوستوں کے دامن پر دھبے نظر آئیں تو ان کا اظہار اس طرح نہ کیا جائے کہ دوست کے دل پر میل آجائے۔ داغ دھبوں کو دھونے کی حکیمانہ تدبیریں بہترین دوستی ہے۔ جہاں آپ دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں، وہاں اپنے دوستوں کو یہ موقع بھی دیجئے کہ وہ آپ کے اندر موجود کثافت کو آپ کے سامنے نمایاں کر سکیں۔ جب وہ یہ سیخ فریضہ ادا کریں تو نہایت عالی ظرفی، خوش دلی اور احسان مندی سے ان کی تنقید کا خیر مقدم کیجیے اور ان کے اخلاص و کرم کا شکریہ ادا کیجئے۔ رسول بر حق سلیم نے اس مثالی دوستی کو آئینہ سے تشبیہ دی ہے۔ سید نا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے : ”تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کا آئینہ ہے۔ پس اگر وہ اپنے بھائی میں خرابی دیکھے تو اُسے دور کر دے“۔ روحانی قانون کے تحت ہر آدمی ایک آئینہ ہے۔ آئینہ کی شان یہ ہے کہ جب آدمی آئینہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو آئینہ تمام داغ دھبے اپنے اندر جذب کر کے نظر کے سامنے لے آتا ہے اور جب آدمی آئینہ کے سامنے سے ہٹ جاتا ہے تو آئینہ اپنے اند جذب کئے ہوئے یہ دھبے یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔ جس طرح آئینہ فراخ حوصلہ ہے آپ بھی اسی طرح اپنے دوست کے عیوب اس وقت واضح کریں جب وہ آپ کو فراخ دلی سے تنقید و احتساب کا موقع دے۔ طرز گفتگو میں آدمی کی شخصیت کا عکس جھل بکتا ہے۔ خوش آواز آدمی کی آواز تسخیر کا کام کرتی ہے۔ جب بھی کسی مجلس میں یا نجی محفل میں بات کرنے کی ضرورت پیش آئے، وقار اور سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کیجئے۔ یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھنی چاہئے کہ ہماری زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ ریکارڈ ہوتا ہے۔

آدمی جو بات بھی منہ سے نکالتا ہے فرشتے اُسے ماورائی کیمرے میں محفوظ کر لیتے ہیں۔

مسکراتے ہوئے، نرمی کے ساتھ میٹھے لہجے اور درمیانی آواز میں بات کرنے والے لوگوں کو اللہ کی مخلوق عزیزرکھتی ہے۔ چیخ کو بولنے سے اعصاب میں کھنچاؤ Tension پیدا ہوتا ہے اور اعصابی کھنچاؤ سے بالآخر آدمی دماغی امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مخاطب یہ سمجھتا ہے کہ میرے اوپر رعب ڈالا جارہا ہے اور وہ اس طرز کلام سے بد دل اور دور ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر خلوص اور محبت کے جذبات سرد پڑ جاتے ہیں۔ شیریں مقال آدمی خود بھی اپنی آواز سے لطف اندوز اور سر شار ہوتا ہے اور دوسرے بھی مسرور و شاداں ہوتے ہیں۔ نصیحت کرنے میں ہمیشہ نرمی اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیجئے۔ اگر آپ یہ محسوس کر لیں کہ اس کا ذہن تنقید برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو اپنی بات کو کسی اور موقع کے لئے اٹھار کھیں۔ اس کی غیر موجودگی میں آپ کی زبان پر کوئی ایسا لفظ نہ آئے جس سے اس کے عیب کی طرف اشارہ ہو تا ہو۔ اس لئے کہ یہ غیبت ہے اور غیبت سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ دوست کی عام زندگی میں جو عیوب آپ کے سامنے آئیں صرف ان کی نشان دہی کیجئے۔ پوشیدہ عیبوں کے نجس اور ٹوہ میں نہ لگئے۔ پوشیدہ عیبوں کو کرید نابد ترین تباہ کن اور اخلاق سوز عیب ہے ۔ نبی کریم کا ایک بار منبر پر چڑ ھے اور بلند آواز میں حاضرین جلس کو تنبیہ فرمائی۔ مسلمانوں کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو، جو شخص اپنے مسلمان بھائیوں کے پوشیدہ عیوب کے درپے ہوتا ہے تو پھر اللہ اس کے چھپے ہوئے عیوب کو طشت ازبام کر دیتا ہے اور جس کے عیب افشا کرنے پر اللہ متوجہ ہو جائے تو اس کو رسوا کر کے ہی چھوڑتا ہے۔ اگر چہ وہ اپنے گھر کے اندر گھس کر ہی بیٹھ جائے۔ [ ترمذی] حضرت عمر کی خدمت میں جب کہ وہ دربار خلافت میں تشریف فرما تھے، ایک عورت اپنے بچے کو لے کر آئی اور عرض کیا، امیر المومنین! میرا بیٹا گڑ زیادہ کھاتا ہے۔

امیر المومنین حضرت عمر نے چند ساعت غور فرمایا اور کہا، اپنے بیٹے کو ایک ہفتہ کے بعد لے کر آنا۔ خاتون ایک ہفتہ کے بعد پھر آئی۔ حضرت عمر نے بچے کو مخاطب کر کے فرمایا، بیٹے ! گڑ کم کھایا کرو اور ضد نہ کیا کرو، تمہارے اس عمل سے تمہاری ماں بہت پریشان ہوتی ہے اور بچے کی ماں سے کہا، اس کو گھر لے جاؤ، اب یہ پریشان نہیں کرے گا۔

حاضرین مجلس نے عرض کیا، امیر المومنین ! اتنی سی بات کہنے کے لئے آپ نے اس عورت کو ایک ہفتہ انتظار کی زحمت دی۔ یہ بات آپ پہلے روز بھی فرما سکتے تھے۔ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا، میں خود گڑ زیادہ کھاتا تھا، میں نے گڑ کھانا کم سے کم کر دیا اور ایک ہفتہ تک اس ترک پر عمل کر کے اس عادت کو پختہ کر لیا، پہلے ہی روز اگر میں بچے سے یہ کہتا کہ تم گڑ کم کھایا کرو تو اس کے اوپر میری نصیحت کا اثر نہ ہوتا۔ بے یقینی، درماندگی، پریشانی اور عدم تحفظ کے اس دور میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص اپنے چھوٹوں اور احباب کو برائی سے بچنے کی تلقین کرتا ہے اور خود اس پر عمل نہیں کرتا تو ہمارے سامنے یہ بات آجاتی ہے کہ نصیحت کا اثر اس لئے نہیں ہو تا کہ ہم خود بے عمل ہیں۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ نومبر 2025 ء

Loading