خالد رض بزانہ میں تھے جہاں
انہوں نے طلیحہ کو شکست دی ۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اس وقت خالد رض بزانہ میں تھے جہاں انہوں نے طلیحہ کو شکست دی تھی۔ انہیں اطلاع ملی کہ بنو فرازہ کا لشکر آ رہا ہے۔ خالد رض نے اپنے دستوں کو تیار کر لیا۔ جس طرح سلمیٰ کی ماں اپنے جنگی اونٹ پر سوار ہو کر لشکر کے آگے آگے چلا کرتی تھی ، اسی طرح سلمیٰ بھی اپنے لشکر کے آگے آگے تھی۔ اس کے ارد گرد ایک سو شتر سواروں کا گھیرا تھا جو تلواروں اور برچھیوں سے مسلح تھے۔ یہ لشکر جوش و خروش بلکہ قہر اور غضب کے نعرے لگاتا آ رہا تھا۔ خالد رض نے انتظار نہ کیا کہ دشمن اور قریب آئے۔ ان کے ساتھ نفری تھوڑی تھی ، وہ دشمن کو اتنی مہلت نہیں دینا چاہتے تھے کہ وہ حملہ کی ترتیب یا قلیل تعداد مسلمانوں کو نفری کی افراط کے بل بوتے پر گھیرے میں لینے کی پوزیشن میں آئے۔ خالد رض نے ہلہ بولنے کے انداز سے حملہ کر دیا، انہیں معلوم تھا کہ دشمن کا لشکر سفر کا تھکا ہوا ہے۔ خالد رض نے دشمن کی اس جسمانی کیفیت سے بھی فائدہ اٹھایا ۔ سلمیٰ جو ایک سو جانباز شتر سواروں کے حفاظتی نرنمے میں تھی۔ اشتعال انگیز الفاظ سے اپنے لشکر کے جوش و خروش میں جان ڈال رہی تھی۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ بنو فرازہ نے خالد رض کو بڑا ہی سخت مقابلہ دیا۔ نفری تھوڑی ہونے کی وجہ سے خالد رض مجبور ہوتے جا رہے تھے اور دشمن کے حوصلے بڑھتے جا رہے تھے۔ سلمیٰ کی للکار اور الفاظ جلتی پر تیل کا کام کررہے تھے۔ خالد رض نے سوچا کہ صرف یہ عورت ماری جائے تو بنو فرازہ کے قدم اکھڑ جائیں گے۔ انہوں نے اپنے چند ایک منتخب جانبازوں سے کہا کہ وہ سلمیٰ کا حفاظتی حصار توڑ کر اسے اونٹ سے گرا دیں۔ سلمیٰ کے محافظ بھی جانباز ہی تھے، وہ خالد رض کے جانبازوں کو قریب نہیں آنے دیتے تھے۔ ان جانبازوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ایک ایک محافظ شتر سواروں کو دوسروں سے الگ کر کے مارنا شروع کر دیا۔ اس طرح جانبازوں نے گھیرا توڑ دیا لیکن کوئی جانباز سلمیٰ تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ زخمی ہو کر پیچھے آ جاتا تھا۔
آخر پورے ایک سو محافظ مارے گئے۔ خالد رض کو اس کی بہت قیمت دینی پڑی۔ جانبازوں نے تلواروں سے سلمی کے کچاوے کی رسیاں کاٹ دیں۔ کچاوہ سلمیٰ سمیت نیچے آ پڑا۔ جانبازوں نے خالد رض کی طرف دیکھا کہ کیا حکم ہے، قیدی بنانا ہے یا قتل کرنا ہے؟ خالد رض نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ ایک جانباز نے تلوار کے ایک ہی وار سے سلمیٰ کا سر تن سے جدا کر دیا۔ بنو فرازہ نے یہ منظر دیکھا تو ان میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ اپنی لاشوں اور زخمیوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مدینہ سے تقریباً دو سو پچھتر میل شمال مشرق میں بطاح نام کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں بدؤوں کے چند ایک کنبے آباد ہیں۔ اس گاؤں کو کوئی اہمیت کوئی حیثیت حاصل نہیں۔ اگر وہاں اِدھر اُدھر غور سے دیکھیں تو ایسے آثار ملتے ہیں جیسے یہاں کبھی شہر آباد رہا ہو۔
چودہ صدیاں گزریں، یہاں ایک شہر آباد تھا ، اس کا نام بطاح تھا۔ جو آج تک زندہ ہے مگر شہر سکڑ سمٹ کر چھوٹا سا گاؤں رہ گیا ہے۔ اس شہر میں خوبصورت لوگ آباد تھے ، وہ بہادر تھے نڈر تھے اور باتیں ایسے انداز سے کرتے تھے جیسے کوئی نظم سنا رہے ہوں۔ عورتیں حسین تھیں اور مرد وجیہہ تھے۔ یہ ایک طاقت ور قبیلہ تھا جے ”بنی تمیم “ کہتے تھے۔ بنو یر بوع بھی ایک قبیلہ تھا لیکن الگ تھلگ نہیں بلکہ بنی تمیم کا سب سے بڑا حصہ تھا۔ اس کا سردار ”مالک بن نویرہ تھا۔ بنی تمیم کا مذہب مشترک نہیں تھا۔ ان میں آتش پرست بھی تھے، قبر پرست بھی لیکن اکثریت بت پرست تھی۔ بعض عیسائی ہو گئے تھے ، یہ لوگ سخاوت، مہمان نوازی اور شجاعت میں مشہور تھے۔ رسول اکرم ﷺ نے ہر طرف قبول اسلام کے پیغام جن قبیلوں کو بھیجے تھے ان میں بنو تمیم خاص طور پر شامل تھے۔ اسلام کے فروغ اور استحکام کیلئے بنو تمیم جیسے طاقتور اور با اثر قبیلے کو ساتھ ملانا ضروری تھا۔ یہ ایک الگ کہانی ہے کہ اس قبیلے نے اسلام کس طرح قبول کیا تھا، مختصر یہ کہ بنی تمیم کی غالب اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ مالک بن نویرہ منفرد شخصیت اور حیثیت کا حامل تھا۔ وہ آسانی سے اپنے عقیدے بدلنے والا آدمی نہیں تھا۔ لیکن اس نے دیکھا کہ بنو تمیم کے بیشتر قبائل مسلمان ہو گئے ہیں تو اس نے اپنی مقبولیت اور اپنی سرداری کو قائم رکھنے کیلئے اسلام قبول کر لیا۔ چونکہ یہی شخص زیادہ با رعب اور اثر و رسوخ والا تھا اس لئے رسول کریم ﷺ نے اسے بطاح کا امیر مقرر کر دیا تھا۔ زکوۃ ، عشر دیگر محصول اور واجبات وصول کر کے مدینہ بھیجوانا اس کی ذمہ داری تھی۔ مشہور مؤرخ بلاذری اور محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں کہ مالک بن نویرہ بڑا وجیہہ اور خوبصورت آدمی تھا۔ اس کے قد کاٹھ میں عجیب سی کشش تھی۔ اسکے سر کے بال لمبے اور خوبصورت تھے۔ شہوار ایسا کہ کوئی اس کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا تھا۔ اچھا خاصا شاعر تھا۔ آواز میں مٹھاس اور ترنم تھا اور اس میں سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ہنس مکھ تھا۔ غم کے مارے ہوؤں کو ہنسا دیتا تھا۔ اس میں خرابی یہ تھی کہ اس میں غرور اور تکبر بہت تھا۔ اس کی ایک وجہ تو اس کی وہ حیثیت تھی جو اسے بنو تمیم میں اور خصوصاً اپنے قبیلے میں حاصل تھی دوسری وجہ اس کا مردانہ حسن اور دیگر مردانہ اوصاف تھے۔ جو ایک طلسم کی طرح دوسروں پر حاوی ہو جاتے تھے۔ اس کا تعلق متعدد عورتوں کے ساتھ تھا۔ قبیلے کی جوان لڑکیاں اس کا قرب حاصل کرنے کی خواہاں اور کوشاں رہتی تھیں۔ لیکن وہ وقتی تعلق رکھتا اور کسی کو بیوی نہیں بناتا تھا۔ کہتا تھا کہ اس طرح ایک عورت اس کے ہم پلہ ہو جائے گی حالانکہ اس وقت بیویوں کو یہ مقام حاصل نہیں تھا۔ وہ قبیلے کی عورتوں کے دلوں میں بستا تھا۔ اُس کے دل کو مسخر کرنے والی عورت کا نام لیلی تھا۔ مالک بن نویرہ نے لیلی سے شادی کر لی لیلی کو قبیلے نے اتم تمیم کا نام دیا تھا۔
رسول کریم ﷺ کے وصال کی خبر ملتے ہی مالک بن نویرہ نے مدینہ والوں سے نظریں پھیر لیں اور ظاہر کر دیا کہ اس نے اسلام قبول کیا تھا ایمان نہیں۔ اس نے زکوۃ اور محصولات وصول کر کے اپنے گھر میں رکھے ہوئے تھے۔ چند دنوں تک اس نے یہ مال مدینہ کو بھیجنا تھا۔ اس نے قبیلے کے لوگوں کو اکھٹا کر کے انہیں زکوۃ اور محصولات واپس کر دیئے۔ اب تم آزاد ہو۔ “ مالک نے کہا۔ ” میں نے مدینہ کی زنجیر توڑ ڈالی ہے۔ اب جو کچھ تم کماؤ گے وہ سب تمہارا ہو گا۔ لوگوں نے داد و تحسین کے نعرے بلند کیے۔ مالک بہت خوش تھا کہ مدینہ سے تعلق توڑ کر وہ اپنے قبیلے کا پھر خود مختار سردار بن گیا ہے مگر اس کی خوشی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی۔ دو تین قبیلوں کے سرکردہ آدمیوں نے مالک سے کہا کہ اس نے مدینہ سے تعلق توڑ کر اچھا نہیں کیا۔ مالک نے انہیں مدینہ کے خلاف کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اس کی زبان کا جادو نا چل سکا۔ زکوۃ اور محصولات کی ادائیگی کے مسئلے پر بنو تمیم تین حصوں میں بٹ گئے۔ ایک وہ تھے جو زکوۃ وغیرہ کی ادائیگی کرنا چاہتے تھے۔ دوسرے وہ جو مدینہ والوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے تھے اور تیسرے وہ تھے جن کیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ وہ کیا کریں۔ ان سب کے اختلافات اتنے بڑھ گئے کہ قبیلوں کی آپس میں خونریز لڑائیاں شروع ہو گئیں ۔ اتنے میں سجاع اپنا لشکر لے کر آگئی۔ سجاع کا ذکر پہلے آچکا ہے اس نے نبوت کا دعوی کیا تھا۔ الحارث کی بیٹی سجاع اپنے لشکر کے ساتھ مالک بن نویرہ کے قبیلے بنو یربوع کے علاقے میں جا خیمہ زن ہوئی ۔ اس نے مالک بن نویرہ کو بلا کر کہا کہ وہ مدینہ پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔ “اگر تم اپنے قبیلے کو میرے لشکر میں شامل کر دو تو ہم مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کر سکتے ہیں۔ سجاع نے کہا۔ ” تمہیں معلوم ہو گا کہ میں بنو یربوع میں سے ہوں۔“خدا کی قسم ! مالک بن نویرہ نے کہا۔ ” میں تمہارا دست راست بن جاؤں گا لیکن ایک شرط ہے جو دراصل ہماری ضرورت ہے۔ تم دیکھ رہی ہو کہ بنو تمیم کے قبیلوں میں دشمنی پیدا ہو چکی ہے۔ ان سب کو مصالحت کی دعوت دے کر انہیں مدینہ پر حملہ کیلئے تیار کریں گے۔ اگر یہ مصالحت پر آمادہ نہ ہوئے تو ہم انہیں تباہ و برباد کر دیں گے۔ اگر تم نے انہیں ختم نہ کیا تو یہ سب مل کر تمہارے خلاف ہو جائیں گے۔ ان میں مدینہ کے وفادار بھی ہیں، انہوں نے سچے دل سے اسلام قبول کر لیا ہے۔ مالک بن نویرہ کی خواہش یہ تھی کہ سجاع کے لشکر کو ساتھ ملا کر بنی تمیم کے مسلمانوں کو اور اپنے دیگر مخالفین کو ختم کیا جائے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ سجاع ، مالک بن نویرہ کے مردانہ حسن و جلال سے متاثر ہو گئی تھی۔ اس نے مالک کی بات فوراً مان لی۔ دونوں نے تمام قبیلوں کے سرداروں کو مصالحت کے پیغامات بھیجے۔ پیغام میں یہ بھی شامل تھا کہ مدینہ پر حملہ کیا جائے گا۔
صرف ایک قبیلے کا سردار ” وکیع بن مالک تھا جس نے ان سے مصالحت قبول کرلی۔ باقی تمام قبیلوں نے انکار کر دیا۔ اس کے نتیجے میں سجاع ، مالک اور وکیع کے متحدہ لشکر نے دوسرے قبیلوں پر حملہ کر دیا۔ بڑی خونریز لڑائیاں لڑی جانے لگیں۔ بنو تمیم جو سخاوت، مہمان نوازی اور زبان کی چاشنی کیلئے مشہور تھے۔ ایک دوسرے کیلئے وحشی اور درندے بن گئے بستیاں اجڑ گئیں ، خون بہہ گیا ، لاشیں بکھر گئیں۔ لیلی کو اپنے دروازے پر عورتوں کی آہ و بکا سنائی دی۔ کچھ عورتیں بین کر رہی تھیں۔ کیا میں بیوہ ہو گئی ہوں ؟ لیلی ننگے پاؤں باہر کو دوڑی۔ وہ کہہ رہی تھی۔ ” مالک بن نویرہ کی لاش لائے ہیں۔ “ اس نے دروازہ کھولا تو باہر دس بارہ عورتیں کھڑی بین کر رہی تھیں۔ لیلی کو دیکھ کر ان کی آہ و زاری اور زیادہ بلند ہو گئی۔ تین عورتوں نے اپنے بازوؤں پر ننھے ننھے بچوں کی لاشیں اٹھا رکھی تھیں۔ لاشوں پر جو کپڑے تھے وہ خون سے لال تھے۔ لیلی کیا تو عورت ہے؟ ایک عورت اپنے بچے کی خون آلود لاش لیلی کے آگے کرتے ہوئے چلائی۔ تو عورت ہوتی تو اپنے خاوند کا ہاتھ روکتی کہ بچوں کا خون نہ کر۔“ یہ دیکھ۔ “ ایک اور عورت نے اپنے بچے کی لاش لیلی کے آگے کرتے ہوئے کہا۔ ” یہ بھی دیکھ۔ “ ایک اور بچے کی لاش لیلی کے آگے آگئی۔ ” یہ دیکھ میرے بچے۔“ ایک عورت نے اپنے دو بچے لیلی کے سامنے کھڑے کر کے کہا۔ ” یہ یتیم ہو گئے ہیں۔ لیلی کو چکر آنے لگا۔ عورتوں نے اسے گھیر لیا اور چیخنے چلانے لگیں۔ تو ڈائن ہے۔ تیرا خاوند جلاد ہے۔ سجاع کو نبوت کس نے دی ہے؟“سجاع تیرے خاوند کی داشتہ ہے۔ سجاع تیری سوکن ہے۔ تیرے گھر میں ہمارے گھروں کا لوٹا ہوا مال آ رہا ہے۔ مالک بن نویرہ تجھے ہمارے بچوں کا خون پلا رہا ہے۔ ہمارے تمام بچوں کو کاٹ کر پھینک دے ، ہم سجاع کی نبوت نہیں مانیں گی۔ ہمارے نبی محمد ﷺ ہیں۔ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ بستی کے لوگ اکھٹے ہو گئے۔ ان میں عورتیں زیادہ تھیں۔ لیلی نے اپنا حسین چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا۔ اس کا جسم ڈولنے لگا۔ دو عورتوں نے اسے تھام لیا۔ اس نے اپنے سر کو زور زور سے جھٹکا اور وہ سنبھل گئی۔ اس نے عورتوں کی طرف دیکھا۔ میں تمہارے بچوں کے خون کی قیمت نہیں دے سکتی۔ لیلی نے کہا۔ ”میرا بچہ لے جاؤ اور اسے کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ ہم چڑیلیں نہیں۔ “ ایک شور اٹھا۔ ”ہم ڈائنیں نہیں۔ لڑائی بند کراؤ۔ لوٹ مار اور قتل و غارت بند کراؤ۔ تمہارا خاوند وکیع بن مالک اور سجاع کے ساتھ مل کرلوٹ مار کر رہا ہے۔ لڑائی بند ہو جائے گی۔ لیلی نے کہا۔ ”بچوں کی لاشیں اندر لے آؤ۔ “مائیں اپنے بچوں کی لاشیں اندر لے گئیں۔ لیلی نے تینوں لاشیں اس پلنگ پر رکھ دیں جس پر وہ اور مالک بن نویرہ سویا کرتے تھے۔
مالک بن نویرہ لیلی کا پجاری تھا۔ اس پر لیلی کا حسن جادو کی طرح سوار تھا۔ اس زمانے میں سردار اپنی بیویوں کو لڑائیوں میں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ لیکن یہ لڑائی اس قسم کی تھی کہ مالک لیلی کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا تھا۔ لیلی سے وہ زیادہ دیر تک دور بھی نہیں رہ سکتا تھا۔ اگر کہیں قریب ہوتا تو رات کو لیلی کے پاس آجایا کرتا تھا۔ وہ اس رات آ گیا۔ کیا اس پلنگ پر کوئی سویا ہوا ہے ؟ مالک بن نویرہ نے پوچھا۔ ”نہیں۔ لیلی نے کہا۔ ”تمہارے لیے ایک تحفہ ڈھانپ کر رکھا ہوا ہے۔ تین پھول ہیں لیکن مرجھا گئے ہیں۔ “ مالک نے لپک کر چادر ہٹائی اور یوں پیچھے ہٹ گیا جیسے پلنگ پر سانپ کنڈلی مارے بیٹھا ہو۔ اس نے لیلی کی طرف دیکھا۔ خون پینے والے درندے کیلئے اس سے اچھا تحفہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ لیلی نے کہا اور اسے سنایا کہ ان کی مائیں کس طرح آئی تھیں اور کیا کچھ کہہ گئی ہیں۔ اس نے اپنا دودھ پیتا بچہ مالک کے آگے کر کے کہا۔ ”جا لے جا اسے اور اس کا بھی خون پی لے۔ لیلی نے کہا۔ کیا تو وہ مالک بن نویرہ ہے جسے لوگ نہیں لکھ کہتے ہیں؟ کیا یہ ہے تیری سخاوت اور شجاعت کہ تو ایک عورت کے جال میں آکر لوٹ مار کرتا پھر رہا ہے ؟ اگر تو بہادر ہے تو مدینہ پر چڑھائی کر۔ یہاں نہتے مسلمانوں کو قتل کرتا پھر رہا ہے۔ مالک بن نویرہ معمولی آدمی نہیں تھا۔ اس کی شخصیت میں انفرادیت تھی جو دوسروں پر تاثر پیدا کرتی تھی۔ اس نے طعنے کبھی نہیں سنے تھے۔ اس کا سر کبھی جھکا نہیں تھا۔ کیا یہ ہے تیرا غرور؟ لیلی نے اسے خاموش کھڑا دیکھ کر کہا۔ ”کیا تو ان معصوم بچوں کی لاشوں پر تکبر کرے گا؟ ایک عورت کی خاطر ایک عورت نے تیرا غرور اور تکبر توڑ کر تجھے قاتل اور ڈاکو بنا دیا ہے۔ میں اپنے بچے کو تیرے پاس چھوڑ کر جا رہی ہوں۔ پیچھے سے ایک تیر میری پیٹھ میں اتار دینا۔“
دلیلی !‘ مالک بن نویرہ گرج کر بولا مگر بیجھ کر رہ گیا اور مجرم کی آواز میں کہنے لگا۔ ”میں کسی عورت کے جال میں نہیں آیا۔ جھوٹ نہ بول مالک ! لیلی نے کہا۔ ”میں جا رہی ہوں۔ سجاع کو لے آ یہاں … یہ یاد رکھ لے۔ تیری سرداری ، تیری خوبصورتی ، تیری شاعری اور تیری خونخواری تجھے ان مرے ہوئے بچوں کی ماؤں کی آہوں اور فریادوں سے بچا نہیں سکیں گی۔ یہ تو صرف تین لاشیں ہیں۔ بستیوں کو لوٹتے معلوم نہیں کتنے بچے تیرے گھوڑوں کے قدموں تلے کچلے گئے ہوں گے۔ تو سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ تیرا بھی خون بہے گا اور میں کسی اور کی بیوی ہوں گی۔“
مالک بن نویرہ نے یوں چونک کر لیلی کی طرف دیکھا جیسے اس نے اس کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا ہو۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا باہر نکل گیا۔ مالک رات بھر واپس نہ آیا۔ صبح طلوع ہوئی۔ بطاح جو بارونق بستی تھی ، ایک ایسے مریض کی طرح دکھائی دے رہی تھی جو کبھی خوبرو جوان ہوا کرتا تھا۔ اب اس کا چہرہ بے نور اور آنکھوں میں موت کا خوف رچا ہوا تھا۔ بطاح کی عورتوں کے چہروں پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔ یہ اس مار دھاڑ کا نتیجہ تھا جو بنو تمیم میں ہو رہی تھی۔ سورج کی پہلی کرنیں آئیں تو بطاح کی گلیوں میں ڈری ڈری سی داخل ہوئیں۔ اس وقت سورج کچھ اور اوپر اٹھ آیا تھا۔ جب بطاح میں ہڑ بونگ مچ گئی۔ بعض عورتیں بچوں کو اٹھا کر گھروں کو دوڑی گئیں اور اندر سے دروازے بند کر لیے۔ کچھ عورتیں اپنی جوان بیٹیوں کو ساتھ لیے بستی سے نکل گئیں۔ وہ کہیں چھپ جانے کو جا رہی تھیں۔ بوڑھے آدمی کمانیں اور ترکش اٹھائے چھتوں پر چڑھ گئے۔ بوڑھوں کے علاوہ جو آدمی بستی میں تھے۔ انہوں نے برچھیاں اور تلواریں نکال لیں۔ کسی نے بڑی بلند آواز سے کہہ دیا تھا کہ دشمن کا لشکر آ رہا ہے۔ دور زمین سے جو گرد اٹھ رہی تھی وہ کسی لشکر کی ہی ہو سکتی تھی۔ بطاح میں جوان آدمی کم ہی رہ گئے تھے۔ سب مالک بن نویرہ کے ساتھ دوسرے قبیلوں کی لڑائی میں چلے گئے تھے بطاح میں جو رہ گئے تھے ان پر خوف وہراس طاری ہو گیا تھا۔
![]()

