Daily Roshni News

یروشلم کا محاصرہ (1099ء)

یروشلم کا محاصرہ (1099ء)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جون 1099ء کی تپتی دوپہر۔ صلیبی فوجیں، جو تین سالہ صحراؤں، پہاڑوں اور جنگوں کی صعوبتیں جھیلتے ہوئے یہاں تک پہنچی تھیں، آخر یروشلم کی دیواروں کے سامنے کھڑی تھیں۔ ان کے جوتے گھس چکے تھے، لباس پھٹے ہوئے تھے، لیکن آنکھوں میں ایک ہی خواب تھا — “مقدس شہر کو آزاد کرانا”۔ شہر کی بلند فصیلیں اور مینار انہیں چیلنج کرتے نظر آ رہے تھے۔ گورنر افتخار الدولہ نے پہلے ہی تمام کنوؤں کو زہر آلود کر دیا تھا اور شہر کے باہر的一切 پانی کے ذخیرے تباہ کر دیے تھے۔ صلیبیوں کے ہونٹ پھٹ رہے تھے، لیکن حوصلے بلند تھے۔

صلیبیوں نے شہر کا گھیراؤ کر لیا۔ انہیں علم تھا کہ محض سیڑھیوں سے اس بلند دیوار کو فتح نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں محاصرہ برج بنانے کے لیے لکڑی درکار تھی، مگر علاقہ لکڑی سے خالی تھا۔ پھر ایک خوش قسمتی — دور سمندر کے کنارے کچھ جہازوں سے لکڑی کے تختے مل گئے۔ صلیبیوں نے دیوانہ وار کام شروع کیا۔ رات دن ایک کر کے انہوں نے دو بڑے محاصرہ برج تیار کیے، جنہیں وہ دیواروں تک کھینچ سکتے تھے۔

15 جولائی کی صبح۔ صلیبی فوج نے روزے رکھے، گھٹنوں کے بل دعائیں مانگیں، پھر ایک ساتھ حملہ بول دیا۔ دیواروں پر سے فاطمی فوجوں نے تیروں اور گرم تیل کی بارش کی۔ محاصرہ برج آگ کے شعلوں میں گھر گئے۔ صلیبیوں کی پہلی کوشش ناکام ہوتی نظر آئی۔

پھر اچانک شمالی جانب سے ایک زوردار شور اٹھا۔ گاڈفری آف بویلین کے دستے نے ایک کمزور نقطے پر دیوار توڑ دی تھی۔ صلیبی فوجیں سیلاب کی طرح شہر میں داخل ہونے لگیں۔ افتخار الدولہ قلعے میں محصور ہو گئے۔ شہر کی گلیوں میں افراتفری پھیل گئی۔ صلیبی فوجیں “خدا کی خواہش ہے!” (“Deus vult!”) کے نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھیں۔

جیسے ہی صلیبیوں کو شہر پر کنٹرمل ملا، انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب رقم ہونے لگا۔ انہوں نے ہر اس شخص کو قتل کرنا شروع کیا جو “غیر” تھا۔ مسلمان، یہودی، حتی کہ مقامی مسیحی بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ مسجد اقصیٰ میں پناہ لینے والے ہزاروں مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیا گیا۔ تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ گھوڑے خون میں اتنا لت پت ہو گئے تھے کہ ان کے پیر منہ کے بل پھسلتے تھے۔ شہر کی گلیاں لاشوں سے پٹ گئیں۔

قتل عام تین دن تک جاری رہا۔ 15 جولائی کی شام تک یروشلم صلیبیوں کے قبضے میں تھا۔ صلیبی سردار برہنہ پاؤں کلیسائے مقبرہ مقدس پہنچے اور خدا کا شکر ادا کیا۔ افتخار الدولہ کو قلعے سے محفوظ نکل جانے دیا گیا۔ شہر کی چابیاں گاڈفری آف بویلین کے حوالے کی گئیں، جنہیں بعد میں “یروشلم کا محافظ” قرار دیا گیا۔

فتح کے بعد صلیبیوں نے یروشلم کی بادشاہت قائم کی۔ شہر کی آبادی تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ یہ فتح صلیبی جنگوں میں عیسائیوں کی سب سے بڑی فتح تھی، لیکن یہ فتح اتنی ہی خونریز تھی جتنی کہ تاریخی۔ اس واقعے نے مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور صلیبیوں کے خلاف مزاحمت کی ایک نئی لہر کو جنم دیا، جو آخر کار 1187ء میں صلاح الدین ایوبی کی فتح پر منتج ہوئی۔

Loading