🌸 خدا کہاں ملتا ہے؟ 🌸
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ماں نے بارہ سال کے بیٹے کو سکول کے لیے تیار کیا۔
ناشتہ کروایا اور اس کا لنچ بیگ میں رکھا — جس میں ایک جوس، پراٹھا اور آملیٹ تھا۔
بچہ بیگ اٹھانے لگا تو ماں زمین پر بیٹھ گئی، اسے سینے سے لگایا اور پیار سے چوم لیا۔
بچے نے ماں کے کان میں آہستہ سے کہا:
“مما، آج میں ذرا لیٹ آؤں گا۔”
ماں مسکرا کر بولی:
“کیوں میرے چندا؟”
بچہ بولا:
“مما، آج میں خدا کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں۔”
ماں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا:
“میرے جگر کے ٹکڑے، خدا کو تم کیسے ڈھونڈو گے؟ وہ تو نظر نہیں آتا نا۔”
بچہ مسکرا کر دوڑتا ہوا دروازے سے باہر نکل گیا، اور ماں اسے جاتے دیکھ کر مسکرا دی۔
سکول سے واپسی پر بچے نے ایک بینچ پر بیٹھی ایک غریب بوڑھی اماں جی کو دیکھا۔
چہرے پر بھوک اور بے بسی صاف لکھی ہوئی تھی۔
بچہ خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گیا، بیگ کھولا اور اپنا لنچ نکالا۔
بوڑھی اماں جی نے ترستی نگاہوں سے روٹی کو دیکھا، پھر نظریں چرا لیں تاکہ بھوک چھپ جائے۔
ننھے ہاتھوں نے پراٹھا اور آملیٹ اٹھایا اور احترام سے اماں جی کی طرف بڑھا دیا۔
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا — اماں جی نے مسکرا کر قبول کر لیا۔
پھر بچے نے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور مسکراتے ہوئے جوس کی بوتل نکالی،
جیسے چراغِ علاءالدین سے کوئی نعمت نکل آئی ہو۔
پورا زور لگا کر ڈھکن کھولا اور اماں جی کو تھما دیا۔
بوڑھی عورت نے ایک ہی سانس میں سارا جوس پی لیا۔
کھاتے ہوئے اماں جی بچے کو دیکھتی رہیں، اور بچہ اماں جی کو۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے رہے۔
لنچ ختم ہوا، بچہ بیگ اٹھا کر گھر کی طرف چل پڑا۔
دروازے پر گھنٹی بجی تو ماں نے مسکرا کر بچے کو بانہوں میں بھر لیا۔
پیار سے گال چوم کر پوچھا:
“میرے لال، آج خدا ملا یا نہیں؟”
بچہ بولا:
“ہاں مما، خدا ایک عورت ہے۔ بہت اچھی ہے۔
جب وہ مسکراتی ہے تو بالکل آپ جیسی لگتی ہے…
بلکہ اس کی مسکراہٹ تو آپ سے بھی زیادہ پیاری ہے۔”
🌼 دوسرا منظر 🌼
بوڑھی اماں جی پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد آگے چل پڑیں۔
راستے میں تھک گئیں تو ایک اور بینچ پر بیٹھ گئیں، جہاں پہلے سے ایک عورت بیٹھی تھی۔
وہ عورت بولی:
“آپ آج کچھ زیادہ ہی خوش لگ رہی ہیں؟”
بوڑھی اماں مسکرا کر بولیں:
“ہاں بیٹی، آج میں نے خدا کے ساتھ بیٹھ کر لنچ کیا ہے۔
اور جانتی ہو؟ خدا ایک معصوم سا بچہ ہے…
بہت چھوٹا، بہت پیارا، اور بے حد مہربان۔”
🌸 تیسرا منظر 🌸
قیامت کا دن…
آقائے دو جہاں ﷺ اپنی امت کی شفاعت فرما رہے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ایک انسان سے فرمائے گا:
“میں بھوکا تھا، تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔
میں بیمار تھا، تم نے میری عیادت نہیں کی۔
میں محتاج تھا، تم نے میری حاجت پوری نہیں کی۔”
وہ انسان عرض کرے گا:
“یا اللہ! میں آپ کو کہاں ڈھونڈتا؟ آپ تو سب کی حاجتیں پوری کرنے والے ہیں۔”
اللہ تعالیٰ فرمائے گا:
**”میرا فلاں بندہ بھوکا تھا، تم اسے کھانا کھلاتے تو مجھے وہیں پاتے۔
میرا فلاں بندہ بیمار تھا، تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے وہیں پاتے۔
میرا فلاں بندہ محتاج تھا، تم اس کی مدد کرتے تو مجھے اس کے پاس پاتے۔
تم نے مجھے ڈھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کی…”**
✨ سوچنے کی بات ✨
ہم دوسروں کے ساتھ ان کی ضرورت کے وقت کیسا رویہ رکھتے ہیں؟
اصل مزہ تو تب ہے،
جب آپ خود مجبور ہو کر بھی کسی کی مدد کریں۔
💛 اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو مجھے فالو ضرور کریں 💛
![]()

