“*بھارتی حکومت اور بی جے پی کی سفارتی سطح پر اسلامی اور ترکش اقدار کے خلاف گھناؤنی سازش* “
استنبول، ترکیے (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔نمائندہ خصوصی ۔۔۔ سید رضوان حیدر بخاری )بھارت کے اندر تو اسلام اور مسلمان ہندتوا ذہنیت کے زیر عتاب ہیں ہی، لیکن اب بھارت بیرون ملک سفارتی سطح پر بھی اسلام اور اسلامی اقدار کے خلاف گھٹیا حرکتوں پر اتر آیا ہے، استنبول میں بھارتی سفارتخانے نے مشہور عالم دین اور صوفی شاعر و درویش مولانا جلال الدین رومی کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میں مشہور صوفی درویش رقص “سماع” جو کہ ترک ثقافت، تصوف اور اسلامی روایات سے وابستہ ایک مقدس عبادت ہے، اس رقص کو سٹیج پر انتہائی بیہودہ انداز میں عورتوں کے ذریعے پیش کیا گیا اور ترک ثقافت اور اسلامی اقدار کی تذلیل کی گئی۔۔
یہ عمل اسلامی، ترک اور صوفی اقدار کو مسخ کرنے اور ایک مقدس عبادت کو کمتر بنانے کی ایک گھٹیا سازش تھی ۔۔
ترک سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی بھارت کی جانب سے سفارتی سطح پر اس قسم کی مذموم سازش کے خلاف کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔۔۔
یہ ایک ایسی تقریب تھی جسے مشہور عالم دین اور صوفی درویش مولانا جلال الدین رومی سے منسوب کیا گیا تھا۔۔
لیکن یہاں مولانا رومی کے لیے کوئی احترام موجود نہیں تھا ۔
یہ اسلامی شخصیت کے نام کی آڑ میں پیش کیا گیا ایک سطحی اور اشتعال انگیز مظاہرہ تھا۔
درویش رقص “سماع” خصوصی طور پر ترکش اور صوفی اقدار سے منسوب اور وابستہ ہے۔۔۔ لیکن ہندوستانی قونصل خانے کی اس تقریب میں اس درویش رقص کو بیہودہ انداز میں عورتوں کے ذریعے پیش کیا گیا جو کہ صریحا اسلامی، ترکش اور صوفی اقدار کے منافی اور اسلامی، ترکش اور صوفی اقدار کو مسخ کرنے کے مترادف اور گھناؤنی سازش تھی۔۔
یہ کوئی انفرادی غلطی نہیں تھی۔۔۔۔
یہ کوئی غلط فہمی بھی نہیں تھی۔۔۔۔
بلکہ یہ بھارتی قونصل خانے کی سطح پر منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا ایک سرکاری اور دانستہ اقدام تھا ۔
یعنی یہ تمام حرکات قونصل خانے کے درجے پر موجود بھارتی حکام کی جانب سے انجام دی گئیں۔
پروگرام کے آغاز میں محبت، رواداری اور مولانا کے احترام کی بات کی جاتی ہے۔
اس کے بعد مولانا جلال الدین رومی کے اقوال اور افکار کو
ان کے مکمل اسلامی تناظر سے کاٹ کر، اسٹیج پر لڑکیوں اور خواتین کے بیہودہ رقص کے مظاہروں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
یہ کوئی معصوم انتخاب نہیں تھا۔۔۔۔
یہ کوئی اتفاق بھی نہیں تھا۔۔۔۔
یہ ایک مکمل طور پر سوچا سمجھا پیغام اور سازش تھی ۔
درویش رقص، جسے “سماع” کہا جاتا ہے، ترک ثقافت، تصوف اور اسلامی روایت سے وابستہ ایک مقدس عبادت ہے۔
یہ صدیوں سے اللہ کی طرف رجوع، عاجزی اور روحانی پاکیزگی کی علامت رہا ہے۔
لیکن بھارتی قونصل خانے کی اس تقریب میں، اس درویش رقص کو اسلامی، ترک اور صوفی تناظر سے مکمل طور پر الگ کر کے، لڑکیوں اور عورتوں کے ذریعے ایک بیہودہ اور عام رقص کی شکل میں پیش کیا گیا۔
یہ رائے کا اختلاف نہیں۔
یہ ثقافتی تنوع بھی نہیں۔
یہ عمل اسلامی، ترک اور صوفی اقدار کو مسخ کرنے، ایک مقدس عبادت کو کمتر بنانے اور اس ورثے کو دانستہ طور پر استعمال کرنے کے مترادف ہے۔
مولانا رومی کوئی عام ثقافتی کردار نہیں تھے۔
وہ ایک مسلمان تھے۔
ایک صوفی تھے۔
اور ایک عظیم اسلامی عالم تھے۔
ان کے کلمات کو لے کر،
ان کے مفہوم کو خالی کر کے،
اور خواتین کے بیہودہ رقص کے ساتھ ایک شو میں بدل دینا اسلام کو کمزور کرنے کی ایک ننگی کوشش ہے۔
اسے فن نہیں کہا جا سکتا۔
یہ کھلی بے حرمتی ہے۔
یہ ذہنیت نئی نہیں ہے۔۔۔۔
بھارت میں برسراقتدار بی جے پی حکومت طویل عرصے سے
اسلام مخالف بیانات اور پالیسیوں کے لیے جانی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، مقدس اقدار کے لیے بے حسی اور نظریاتی دباؤ اس دور میں معمول بنا دیا گیا ہے، اسی لیے ایسے اقدامات کرنے سے وہ نہیں گھبراتے۔
جب معاشرہ پہلے ہی حساس ہو، تو ترکیےمیں، قونصل خانے کی سطح پر، اسلامی علامات کو اس طرح مسخ کیا جانا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ کوئی جسمانی حملہ نہیں،
لیکن یہ ایک ثقافتی اور نظریاتی حملہ ضرور ہے۔
کسی مذہب کی مقدس شخصیت کو اس کے اصل تناظر سے الگ کر کے فن کے نام پر پیش کرنا مسلمانوں کے خلاف علامتی تشدد ہے۔
ہم اسے رواداری نہیں کہتے۔
ہم اسے فن نہیں کہتے۔
ہم اسے استنبول میں، بھارتی قونصل خانے کی سطح پر، اور بی جے پی کی سوچ کے عکاس طور پر، اسلام کے خلاف ایک کھلا نظریاتی حملہ کہتے ہیں۔
ہم اس گھناؤنی اور گھٹیا حرکت کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مسترد کرتے ہیں۔
![]()





