Daily Roshni News

ابن عربی ۔۔۔ ایک حیرت انگیز روحانی شخصیت۔۔۔قسط نمبر1

ابن عربی

ایک حیرت انگیز روحانی شخصیت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ابن عربی ۔۔۔ ایک حیرت انگیز روحانی شخصیت)ابن عربی ایک غیر معمولی شخصیت کا نام ہے ۔ آپ بارہویں صدی کی عبقری شخصیت اور عظیم فلسفی، مفکر اور محقق ہیں۔ عالم اسلام کے چند اہم دانشوران ، بن فلسفیوں اور صوفیاء میں سے ایک شیخ اکبر ابن عربی ہیں۔

تقریباً 800 کتابوں کے مصنف ابن عربی کو صوفیاء نے شیخ الاکبر” کا لقب دے رکھا ہے۔ آج تک یہ لقب کسی اور کو نہیں دیا گیا۔

ابن عربی کا پورا نام شیخ اکبر محی الدین محمد بن علی بن محمد بن احمد ابن عربی الاند سی الحاتمی الطائی ہے۔ آپ حاتم طائی کی نسل سے تھے جو اپنی سخاوت کے باعث نہ صرف عرب بلکہ تمام دنیا میں آج تک مشہور ہیں۔ بنی طے ایک قبیلہ تھا، حاتم اس قبیلے کا ایک سردار تھا۔ اس کے دروازے سے کوئی سائل خالی نہیں جاتا تھا۔ ویسے بھی عربوں میں مہمان نوازی بہت مشہورہے۔ عرب جہاں بھی گئے اپنے ساتھ ان روایات کو نے گئے۔ حاتم طائی کی اولاد میں سے ایک صوفی منش گھرانے نے اندلس میں رہائش اختیار کرلی تھی۔ ابن عربی کے دادا محمد اندلس کے معروف عالم اور قضاہ تھے۔ ابن عربی کے والد علی بن محمد فقہ اور حدیث کے آئمہ اور زہد و تصوف کے بزرگوں میں سے تھے۔ والد و انصار سے تعلق رکھتی تھیں، ابن عربی کے ماموں صبیح یحیی بن یغان دمشق کے ایک مشہور ولی اللہ تھے۔ ابن عربی کا صوفی منش گھرانہ حضرت شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی” سے بہت عقیدت رکھتا تھا۔

کتاب مناقب خوشیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ ابن عربی کے والد علی بن محمد شادی کے بعد ایک عرصہ تک لاولد تھے۔ حتی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہو گئی۔ وہ حضرت غوث اعظم کی

فلسفی، شاعر، محقق اور عالم دین شیخ کبر حضرت محی الدین ابن عربی ایک منفر د مصنف تھے۔ ابن عربی نے 75 برس کی عمر پائی۔ بطور مصنف 46 برس میں 800 سے زیادہ تعظیم کتابیں تصنیف کیں۔ آپ کی صرف ایک کتاب فتوحات مکیہ کے صفحات کی تعداد تقریباً 15 ہزار تھی۔ اس دوران آپ نے اندلس سے شمالی افریقہ ، مصر، عرب، شام، عراق، یروشلم، ترکی تک سفر بھی کیے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ایک دن میں سو سے زاید صفحات لکھتے ہوں گے۔

خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی ۔ حضرت غوث نے حضور حق میں دعا فرمائی اور پھر بشارت دی کہ تیرے گھر ایک بچہ پیدا ہو گا، اس کا نام

محمد محی الدین رکھنا۔

علی بن محمد کی زوجہ نے 17 رمضان المبارک 560 (بمطابق 1165ء) میں اندلس یعنی اسلین کے ایک شہر مرسیہ میں اپنے بیٹے کو جنم دیا۔ اس کا نام محی الدین رکھا گیا۔

جس وقت محی الدین کی پیدائش ہوئی اندلس میں خانہ جنگی کاماحول تھا اور کوئی مستحکم حکومت نہیں تھی۔ محی الدین کے والد مرسیہ کے ہسپانوی الاصل حاکم محمد بن سعید مردنیش کے دربار سے منسلک تھے۔ محی الدین ابھی آٹھ برس کے تھے کہ مرسیہ پر موحدون کے قبضہ کرلینے کے نتیجہ میں آپ کے خاندان کو وہاں سے ہجرت کر نا پڑی۔

آپ کے والد نے لشبونہ (حالیہ پر نکال کا دارالحکومت (زین) میں پناہ لی۔ جلد ہی اشبیلیہ کے امیر ابو یعقوب یوسف کے دربار میں آپ کو ایک معزز عہدہ کی پیش ہوئی اور آپ اپنے خاندان سمیت اشبیلیہ منتقل ہو گئے۔

وہاں محی الدین نے عام بچوں کی طرح تعلیم و تربیت پائی اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ دیا۔ این عربی کی ابتدائی تعلیم حسب دستور گھر پر ہوئی ۔ حصول علم کے دیگر مراحل آپ مرسیہ اور شہونہ میں ملے کر چکے تھے۔ انہیلیہ میں آپ کو اپنے وقت کے نامور عالموں کی مجالس میں بیٹھنے کی سعادت ملی۔ تصوف ، فقہ اور دیگر مروجہ دینی اور دنیاوی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ آپ کا بہت سا وقت صوفیاء کی خدمت میں گذرنے لگا۔

اشبیلیہ میں آپ 598ھ تک رہے۔ اس دوران آپ حصول علم میں ہمہ تن مصروف رہے اور کئی علوم مثلا قرات، تفسیر، حدیث، فقه، صرف و نحو، ریاضی فلسفه، نجوم، حکمت میں دسترس حاصل کی۔ آپ نے اپنے دور کے نامور اور اعلی مقام اساتذہ سے اکتساب فیض کیا۔

ادب، تاریخ، شاعری اور بعض دیگر علوم و فنون کا اکتساب ابو بکر محمد بن خلف بن صافی نظمی، ابوالقاسم عبدالرحمن بن غالب شروط قرمینی، ابو بکر محمد بن احمد بن ابی حمزہ سے کیا۔ حدیث اور دیگر دینی علوم کی تعلیم این زرقون انصاری، ابو حافظ ابن جد، ابو الولید حضرمی اور عبد المنعم خزرجی وغیرہ سے حاصل کی۔ ابو محمد عبد الحق اشبیلی کے حالقہ درس میں ایک عرصے تک شامل رہے۔ آپ کے مشائخ اور اساتذہ کی تعداد 70 تک پہنچتی ہے۔ محی الدین بچپن ہی سے نیک اور صادق القول تھے اور بہت ذہین بھی تھے۔ آپ کی ذہانت کا چرچا جلد ہی دور دور تک پھیل گیا تھا۔

ابن عربی کی غیر معمولی صلاحیت اور علم کا چرچا اندلس میں پھیلنا شروع ہوا، تو مشہور فلاسفر اور قرطبہ کے قاضی القضاة ابن رشد نے ابن عربی کے والد سے کہا کہ کسی وقت اپنے بیٹے کو میرے پاس بھیجیں۔ ابن شد، ابن عربی سے مل کر بہت متاثر ہوئے۔

ابتدائی عمر میں ابن عربی کار جان تصوف و تزکیہ کی جانب نہیں تھا۔ اس درمیان ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے آپ کی پوری زندگی کو بدل دیا۔آپ کے والد وزیر ریاست تھے ۔ آپ کے۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر 2025

Loading