ارشمیدس
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ارشمیدس*، نے بڑے طاقتور عدسوں سے بحری جہازوں کے بادبان، سورج کی شعاعوں سے آگ لگا کر اپنے جزیرے سسلی کو حملہ آوروں سے بچا کر رکھا۔۔۔
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
شہنشاہِ وقت نے اپنی محبوبہ بیوی کیلئے سنار سے قیمتی تاج بنوایا۔۔۔ نہ جانے کس وجہ سے بادشاہ کو شک گزرا کہ تاج میں موجود سونے میں کھوٹ ہے۔۔۔
اس وقت تک کوئی ایسا طریقہ وضع نہیں کیا گیا تھا کہ جس سے سونے میں موجود کھوٹ کا پتہ چل سکے۔۔۔
۔بادشاہ کو بتایا گیا کہ ایک شخص مملکت میں موجود ہے جو یہ مسئلہ حل کرسکتا ہے۔🌳
مطلوبہ شخص کو ڈھونڈ کر بادشاہ کے پاس لایا گیا اور مسئلہ بتایا گیا۔
اس ہستی نے وقت مانگا اور دن رات اس سوچ میں مستغرق ہوگیا کہ آخر وہ کیا طریقہ ہوسکتا ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ تاج اصلی سونے سے بنا ہے یا ملاوٹ شدہ ہے۔۔۔
ایک دن وہ شخص جانگیہ پہنچے ایک حمام کے ٹب میں لیٹا نہا رہا تھا کہ
اچانک چلا اٹھا۔۔۔
یوریکا ، یوریکا ۔۔۔
اسی حالت میں بازار میں بھاگتا رہا اور چلاتا رہا ، یوریکا ، یو ریکا ۔۔۔
( میں نے جان لیا ،
میں نے جان لیا ! )
وہ شخص اگلے دن بادشاہ کے پاس پہنچا اور تاج لے کر اسکا معائینہ کیا۔۔۔
کچھ پانی منگوایا ،
اس میں تاج ڈبویا ،
ناپ تول کی چند اوزار،
پیمانوں کی مدد اور کچھ دیر کی عرق ریزی کے بعد اسنے نتیجہ لکھ کر بادشاہ کو پیش کردیا۔۔۔
اسنے تفصیل سے تاج کا وزن ،
اسمیں موجود اصلی سونے کا وزن ، سونے میں کی گئی ملاوٹ کی مقدار لکھ کر دے دی۔
بادشاہ نے سنار پر سختی کی تو اس نے نہ صرف اپنے جرم کآ اقرار کیا بلکہ حیرت کا اظہار کیا کہ،،،
اس شخص کی کیلکولیشن بالکل صحیح تھی۔
اس ہستی کو دنیا آج
*ارشمیدس* کے نام سے جانتی ہے۔
*ارشمیدس* نے حمام کے باتھ ٹب میں نہاتے ہوئے محسوس کیا کہ جب اسکا جسم پانی میں جاتا تو اسکا وزن کم محسوس ہوتا ہے۔۔۔
۔یہ کمی اس مائع کےوزن کے برابر ہوتی ہے جو جسم کے ڈوبنے کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔۔۔
اسی اصول کو جاننے کے بعد
وہ چلا اٹھا کہ یوریکا ،
یعنی میں نے جان لیا اور
اسی اصول کو اپنا کر اسنے تاج کو پانی میں ڈبو کر اسکے خالص ہونے کا اندازہ لگایا۔۔۔
کیونکہ ہر دھات کا اپنا وزن اور حجم ہوتا ہے۔ خالص سونے اور ملاوٹ والی دھات کے وزن اور حجم کے فرق سے اس نے یہ مسئلہ حل کیا۔۔۔
یہی وہ ہستی ہے جس نے
دعویٰ کیا تھا کہ
آپ *مجھے کرۂ ارض کے باہر کھڑے ہونے کی جگہ اور ایک لمبی سلاخ دیں اور میں دنیا کو اٹھا لوں گا۔
یہ بات اسنے سمجھانے کیلئے کی تھی ورنہ ظاہر ہے یہ ناممکن ہے۔۔۔
مگر اس دعوے سے ایک اصول طے ہوا اور *لیور* کا وجود دنیا نے تسلیم کیا۔۔۔
*ارشمیدس* وہ ذہین شخص تھا
جس نے بڑے بڑے اور طاقتور عدسوں کی مدد سے دور سمندروں میں موجود بحری جہازوں کے بادبانوں کو سورج کی شعاعوں سے آگ لگا کر اپنے جزیرے سسلی کو حملہ آوروں سے ںچا کر رکھا۔۔۔
ویسے یہ وہی جزیرہ سسلی ہے ، جہاں سے لفظ سیسیلین مافیا نکلا۔۔۔!
آخر اس جزیرے پر قبضے کے بعد جنرل مرسلیس نے ، جو جانتا تھا کہ
ارشمیدس نے اسے کافی نقصان پہنچایا ہے اور وہ دل سے اس شخص کی قدر کرتا تھا اور اسے ملنا چاہتا تھا ، اپنے ایک سپاہی کو اسے بلانے بھیجا ۔
جب سپاہی ارشمیدس کے مکان پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی معمولی سے لباس میں زمین پر بیٹھا آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہا ہے۔۔۔
اس نے ارشمیدس کو اپنے ساتھ چلنے اور بادشاہ سے ملنے کا کہا۔
ارشمیدس نے اسے کہا کہ
میں اس وقت ایک زمین پر ایک مکینیکل فارمولے کا ڈائیا گرام بنارہا ہوں ، جب مکمّل کرلوں گا تو پھر جاؤں گا۔۔۔
جاہل سپاہی نے غصے میں آکر تلوار نکالی اور اس وقت 80 سال کی عمر کے کرۂ ارض کے انتہائی ذہین ریاضی دان، ماہرِ طبیعیات، ماہرِ فلکیات ، موجد ، انجینئر ، مصنف ، فلسفی اور قابل سائنسدان کا سرقلم کردیا۔
![]()

