وہ لوگ جو امیر بننے سے پہلے خود کو امیر محسوس کرتے ہیں، وہی حقیقت میں امیر بنتے ہیں۔”
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وضاحت (Explanation)یہ جملہ دراصل “ذہنی رویے” (Mindset) کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ اس کے پیچھے چند اہم نکات یہ ہیں:
خود اعتمادی: جب انسان ذہنی طور پر خود کو خوشحال اور کامیاب محسوس کرتا ہے، تو اس کے اندر بڑے فیصلے لینے اور خطرات (Risks) مول لینے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔
مثبت سوچ کی طاقت: یہ نظریہ “کشش کے قانون” (Law of Attraction) سے ملتا جلتا ہے، جس کے مطابق اگر آپ اپنی منزل کے بارے میں پرامید رہیں اور اسے حاصل شدہ سمجھیں، تو آپ کی محنت اور توجہ اسی سمت میں لگ جاتی ہے۔
خوف کا خاتمہ: جو لوگ ہمیشہ اپنی غربت یا کمی کا رونا روتے ہیں، وہ اکثر خوف کی وجہ سے نئے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اس کے برعکس، “امیرانہ سوچ” رکھنے والا شخص مواقع تلاش کرتا ہے، ناکہ رکاوٹیں۔
خلاصہ: یہ قول یہ نہیں کہتا کہ صرف سوچنے سے دولت آ جائے گی، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ کامیابی کا سفر جیب سے نہیں بلکہ دماغ سے شروع ہوتا ہے۔
![]()

