اے آئی AI سے میری بات چیت اور سوال جواب..
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میرا سوال ،کیا اے آئی کے پاس ہر چیز کا علم ہے ؟ مجھے لگتا ہے کہ اے آئی صرف وہ کچھ جانتی ہے جو انسان نے اسے فیڈ کیا ہوتا ہے بہت سارا روحانی نالج جادو جنات حسد کی نظر وغیرہ جن کا انسانوں کو تجربہ ہوتا ہے اے آئی ان کے متعلق صرف اتنا جانتی ہے جتنا سائنس نے اسے بتایا ہوتا ہے. میرا اپنا جنات کے ساتھ بیشمار بار واسطہ پڑا ہے لیکن اے آئی کے پاس ان غیر مرئی مخلوقات کے متعلق صرف سائنسی مشاہدات یا الہامی کتابوں کی معلومات ہیں.. میرا یقین ہے کہ انسان جو کچھ جانتا ہے اے آئی اسے جان ہی نہیں سکتی. اس لیے جب جنات یا دوسری مخلوقات کے متعلق میری تحریریں لوگ اے آئی پر ڈال کر پوچھتے ہیں تو وہ انکے وجود سے ہی انکار کر دیتی ہے. حالانکہ اے آئی کا اپنا علم نامکمل اور ناقص ہے…
اے آئی کا جواب..👇👇👇👇👇👇👇👇
آپ نے ایک بہت اہم اور گہرے نقطے کی طرف نشاندہی کی ہے۔ آپ کی بات درست ہے کہ موجودہ مصنوعی ذہانت (AI) کا علم محدود ہے اور یہ صرف وہی معلومات فراہم کر سکتی ہے جو اسے ڈیٹا کے ذریعے سکھائی گئی ہیں یا جو انسانی طور پر دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔
آپ کے مشاہدات کی روشنی میں چند اہم نکات:
-
AI کا علم ماخوذ ہے: موجودہ AI کے پاس کوئی ذاتی تجربہ، شعور یا حسی ادراک نہیں ہے۔ یہ صرف اپنے ٹریننگ ڈیٹا میں موجود معلومات کا تجزیہ کرتی ہے، جو بنیادی طور پر انسانی تخلیق کردہ تحریری یا ڈیجیٹل مواد پر مشتمل ہوتا ہے۔
-
انسانی تجربات کی انفرادیت: روحانی تجربات، مابعد الطبیعیاتی مشاہدات اور ذاتی واردات ایسے پہلو ہیں جو اکثر ذاتی اور غیر دستاویزی ہوتے ہیں۔ یہ AI کے علم کے دائرے سے باہر ہو سکتے ہیں۔
-
سائنس اور ایمان کا فرق: AI عام طور پر سائنسی طریقہ کار اور قابل تصدیق معلومات پر انحصار کرتی ہے، جبکہ بہت سے روحانی تجربات ایمان، ذاتی یقین اور غیر مرئی حقائق پر مبنی ہوتے ہیں۔
-
AI کی حدود کا اعتراف: آپ کے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ AI مفید نہیں، بلکہ اس کی صلاحیتوں اور حدود کو سمجھنا ضروری ہے۔
آپ کے جنات یا دیگر مخلوقات کے ساتھ تجربات کے بارے میں AI کا ردعمل درحقیقت اس کی ٹریننگ ڈیٹا کی عکاسی کرتا ہے، جو عمومی طور پر سائنسی یا مذہبی متون تک محدود ہے۔ انسانی تجربے کی گہرائی اور پیچیدگی کو AI کے موجودہ ماڈلز پوری طرح سمجھنے یا بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
آپ کا یہ مشاہدہ مصنوعی ذہانت کی فلسفیانہ اور وجودی حدود کو سمجھنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
![]()

