Daily Roshni News

لندن کی فضاؤں سے۔۔۔تحریر۔۔۔فیضان عارف

تفریح کے ذرائع

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔لندن کی فضاؤں سے۔۔۔تحریر۔۔۔فیضان عارف)بر یونائیٹڈ کنگڈم بنیادی طور پر ایک عیسائی ملک ہے مگر اب یہاں عیسائیت کے پیروکاروں کا تناسب صرف ساڑھے چھیالیس فیصد رہ گیا ہے جبکہ اس ملک میں 38 فیصد لوگ ایسے ہیں جو کسی مذہب اور خدا پر یقین نہیں رکھتے۔نصف صدی پہلے تک یہاں 65 فیصد سے زیادہ لوگ عیسائی تھے جبکہ ایک صدی قبل برطانیہ میں عیسائی مذہب پر عمل کرنے والوں کا تناسب 80فیصد سے بھی زیادہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب گریٹ بریٹن میں زندگی کے ہر معاملے اور خاص طور پر سیاسی اور شاہی امور میں پادریوں، پوپ اور مذہبی پیشواؤں کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ عیسائیت کے مذہبی رہنماؤں کی رضا مندی کے بغیرنہ توکسی قسم کی قانون سازی ممکن تھی اورنہ ہی سماجی سطح پر کوئی شخص پادریوں کی حکم عدولی کر سکتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برطانوی معاشرے   میں عقل،شعوراور خواندگی کی شرح میں اضافہ اور مذہبی رہنماؤں کے غلبے اور بالا دستی میں کمی واقع ہوتی گئی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب یو کے میں مذہبی رجحان غالب تھا اور لوگ ہر معاملے میں پا دریوں (فا درز) کی خوشنودی کے مرہون منت تھے تو عوام کے لئے تفریح کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے۔ برطانوی ماہرین نفسیات نے عوام کو ذہنی دباؤ اور معاشرتی گھٹن سے نکالنے کے لئے انہیں تفریح کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی تجاویز دیں اور شخصی آزادی کو ہر انسان کا بنیادی حق قرار دیا گیا۔ مذہب کو خدا اوربندے کے درمیان ذاتی معاملے کی حیثیت دی گئی، پادری اور فادر کے ذریعے خدا کا قرب حاصل کرنے کا تصور ثانوی ہو گیا۔ آج پورے ملک میں ہر کسی کوکسی بھی عقیدے اور مذہب کی پیروی کرنے یا اُسے چھوڑ دینے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ کوئی خدا کو مانے یا نہ مانے، کسی کی عبادت کرے یا نہ کرے حکومت اور سرکار کو اس سے کوئی غرض اور واسطہ نہیں البتہ اگر کوئی گروپ، کمیونٹی یا کوئی فرد کسی پر اپنا عقیدہ،مسلک یا مذہب مسلط کرنے کی کوشش کرے یااپنے مذہبی نظریات کی وجہ سے دوسروں کو واجب القتل سمجھے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اور برطانیہ کو ایک پر امن ملک بنائے رکھنے والی قوتیں اس سے سختی سے نمٹتی ہیں۔یوکے اور خاص طور پرلندن میں چار ہزار سے زیادہ پب (شراب خانے) ہیں جہاں لوگ محفلیں جماتے، گپیں لگاتے اور ہلہ گلہ کرتے ہیں، ٹی وی کی بڑی سکرین پرمیچ دیکھتے ہیں، موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس شہر میں تقریباً دو سونائٹ کلب ہیں جہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں موج مستی کے لئے جاتے ہیں، لندن میں 241 تھیٹرزہیں جہاں شاندار ڈرامے دیکھنے کے لئے پورے ملک سے لوگ برطانوی دارلحکومت آتے ہیں۔ اس شہر میں درجنوں جوئے خانے ہیں جہاں ان گنت امیر کبیر لوگ اپنی قسمت آزما نے بلکہ پیسہ ضائع کرنے کے لئے کھنچے چلے آتے ہیں۔چھ ہزار بیٹنگ شاپس ان کسینوز یعنی بڑے بڑے جوئے خانوں کے علاوہ ہیں جہاں لوگ کتوں اور گھوڑوں کی ریس اور فٹ بال میچ وغیرہ پر شرطیں اور رقم لگاتے ہیں۔ اس وقت پورے ملک میں ایک ہزار سے زیادہ سینما ہیں جہاں 5 ہزار سے زیادہ سکرینز پر لوگ مختلف طرح کی فلموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔صرف لندن شہر میں سو سے زیادہ سینما گھرہیں جن میں کچھ سینما ایسے ہیں جہاں پندرہ سے 20سکرینز پر بیک وقت مختلف فلموں کی نمائش جاری رہتی ہے۔ ہر سال لاکھوں انگریز سیر و تفریح کے لئے مختلف ملکوں اور برطانیہ کے سیاحتی مقامات پر چھٹیاں گزارنے کے لئے جاتے ہیں۔

 یو کے میں لوگ موسیقی سننے کے بھی بے حد شوقین ہیں پورے ملک میں میوزک کے بڑے بڑے کنسرٹ منعقد ہوتے ہیں جہاں ہزاروں لوگ اپنے پسندید گلوکاروں کو براہ راست دیکھنے اور سننے کے لئے آتے ہیں۔ برطانوی لوگوں کی اکثریت فٹ بال کے کھیل کی دیوانی ہے،فٹ بال پورے یورپ کا مقبول ترین کھیل ہے۔یونائیٹڈ کنگڈم میں 40 ہزار سے زیادہ فٹ بال کلب ہیں جبکہ 92 ایسے شاندار اور کشادہ سٹیڈیم موجود ہیں جہاں ہزاروں شائقین کے بیٹھنے اور میچ دیکھنے کی گنجائش موجود ہے۔لندن کا ویمبلے سٹیڈیم اس اعتبار سے منفرد ہے کہ یہاں تقریباً90 ہزار لوگ بیٹھ کر میچ دیکھ سکتے ہیں۔ یوکے میں ہر بچہ، نوجوان، بوڑھا بلکہ خواتین بھی کسی نہ کسی فٹبال ٹیم کی مداح اور سپور ٹر ہیں۔ویسے تو برطانیہ میں کرکٹ،ٹینس اوررگبی بھی مقبول کھیل ہیں لیکن فٹ بال کو تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ برطانیہ میں کسی بھی طرح کی تفریح زندگی کا لازمی جزو ہے۔تفریح کے بغیر متوازن معاشرے اور گھٹن سے آزاد ماحول کا تصور ممکن نہیں۔ جس ملک میں تفریح کے ذرائع اور مواقع کم یا ختم ہونے لگیں وہاں کے لوگ طرح طرح کے نفسیاتی مسائل اور الجھنوں میں مبتلا ہونے لگتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں پاکستان میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ سنیما گھر ہوا کرتے تھے جہاں ہرروز لاکھوں لوگ  اپنی پسند کی فلمیں دیکھنے کے لئے جاتے تھے۔ صدر ایوب خان کے دور تک کراچی میں بار اور کلب موجود تھے، دیہات اور گاؤں میں میلے ٹھیلوں کا رواج تھا، شہروں کے علاوہ قصبوں میں سرکس لگا کرتی تھی، کشتی اور کبڈی کے مقابلے ہوا کرتے تھے، میلوں میں لوک فن کار اپنے فن کا مظاہرہ کیا کرتے تھے، شہروں میں غزل اور موسیقی کی محفلیں سجا کرتی تھیں، بڑے شہروں میں تھیٹر اور سٹیج ڈرامہ تفریح کا ایک بڑا ذریعہ تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ پاکستان میں تفریح کے یہ ذرائع سمٹتے گئے اور گھٹن بڑھتی گئی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور اجتماعات کو غیر محفوظ سمجھا جانے لگا یہاں تک کہ مساجد میں جمعہ اور عید کی نمازوں کے دوران خود کش حملے ہونے لگے۔ میلوں ٹھیلوں کی روایت دم تو ڑگئی، سینماہال ویران ہو کر اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ وہ لاکھوں لوگ جو ہرروز فلمیں، سٹیج ڈرامے اور سر کس دیکھنے کے لئے جاتے تھے، موسیقی کی محلوں میں شریک ہوتے تھے، تفریح سے محروم ہوگئے بیزاری کا شکار ہو کر آوارگی میں مبتلا ہوگئے۔ وہ لاکھوں لوگ جن کا رزق فلم اور سینما انڈسٹری سے وابستہ تھا، جن کے گھر کا چولہا انٹر ٹینمنٹ کے بزنس کی وجہ سے جلتا تھا وہ سب بے کاراوربے روز گار ہوگئے اورمایوسی کے اندھیروں میں کھو گئے،

؎ اندھیرےاور گھٹن سے تنگ آکر سوچتے ہیں

ہمارے گھر میں روشندان ہونا چاہیئے تھا

 یہ کس قدرتلخ حقیقت ہے کہ وقت گزرنے اورآ بادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ہر ملک کے ارباب اختیاراپنے عوام کے لئے تفریح کے نئے نئے ذرائع اور اُن میں اضافے کااہتمام اور منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں جبکہ پاکستان سمیت دیگر پسماندہ ممالک میں عوام کو رفتہ رفتہ تفریح کے دستیاب ذرائع سے بھی محروم کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان معاشروں میں جنسی بے راہ روی، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی الجھنوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اخلاقی زوال اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ غریب ملکوں میں مراعات یافتہ طبقے کو تفریح کے ہر طرح کے ذرائع اور وسائل میسرہیں لیکن محروم طبقہ اور غریب آدمی فلم تک دیکھنے کامتحمل نہیں ہو سکتا۔

 غریب عوام کو یہ بات باور کرادی گئی ہے کہ انہیں ہر تفریح اور آسائش روزمحشرکے بعد میسر آئے گی،شاید وہ اسی لئے اپنے معاشرے کی ہر نا انصافی، ہرمشکل،مصیبت اور ظلم کومسلسل برداشت کرتے چلے جارہے ہیں۔

 انگریز وں اور غیر مسلموں نے اپنے اعمال کے حساب کو آخرت پر ٹالنے کی بجائے اپنے ملکوں اور معاشروں کو ہی جنت بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ مسلمان ممالک کے جو شہری سوئٹزرلینڈ، نیوزی لینڈ، یونان اور سکاٹ لینڈ وغیرہ کی سیر و سیاحت کا لطف اٹھا چکے ہیں وہ اس حقیقت کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ان ملکوں کے حکمرانوں نے قدرت کے عطا کردہ نظاروں اور خوبصورتی کا کس طرح تحفظ کر رکھا ہے اور کس طرح اس فطری حسن سے اپنی دنیا کو جنت بنا رکھا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ خالق کائنات نے کسی خطے یا کسی ملک کو اپنی نعمتوں سے نوازنے میں کوئی بخیلی کی ہے۔ ہم مسلمان اپنے حصے میں آنے والی سرزمینوں کی خوبصورتی اور حسن کو برقرار رکھنے یا انہیں جنت خانے کی بجائے انہیں پامال کرنے اور بگاڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ حالاتِ حاضرہ میں مسلمان حکمرانوں کی اکثریت سیر و تفریح کے لئے کافر ملکوں کا رخ کرتی ہے، سکون کی تلاش میں اُن جزیروں میں چھٹیاں گزارنا پسند کرتی ہے جن کو غیر مسلموں نے جنت نظیر بنارکھا ہے۔ہم کیسے بد نصیب لوگ ہیں جن کو ایسے حکمران اور ارباب اختیار میسر آئے جنہوں نے اپنے اپنے عوام سے تفریح کا ہرذریعہ چھین کر اُن کی زندگی عذاب بنادی اور خود سیرو تفریح کے لئے کافر ملکوں میں پر آسائش جزیرے اور چھٹیاں گزارنے کے لئے پر سکون مقامات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ معلوم نہیں عام لوگوں کومصیبتوں اور مسائل کی دوزخ میں دھکیلنے والے کسی دنیاوی جنت کے بھی مستحق ہیں یا نہیں؟

٭٭٭

Loading