Daily Roshni News

اپنا کیرئیرروشن بنائیے۔۔۔قسط نمبر2

اپنا کیرئیرروشن بنائیے

قسط نمبر2

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔اپنا کیرئیرروشن بنائیے)کا بھی بجٹ بنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وقت کی تنظیم کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کسی بھی کام کے لیے وقت کی ڈیڈلائن مقرر کرلی جائے۔ اس کے لیے خود سے طے کرنا ہے کہ فلاں وقت تک یہ کام سر انجام دے دوں گا۔ ٹائم مینجمنٹ ایک فن ہے جسے سیکھ کر زیادہ سے زیادہ کام نمٹائے جاسکتے ہیں۔

 خوف کو بھگائیں

ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ ….یہ خوف ہی ہے جو کامیابی کی راہ میں حائل ہوتا ہے۔ خوف انسان کی نگاہ میں اس کی عزت کم کر دیتا ہے اتنی کم کہ وہ خود کو دوسروں کے مقابلے میں کم تر مجھنے لگتا ہے یوں اس کے راستے میں بے بنیاد اور غیر حقیقی رکاوٹیں کھڑی ہونے لگتی ہیں۔ خوف ایکشن لینے سے دور رکھتا ہے۔ یہ عمل کی قوت چھین لیتا ہے یہاں تک کہ کم درجے کا خوف بھی ذہنی استعداد پر کافی گہری ضرب لگا سکتا ہے۔ بالکل انگلش کے اس محاورے کی طرح کہ وہ خوف سے منجمد رہ گیا”۔ خوف کی مثال ایسے ہی ہے کہ ایک رواں دریا میں زندگی اور وقار نظر آتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں جو ہر میں زندگی غائب اور گندگی موجود رہتی ہے، بالکل اسی طرح با اعتماد انسان زندگی میں آگئے بڑھتا جائے گا اور ایک خوفزدہ انسان جو ہڑبن کر رہ جائے گا۔

لہذا کوئی بھی نیا کام کرنے کے لیے خود پر اعتمادہونا چاہیے۔ اپنے افسران سے بھی اعتماد کے ساتھ بات کریں۔ کئی باتیں ہم اپنے دلوں میں لے کر بیٹھے رہتے ہیں۔ خود سے نتیجہ مت اخذ کریں کہ آپ نے یہ کہا تو جواب میں آپ کو یہ کہا جائے گا۔ اگر آپ اپنے موقف پر درست ہیں تو جواب میں جو چیز کہی جائے گی اس کا جواب بھی آپ کے پاس ہو گا۔ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کی دفتر میں ترقی نہیں ہو رہی یا آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کے ساتھ فلاں جگہ زیادتی ہو رہی ہے تو آپ اس پر بات کریں۔ ایک مرتبہ کامیابی نہیں بھی ہوتی تو بھی اس کے نتائج بات نہ کرنے سے زیادہ اچھے بر آمد ہوں گے۔

اپنے کام کا معیار بڑھائیں

آپ جو بھی کام کیا جائے اس میں ہمیشہ بہتری کی گنجائش رہتی ہے لہذا یہ کوشش کی جائے کہ کام کے معیار میں اضافہ ہو۔ جتنا بہتر اور معیاری کام ہو گا، قدر و قیمت اسی اعتبار سے بڑھتی جائے گی۔ کاموں کی انجام دہی میں وقت بھی کم لگے گا۔ صرف تین دنوں میں روزانہ تیس منٹ کی مشق کر کے ایک عام آدمی جو ٹائپنگ سیکھ رہا ہو ٹائپنگ کی رفتار میں دگنا اضافہ کر سکتا ہے۔

یادرکھیے کہ استقامت ہمیشہ کامیابی دیتی ہے، اگر یکسوئی کے ساتھ کام کو کیا جائے تو ناکامی

نہیں ہوگی۔

خود احتسابی کےعمل سے گزریں

اس سائنسی دور  میں زندہ ہیں وہاں ہر پل اور ہر لمحےتبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ نئی سے نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جارہی ہے، لوگ جس شعبے میں بھی کام کر رہے ہیں انہیں اس میں کئی چیزوں کا اضافہ بہت تیز رفتاری سے ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس طرح کے حالات میں یہ بہت اہم ہے کہ سال میں کم از کم ایک مرتبہ اپنا احتساب کریں، کمزوریوں اور خوبیوں کا جائزہ لیں بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ اپنا ایک نیا وجود دریافت کریں۔ یعنی زندگی کی نئے سرے سے تعمیر کریں۔

سال میں کم از کم ایک مرتبہ اپنے کاموں کا جائزہ لینا چاہیے اور اس بات کا تعین کرنا ضروری ہے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں، کیا اسے جاری رکھنا چاہیے ….؟ اس میں کوئی تبدیلی کرنا لازمی ہو گیا ہے یا پھر اسے چھوڑ کر کوئی نیا راستہ اختیار کرنا فائدے میں رہے گا۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2021

Loading