اصل شعور وہ ہے جو انسان کو سوال کرنا، حق بات کہنا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سکھائے۔ تحریر: عثمان عاشق
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر۔۔۔ عثمان عاشق)جنگل میں آئے دن جھگڑے اور فسادات ہو رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہتا، اور ہر طرف خوف، نفرت اور بدنظمی کا راج تھا۔
کچھ امن پسند، سلجھے ہوئے اور سچے دل کے جانور شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ گڑگڑاتے، دہائیاں دیتے ہوئے شیر سے بولے:
“حضور! کچھ کیجیے، ہمارا تو اس ریاست میں جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ روز کوئی نہ کوئی جان سے جاتا ہے۔ ظلم، ناانصافی، اور نفاق بڑھتا جا رہا ہے۔”
شیر نے انہیں مستقبل میں انصاف کی فراہمی کی نوید سنائی اور تسلی دی، اور پھر دربار برخاست کر دیا۔
اجلاس کے بعد شیر نے اپنی وزیرِ اعظم لومڑی کو طلب کیا اور پوچھا:
“یہ سب فساد، لڑائی جھگڑوں اور بدنظمی کی جڑ کیا ہے؟”
لومڑی نے بڑی تمکنت سے جواب دیا:
“جنابِ والا! رعایا میں شعور کی شدید کمی ہے۔ وہ نہ اپنے حق کو پہچانتی ہے، نہ اپنے فرض کو، اور نہ ہی کسی بات کی تہہ میں جانے کا ہنر رکھتی ہے۔”
شیر نے سر ہلاتے ہوئے پوچھا:
“تو یہ شعور کیسے لایا جائے؟”
لومڑی فوراً بولی:
“جناب! تعلیم سے۔
شیر نے کہا کہ یہ تعلیم کیا بلا ہے ؟
جس پر لومڑی
نے جواب دیا کہ تعلیم ہی وہ کنجی ہے جو جانوروں کو مہذب اور باشعور بناتی ہے، جیسا کہ حضور خود مہذب حکمران ہیں۔”
شیر خوش ہوا اور حکم صادر فرمایا:
“پھر تعلیم لازم ہے۔ فوراً اس کا انتظام کرو”
نصاب تیار کرنے کی ذمہ داری لومڑی کے ہاتھ میں آئی۔ اس نے نصاب کی خاکہ بندی کچھ یوں کی:
شیر: چونکہ وہ بادشاہ تھا، اس لیے اُسے “بہادر، عادل اور عظیم رہنما” کی مثال قرار دیا گیا۔
لومڑی: اُسے “دانشور، عقلمند اور دور اندیش” لکھا گیا۔
بھیڑیے: انہیں “ریاست جنگل کے محافظ اور امن کے رکھوالے” قرار دیا گیا۔
بندر: جو ریاست کی فلاح و بہبود میں ہاتھ بٹانے کی بجائے ہر وقت نچاتا، ہنساتا اور جانوروں کو بہلاتا تھا، اُسے “قوم کا ہیرو” اور “تفریح کا نشان” کہا گیا۔
کتے: جو محل کے دروازے پر وفاداری کے بھونک بھونک کر نمونے پیش کرتے تھے، اُنہیں “نڈر، بااعتماد، ریاست کے ستون” لکھا گیا۔
مکھی: جو ریاست کے ہر گند پر جا بیٹھتی تھی، اُسے “مشاہدہ کار” اور “ہر مسئلے پر نظر رکھنے والی ہستی” کہا گیا۔
جبکہ دوسری طرف
گدھا: جو دن رات ریاست کا بوجھ اٹھاتا تھا، اُسے “کم عقل اور احمق” لکھا گیا۔ کیوں کہ وہ نہ تو سوال کرتا اور نا کچھ اپنے حق میں بات، صرف محنت کرتا تھا۔
الو: جو رات بھر جاگ کر سب کچھ دیکھتا اور نیند میں پڑے جانوروں کو بیدار ہونے پر حقیقت بتاتا، اُسے رات بھر جاگنے کی وجہ بنا کر “منحوس اور ناپسندیدہ” کہا گیا۔
کوا: جو سچ بولتا، خبردار کرتا اور حق بات چیخ چیخ کر کہتا، اُسے “چور، کالا اور فتنہ پرور” قرار دے دیا گیا۔
ہاتھی: جو سچائی، وقار اور اصول پسندی کی علامت تھا، اُسے “سست، بیکار، دقیانوس” کہہ کر صرف نصاب میں ایک تصویر تک محدود کر دیا گیا۔
کچھ ہی عرصے بعد پورے جنگل میں تعلیم عام ہونے کی وجہ سے ایسا امن قائم ہوا، کہ جس میں نہ سوال تھا، نہ اختلاف، نہ سوچنے کی ضرورت، نہ سمجھنے کی خواہش۔
کوّا چیختا چلاتا رہتا، لیکن اب کسی کے کان اس کی “کائیں کائیں” پر نہیں ہلتے تھے، کیوں کہ اب تعلیم کی وجہ سے سب یہ جان گئے تھے کہ یہ”چور اور فتنہ پرور” ہے، اگر ہم اس کی پہلے کی طرح سنے گئے تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔
گدھا دن رات ریاست کا بوجھ اٹھاتا رہتا، لیکن جب وہ اپنے حقوق کے نہ ملنے پر شکایت کرتا، تو کوئی اس کی طرف کان نہ دھرتا کیوں کہ اب سبھی کو یہ “شعور” آ گیا تھا کہ وہ تو احمق ہے، اور احمقوں کے ساتھ ایسا سلوک ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے، اور اُسے نظر انداز کرنا ہی عقلمندی ہے۔
اب جانور ہاتھی جیسی حقیقت کو بھی ہضم کر جاتے تھے جوکہ پہلے چیونٹی جیسی بات پر آسمان سر پہ آٹھا لیتے تھے۔
اب اگر کسی گدھے کو مار پڑے، کسی الو کو بولنے پر سزا ملے، وہ اس پر توجہ ہی نہیں دیتے تھے، کیوں کہ وہ سمجھ گئے تھے کہ:
“یہ اُن کا مسئلہ نہیں ہے”
اور یوں، وہ ہر وقت کے جھنجٹ، پریشانی، سوال، مزاحمت، اور اختلاف سے مکمل آزاد ہو چکے تھے۔
اب وہ پرسکون تھے۔ مکمل طور پر سکون میں۔
اور یہ سکون اُنہیں تعلیم کی بدولت ملا تھا۔
وہ جو پہلے ہر چھوٹی چھوٹی بات پر اجتماعی آواز اٹھاتے،
اب جان چکے تھے کہ آواز اٹھانے سے سکون جاتا ہے،
اب وہ جان گئے تھے،
کہ ہر مسئلے کا اصل علاج ریاست ہے، ناکہ وہ خود۔
کیونکہ ریاست تو ہے ہی اسی کام کے لیے، مسائل حل کرنے، انصاف دینے، امن قائم کرنے کے لیے۔ ان چیزوں کے بارے میں سوچنا، پریشان ہونا، سوال کرنا،ان کا کام نہیں۔
اب وہ مطمئن ہو چکے تھے کہ
جو بھی مسئلہ اُن کی ذات سے جُڑا ہوا نہ ہو، وہ دراصل ان کا مسئلہ ہی نہیں۔
جنگل میں واقعی شعور آ گیا تھا۔اب ریاست جنگل کے باشندے سب کچھ دیکھتے تھے، سب کچھ سنتے تھے، لیکن پہلے کی طرح ہلکان ہرگز نہیں ہوتے تھے۔
اور یہ سب کچھ تعلیم کی برکت سے آیا ہوا شعور تھا۔
اخلاقی سبق:
جب تعلیم سچائی، سوال اور انصاف سکھانے کے بجائے صرف حکمرانوں کی تعریف اور کمزوروں کی تذلیل سکھانے لگے تو وہ تعلیم نہیں رہتی، بلکہ ذہنوں کو قابو میں رکھنے کا ایک ہتھیار بن جاتی ہے۔
ایسی تعلیم معاشرے میں شعور پیدا نہیں کرتی بلکہ لوگوں کو اس حد تک مطمئن کر دیتی ہے کہ وہ ظلم، ناانصافی اور غلطیوں کو دیکھ کر بھی خاموش رہنے لگتے ہیں۔
اصل شعور وہ ہے جو انسان کو سوال کرنا، حق بات کہنا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سکھائے۔
تحریر: عثمان عاشق
کہانی نمبر: 13
![]()

