صفائی نصف ایمان: یورپ کی گندی تاریخ اور ہمارا المیہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تاریخ کے اوراق میں جھانکیں تو انسانیت کے عروج و زوال کے قصے ملتے ہیں، مگر کچھ قصے ایسے بھی ہیں جو ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ آخر ترقی کی دوڑ میں آگے نکلنے والی اقوام کیسی زندگی گزار رہی تھیں۔ پندرہویں صدی کا یورپ، جہاں آج ہم جدیدیت اور تہذیب کی بنیادیں ڈھونڈتے ہیں، دراصل گندگی اور بیماریوں کی آماجگاہ تھا۔ اس دور کی کیسٹائیل کی ملکہ ازابیلا کی زندگی اس کی واضح مثال ہے۔ وہ 1474 میں سپین کی ملکہ بنی اور 1504 میں اس دنیا سے رخصت ہوئی، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے اپنی پوری زندگی میں صرف دو مرتبہ نہایا: ایک بار جب وہ پیدا ہوئی اور دوسری بار جب اس کی شادی ہوئی۔ اس کا شوہر بادشاہ فرڈینینڈ بھی اس سے زیادہ صاف ستھرا نہیں تھا، اس نے بھی صرف ایک بار نہایا، اور اسے غسل جنابت کا تصور تک نہیں تھا۔ نہ نہانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملکہ ازابیلا کے سر میں لاکھوں جوئیں پڑ گئیں، جو اس وقت “خدا کے موتی” کہلاتی تھیں۔ اس کی کھال ادھڑنے لگی اور بالآخر یہ جوئیں ہی اس کی موت کا سبب بنیں۔ یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ ایک ملکہ جوؤں کی وجہ سے مر جائے، مگر اس وقت اسے قابل رشک موت سمجھا جاتا تھا۔
یورپ کی یہ گندگی صرف ملکوں تک محدود نہیں تھی بلکہ پوپ اور امرا بھی اس سے متاثر تھے۔ پوپ کلیمنٹ پنجم پیچش کی وجہ سے مر گیا، اور وجہ صرف یہ تھی کہ وہ پاخانہ اور پیشاب کے بعد ہاتھ نہیں دھوتا تھا۔ اس کی آنتوں میں سوزش ہو گئی اور وہ الٹیاں اور دست کرتے کرتے دم توڑ گیا۔ انگلینڈ کے ڈیوک آف نورفوک نے مذہبی بنیادوں پر نہانے سے انکار کر دیا تھا، نتیجتاً اس کے جسم پر پھوڑے نکل آئے جن میں پیپ بھر گئی۔ نوکر اسے شراب پلا کر نشے میں زخم صاف کرتے تھے، اور اسی بیماری میں وہ ہلاک ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب انگلینڈ میں وگ پہننے کا فیشن عام تھا، کیونکہ لوگ نہاتے نہیں تھے اور جوؤں کی وجہ سے بال کٹوا کر وگ پہن لیتے تھے۔
نہ نہانے کی اس لت نے یورپ کو آتشک جیسی مہلک بیماری سے دوچار کر دیا۔ یہ بیماری بیکٹیریا کی وجہ سے پھیلتی ہے اور سیکس کے بعد نہ نہانے سے جنسی اعضاء پر دانہ نکل آتا تھا، جو چھے مہینوں میں پورے جسم اور پھر ہڈیوں تک پھیل جاتا تھا۔ 1580 تک لاکھوں یورپی اس بیماری کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اتر گئے۔ فرانس کے بادشاہ کنگ لوئی چودہویں کی مثال تو اور بھی عجیب ہے، جو 1638 میں پیدا ہوا اور 1715 تک زندہ رہا، مگر ستتر سال کی زندگی میں صرف دو بار نہایا، اور وہ بھی ڈاکٹروں کے اصرار پر۔ اس کے جسم سے ریچھ جیسی بدبو آتی تھی، اور دنیا بھر سے آنے والے بادشاہ، وزیر اور سفیر اس سے گلے ملنے سے گریز کرتے تھے۔ لوگ ہاتھ ملانے سے بھی بھاگتے تھے کیونکہ بدبو ناقابل برداشت تھی۔
یورپ میں دانت صاف کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا، امیر عورتیں پیلے دانتوں پر فخر کرتی تھیں اور اگر کسی کے دانت سفید ہوتے تو وہ شرم سے مسکراتی بھی نہیں تھیں۔ شہروں کی گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ برسلز میں دو افراد کا ایک ساتھ گزرنا مشکل تھا، اور گھروں کا گندا پانی ان گلیوں میں بہتا تھا، جس سے بارشوں میں نالے کا منظر پیش ہوتا تھا۔ پورے فرانس میں کوئی باتھ روم نہیں تھا، اور لوگ ٹٹی پیشاب کرنے کے بعد پچھواڑہ دھونے کے بجائے صرف خوشبو لگا لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس کی خوشبوئیں مشہور ہوئیں کہ وہ گندگی کی بدبو چھپانے کا واحد ذریعہ تھیں۔ ٹشو پیپر تو اٹھارہویں صدی میں ایجاد ہوا، اس سے پہلے لوگ کپڑے سے صفائی کرتے تھے، جو صرف امیروں کی پہنچ میں تھا۔ غریبوں کے پاس تو صفائی کا کپڑا بھی نہیں تھا، اور وہ سالوں تک ایک ہی انڈر ویئر استعمال کرتے رہتے تھے۔
ملکہ الزبتھ جس کی گوری چمڑی اور لال بال آج بھی ہمیں لبھاتے ہیں، اپنے بالوں کو رنگنے کے لیے پیشاب میں کیمیکل ملاتی تھی، کیونکہ پیشاب میں موجود ایمونیا بلیچ کا کام کرتا تھا۔ اسی طرح پرانے وقتوں میں پیشاب سے کپڑے دھوئے جاتے تھے۔ سینیٹری پیڈز کی ایجاد تو ابھی حال کی ہے، اس سے پہلے عورتیں ماہواری کے دوران گندے کپڑوں کو پانی سے کھنگال کر دوبارہ استعمال کرتی تھیں، جس سے انفیکشن عام تھے۔
یہ تھی اس یورپ کی تصویر جسے آج ترقی کی معیار سمجھا جاتا ہے۔ اب ذرا اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں، ہم جہاں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے گھر، گلیاں، بازار، سب گندے پڑے ہیں۔ ہر طرف پان، ماوا، نسوار، سگریٹ اور چھالیہ کے ڈبے بکھرے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر کی کوئی دیوار ایسی نہیں جو پان گٹکے کی پِک سے سرخ نہ ہو۔ شہر ہوں یا دیہات، کچرے کے ڈھیر لگے ہیں۔ ہم کہیں بھی بیٹھ کر پیشاب کر دیتے ہیں، کہیں بھی تھوک دیتے ہیں، اور سگریٹ کے سلگتے ٹکڑے جہاں پڑتے ہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ مساجد کے واش رومز بدبودار اور غلیظ ہیں، وضو خانوں میں نسوار جا بجا ملے گی۔
افسوس کہ ہم نے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی سمجھ لیا، مگر بنیادی اخلاقیات اور صفائی کو پس پشت ڈال دیا۔ یورپ کی تاریخ سے سبق لینے کی بجائے ہم خود اس گندگی کا شکار ہو رہے ہیں جو ہمارے ایمان کا منہ چڑھا رہی ہے۔ صفائی نصف ایمان ہے، مگر ہمارے ظاہر و باطن دونوں گند سے بھرے پڑے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی عادات بدلیں، صفائی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اور اس پیغام کو سمجھیں کہ ہم مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اپنے گرد و پیش کو بھی پاک رکھنا ہوگا۔ ورنہ یورپ کی گندی تاریخ ہمارے مقدر بن کر رہ جائے گی۔
#صفائی_نصف_ایمان #یورپ_کی_تاریخ #پاکستان_کی_گندگی #مسلمان_اور_صفائی #گندگی_کے_نتائج #تاریخ_یورپ #صفائی_کی_اہمیت #ہمارا_المیہ
![]()

