
21 رمضان المبارک – یومِ شہادت حضرت علی مولا کرم اللہ وجہہ الکریم۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دِلوں کو مرکزِ مہر و وفا کر
حریمِ کبریا سے آشنا کر
جسے نانِ جویں بخشی ہے تُو نے
اُسے بازُوئے حیدرؓ بھی عطا کر
شرح:
یہ رباعی دراصل ایک نہایت بلیغ اور معنوی دعا ہے جس میں انسان کی باطنی تعمیر، روحانی معرفت اور عملی قوت کو یکجا کرنے کی آرزو ظاہر ہوتی ہے۔ یہ علامہ اقبال کی بارگاہِ الٰہی میں التجا ہے کہ دلوں کو محبت، اخلاص اور وفاداری کا ایسا مرکز بنا دے جہاں کینہ، خود غرضی اور بے وفائی کا گزر نہ ہو، اور انہیں اپنی کبریائی کے حریم سے آشنا کر دے تاکہ انسان کے اندر خدا شناسی، خشیتِ الٰہی اور حقیقتِ بندگی کا شعور بیدار ہو جائے۔ پھر وہ انسانی فقر و سادگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس انسان کو تو نے صرف نانِ جویں یعنی سادہ اور قلیل رزق عطا کیا ہے، اسے روحانی اور اخلاقی عظمت سے بھی محروم نہ رکھ بلکہ اسے بازوئے حیدرؓ جیسی جرأت، استقامت اور قوتِ کردار بھی عطا فرما؛ یعنی اس کے اندر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی سی شجاعتِ ایمانی، حق گوئی، عدل پسندی اور باطل کے مقابل ڈٹ جانے والی غیرت پیدا کر دے۔ اس طرح یہ رباعی ایک ایسے کامل انسان کی تصویر پیش کرتی ہے جس کا دل محبت سے معمور، روح خدا کی معرفت سے منور اور کردار حیدری جرأت و عزیمت کا مظہر ہو۔
مشکل الفاظ کے معانی:
مہر: محبت، شفقت، دل کی گرمجوشی، حریمِ کبریا: اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قرب کا مقدس مقام یا اس کی معرفت کا دائرہ، نانِ جویں: جو کی روٹی؛ سادہ اور معمولی خوراک، جو یہاں فقر و سادگی کی علامت ہے، بازوئے حیدرؓ: حضرت علیؓ کی قوت، شجاعت اور بہادری کی علامت۔
(بالِ جبریل، رباعیات)
![]()
