Daily Roshni News

“کُن فَيَكُونُ” اور ورچوئل رئیلٹی : خالقِ حقیقی اور انسانی تخلیق کا ایک حیرت انگیز موازنہ۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

“کُن فَيَكُونُ” اور ورچوئل رئیلٹی (VR): خالقِ حقیقی اور انسانی تخلیق کا ایک حیرت انگیز موازنہ

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)اکیسویں صدی میں انسان نے ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جسے ہم “ورچوئل رئیلٹی” (Virtual Reality) یا مجازی حقیقت کہتے ہیں۔ ایک ہیڈ سیٹ آنکھوں پر لگا کر انسان ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جو بظاہر حقیقی لگتی ہے، جہاں وہ دیکھ سکتا ہے، سن سکتا ہے اور اشیاء کو محسوس کر سکتا ہے۔ دوسری طرف، قرآنِ مجید ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا تعارف ان دو عظیم الفاظ میں کراتا ہے: “کُن فَيَكُونُ” (ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے)۔ بظاہر ان دو تصورات میں زمین آسمان کا فرق ہے، لیکن اگر ہم جدید سائنسی ترقی کے تناظر میں ان پر گہری نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ورچوئل رئیلٹی درحقیقت انسان کی طرف سے “کن فیکون” کی صفت کو سمجھنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش اور ایک جدید استعارہ ہے۔ ہمیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ سائنسی بات قرآن نے چودہ سو سال پہلے بتائی تھی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل کائناتوں کی اس تخلیق نے ہمیں اللہ کی اس صفتِ تخلیق کو سمجھنے کا وہ فہم عطا کیا ہے جو پہلے کے انسانوں کے لیے ایک معمہ تھا۔ آج کا کمپیوٹر پروگرامر جب کوڈز کے ذریعے ایک پوری دنیا کھڑی کرتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر ہمیں اس “کائناتی پروگرامنگ” کی جھلک دکھا رہا ہوتا ہے جس کا حکم باری تعالیٰ صرف ایک لفظ “کُن” سے دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا انداز انسانوں جیسا محتاج اور مادی نہیں ہے۔ انسان کو کوئی بھی مادی چیز بنانے کے لیے خام مال، وقت، مشقت اور مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن وہ ذات جو مادے اور وقت دونوں کی خالق ہے، وہ ان اسباب کی پابند نہیں۔ قرآنِ حکیم میں اللہ کی اس مطلق قدرت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے:

إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ ۝

(ترجمہ: اس کا کام تو یہی ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے فرماتا ہے: “ہو جا”، تو وہ ہو جاتی ہے)۔ — (سورۃ یٰس: 82)

یہاں “ارادہ” اور “قول” کے درمیان کوئی مادی رکاوٹ یا وقت کا فاصلہ نہیں ہے۔ اللہ کا صرف ارادہ کر لینا ہی تخلیق کے لیے کافی ہے۔ جدید سائنس میں جب ہم ورچوئل رئیلٹی (VR) کے نظام کو دیکھتے ہیں، تو ایک پروگرامر ڈیجیٹل دنیا بنانے کے لیے اینٹ اور پتھر کا استعمال نہیں کرتا، بلکہ وہ “کوڈ” (Code) لکھتا ہے۔ وہ کمپیوٹر کے پروسیسر کو ایک “حکم” (Command) دیتا ہے کہ “اس مقام پر روشنی پیدا ہو جائے” یا “یہاں ایک پہاڑ کھڑا ہو جائے”، اور وہ سسٹم ان ڈیجیٹل احکامات کو فوری طور پر ایک بصری حقیقت میں بدل دیتا ہے۔ اس ڈیجیٹل دنیا کے اندر، وہ پروگرامر ایک طرح کا مجازی خالق ہوتا ہے جس کے احکامات پر وہ پوری دنیا سانس لیتی ہے۔ اگر ایک محدود انسان، صرف باقاعدہ کوڈز اور کمانڈز کے ذریعے ایک ایسی مجازی دنیا کھڑی کر سکتا ہے جو بالکل اصلی معلوم ہوتی ہے، تو ہمیں یہ سمجھنے میں اب کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ربُّ العالمین، جو کائنات کا حقیقی ڈیزائنر ہے، وہ اپنے ایک حکم “کُن” سے اس مادی کائنات کو عدم سے وجود میں کیسے لاتا ہوگا۔

ورچوئل رئیلٹی ہمارے لیے ایک ایسا جدید فکری پل ہے جو ہمیں “خالق اور مخلوق” کے تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ آج کی “سمولیشن تھیوری” (Simulation Theory) پر بحث کرنے والے بڑے بڑے سائنسدان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کہیں ہماری یہ مادی کائنات بھی کسی اعلیٰ ذہانت (Super Intelligence) کا ڈیزائن کردہ کوئی “پروگرام” تو نہیں؟ قرآنِ مجید کے اشارات ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ کائنات اللہ کے کلمات اور اس کے احکامات کا مجموعہ ہے۔ جس طرح ایک VR گیم کے اندر موجود کرداروں کے لیے وہ ڈیجیٹل دیواریں بالکل ٹھوس ہوتی ہیں، لیکن باہر بیٹھے پروگرامر کے لیے وہ محض ایک انفارمیشن یا کوڈ ہوتا ہے، بالکل اسی طرح ہمارے لیے یہ مادی دنیا ٹھوس ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے یہ اس کے ارادے اور حکم کا مرہونِ منت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے ہمیں یہ بصیرت عطا کی ہے کہ انفارمیشن (Information) یا “کلمہ” مادے (Matter) سے زیادہ طاقتور اور بنیادی حقیقت ہے۔ قرآن کا “کُن” وہ کائناتی انفارمیشن ہے جو مادے کو ترتیب دیتی ہے۔

تاہم، انسانی تخلیق اور خالقِ حقیقی کی تخلیق میں ایک بہت بڑا اور بنیادی فرق ہے جسے ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ انسان جب VR کی دنیا بناتا ہے، تو وہ اسے “کچھ نہیں” (Ex Nihilo) سے نہیں بناتا۔ وہ اللہ کے دیے ہوئے دماغ، پہلے سے موجود بجلی، کمپیوٹر ہارڈویئر اور مادی توانائی کا محتاج ہے۔ اگر بجلی کا سوئچ بند کر دیا جائے تو اس کی بنائی ہوئی پوری مجازی خدائی ایک سیکنڈ میں معدوم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، اللہ کا “کن فیکون” کسی بیرونی سبب یا مادے کا محتاج نہیں۔ وہ “عدم” سے وجود لاتا ہے اور یہ پوری کائنات صرف اور صرف اس کے ارادے کے سہارے قائم ہے۔ اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی اپنے ارادے کو ہٹا لے، تو پوری کائنات فنا ہو جائے گی۔ انسانی تخلیق ایک نقل ہے، جبکہ اللہ کی تخلیق اصل اور حقیقی ہے۔ ورچوئل رئیلٹی ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اگر انسان کو دیے گئے علم کے ایک ادنیٰ سے ذرے سے وہ یہ ڈیجیٹل عجائبات بنا سکتا ہے، تو اس ذات کی شان کیا ہوگی جو پوری کائنات کے ذرے ذرے کا خالق اور نگران ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ ورچوئل رئیلٹی اور جدید ترین ٹیکنالوجیز دراصل اللہ کی وہ نشانیاں (آیات) ہیں جو ہمیں اس کی قدرت کو سمجھنے کے لیے نئے استعارے فراہم کرتی ہیں۔ یہ ہمیں عاجزی سکھاتی ہیں کہ جب ہماری بنائی ہوئی مجازی دنیا اتنی پیچیدہ ہو سکتی ہے، تو حقیقی کائنات کا نظام کس قدر عظیم الشان ہوگا۔ “کُن فَيَكُونُ” وہ حقیقت ہے جس نے کائنات کو عدم سے وجود بخشا اور آج کی سائنسی ترقی ہمیں اس قدرتِ کاملہ کے سامنے سرنگوں ہونے کی دعوت دے رہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان ٹیکنالوجیز کو صرف تفریح کا ذریعہ نہ بنائیں، بلکہ ان کے ذریعے کائنات کے اس عظیم ڈیزائنر کی معرفت حاصل کریں جس کا ایک حکم پوری کائنات کی تقدیر بدلنے کے لیے کافی ہے۔

حوالہ جات:

The Simulation Hypothesis: An MIT Computer Scientist Explains (By Rizwan Virk).

Programming the Universe: A Quantum Computer Scientist Takes on the Cosmos (By Seth Lloyd).

Information Theory and the Divine Command (Scientific-Theological Perspectives).

قرآنِ حکیم: سورۃ یٰس (82)، سورۃ البقرہ (117)، سورۃ النحل (40)۔

تفسیرِ تفہیم القرآن اور معارف القرآن (کن فیکون کی تشریح)۔

#کن_فیکون #ورچوئل_ریئلٹی #اسلام_اور_سائنس #قرآن_اور_جدید_ٹیکنالوجی #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #خالق_حقیقی #سمولیشن_تھیوری #ایمان_اور_عقل #طارق_اقبال_سوہدروی #KunFayakun #VirtualReality #TechAndFaith

Loading