کتاب نظریہ رنگ و نور
“خلا”
تحریر۔۔۔حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ
گذشتہ سے پیوستہ
قانون:
طولانی حرکت ، محوری حرکت، مکان وزمان کی دونوں حالتیں طولانی سمت میں اور محوری سمت میں ایک ساتھ گردش کرتی ہیں۔ یہ دونوں گردشیں مل کر شعور کے اندر مسلسل تخلیق کرتی رہتی ہیں۔ لٹو کا گھومنا زمانی اور مکانی دونوں طرح ہوتا ہے۔ لٹو محوری گردش میں گھومتا ہے۔ طولانی گردش میں آگے بڑھتا ہے۔ آگے بڑھنا زمانیت ہے اور محوری گردش میں اپنے مرکز میں دائروں میں گھومنا مکانیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ طولانی اور محوری گردش دونوں مل کر زمانیت اور مکانیت کی تخلیق کرتی ہیں۔ ہم طولانی گردش کو اپنے حواس میں سیکنڈ، منٹ، گھنٹے، دن ، ماہ و سال اور صدیوں کی شکل میں جانتے ہیں اور شمار کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی طولانی گردش کو اپنے حواس میں منٹ یا مکانیت کا وقفہ شمار کرتے ہیں مثلاً جب ہماری نظر آسمان پر اٹھتی ہے تو ہمارے حواس میں سیکنڈ، منٹ کے وقفے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ جبکہ ہمارا شعوری تجربہ ہے کہ ہم چند سوقدم سے آگے نہیں دیکھ سکتے۔ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے ہیں، لاکھوں میل ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔ چاند، سورج، ستاروں اور اجرام فلکی کو دیکھنا اس لئے ممکن ہے کہ ہم طولانی گردش کے ساتھ محوری گردش میں بھی سفر کر رہے ہیں۔
واہمہ، خیال، تصور یہ تینوں حالتیں طولانی گردش کی ایک ہی سمت واقع ہوتی ہیں اور محسوساتی حالت محوری گردش میں واقع ہے۔
انتخاب : نسرین اختر عظیمی
![]()

