*مراقبہ*
“کرنے” سے “ہونے” تک کا سفر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مراقبہ کیا ہے؟ یہ سوال صرف ایک لفظ کی تعریف طلب نہیں کرتا، بلکہ انسانی وجود کی اس گہری کیفیت کی کھوج ہے جو ہماری روزمرہ زندگی کے ہر لمحے میں رچی بسی ہے۔
ہماری جدید دنیا نے انسان کو مشین بنا دیا ہے۔ اس کی قدر کا پیمانہ اس کا “کام” ہے، اس کی “کامیابیاں” ہیں، اس کا “حصول” ہے۔ ہم صبح اٹھتے ہیں تو ایک طویل فہرست ہماری منتظر ہوتی ہے—کیا کرنا ہے، کیا پانا ہے، کہاں جانا ہے۔ زندگی ایک دوڑ بن کر رہ گئی ہے، اور ہم اس دوڑ میں اس قدر الجھ گئے ہیں کہ بھول گئے ہیں کہ ہم خود کون ہیں۔
لیکن حقیقت میں انسان کی اصل قدر اس کے “وجود” (Being) میں چھپی ہے، نہ کہ اس کے “عمل” (Doing) میں۔ خود شناسی “کرنے” سے “ہونے” تک کے سفر کا نقشہ ہے۔ یہ ظاہر سے باطن کا سفر ہے۔ یہ وقت کی قید سے نکل کر “حال” کے ابدی لمحے میں اترنے کی دعوت ہے۔
۔
ہماری جدید دنیا میں انسان کی قدر اس کے “کام” (Achievement) سے لگائی جاتی ہے، جبکہ حقیقت میں انسان کی اصل قدر اس کے “وجود” (Being) میں چھپی ہے۔ کرنا (Doing) یہ بقا کی ضرورت ہے (کھانا، کمانا، حرکت) اور یہ وقت (Time) کی قید میں ہے۔ ہونا (Being) یہ روح کی ضرورت ہے۔ یہاں وقت تھم جاتا ہے اور صرف “حال” (Present Moment) باقی رہ جاتا ہے۔ “ہونا” وہ مرکز ہے جہاں سے تمام تخلیق جنم لیتی ہے۔ اگر مرکز میں سکون نہ ہو، تو عمل (Doing) میں بھی برکت اور خوبصورتی نہیں رہتی۔
*فطری حالت، ہونا بمقابلہ کرنا*
ہونا ہماری فطری حالت ہے، کرنا محض اس کا اظہار ہے۔ آپ کو اپنے ہونے کے لیے کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا؛ آپ بغیر کچھ کیے بھی “ہوتے” ہیں۔ آپ کا “ہونا” آپ کے عمل کا محتاج نہیں، بلکہ اس “ہونے” سے ہی “کرنا” جنم لیتا ہے۔ “کرنا” دراصل “ہونے” کی بنیاد پر قائم ہے؛ پہلے آپ ہیں، پھر آپ کرتے ہیں۔
”ہونے” کی حالت میں صرف “آپ” ہوتے ہیں، جبکہ “کرنا” محض جسم اور ذہن کی ایک سرگرمی ہے۔ “کرنے” میں زمان و مکان (Time & Space) کی قید ہے، جبکہ “ہونے” میں کوئی مادی سرگرمی نہیں—نہ وقت کا بوجھ، نہ جگہ کی حدود، صرف ایک پُرکشش خالی پن ہے۔ اس خالی پن میں خالص ہونا (Pure Being) ہی آپ کا “حقیقی سیلف” ہے۔
کچھ نہ کرنے کا فن: بیداری اور خود شناسی
اصل مراقبہ ہر قسم کی کوشش سے دستبرداری کا نام ہے۔ یہ دراصل کچھ “کرنے” کا نام نہیں، بلکہ سب کچھ چھوڑ کر “فارغ” ہو جانے کا نام ہے۔ یہ کسی مقصد کے بغیر، بس خاموش بیٹھ جانا (Just Sitting) ہے۔ کچھ نہ کرنا (بے عملی) ہی “بیداری اور خود شناسی” (Enlightenment) کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ جب انسان کچھ نہیں کرتا اور اپنی “انا” (Ego) کی مداخلت ختم کر دیتا ہے، تو کائناتی نظام کے تحت سب کچھ خود بخود درست سمت میں ہونے لگتا ہے۔
اسے “انتخاب کے بغیر آگہی” (Choiceless Awareness) بھی کہا جاتا ہے۔ سچا مراقبہ وہ ہے جہاں کوئی مخصوص “طریقہ” نہ ہو اور نہ ہی کوئی “کرنے والا” (Doer) موجود ہو۔ جب آپ کسی خاص مقصد کے بغیر صرف مشاہدہ کرتے ہیں، تو وہی اصل مراقبہ ہے۔
*ذہنی منتقلی*
یہ Doing Mode (کچھ کرنے کی کیفیت) سے Being Mode (صرف ہونے کی کیفیت) میں منتقلی ہے۔ انسانی ذہن عموماً “مسائل حل کرنے” (Doing) میں الجھا رہتا ہے؛ مراقبہ کا مقصد اس خود ساختہ دوڑ کو بند کر کے صرف “ہونے” کے احساس میں ٹھہر جانا ہے۔ “ہونا” ہی منزل ہے۔ ایک قدیم قول ہے: “خاموش بیٹھو، کچھ نہ کرو، بہار آتی ہے اور گھاس خود بخود اگتی ہے۔”
*خواہش: مستقبل کی معمار*
ہم لمحہ موجود سے کیوں نکل جاتے ہیں؟ کیونکہ ہمیں کچھ “چاہیے” ہوتا ہے۔ جب کچھ پانے کی طلب ہوتی ہے، تو ذہن مستقبل کی تعمیر شروع کر دیتا ہے۔ جیسے ہی “چاہنے” کا عمل شروع ہوا، آپ حال سے ہجرت کر گئے۔
*حل کیا ہے؟*
ضرورت میں جیئیں، خواہش کو چھوڑ دیجیے۔ چاہنا ہمیں “ہونے” سے “کرنے” میں لاتا ہے اور اندر سے باہر حواس کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ “نہیں چاہیے” ہمیں “کرنے” سے واپس “ہونے” کی طرف لاتا ہے اور باہر سے آزاد کر کے اندر خود شناسی میں لاتا ہے۔
”چاہیے” میں آپ کرتے ہیں، “کچھ نہیں چاہیے” میں آپ کچھ نہیں کرتے، صرف ہوتے ہیں۔ اس کرنے سے ہونے میں آنے کے لیے “چاہت” سے دستبردار ہوجائیں۔ بے آرزو ہو کر جینا سیکھیں۔ قناعت اختیار کرنا ذہنی آزادی ہے، اور بے نیازی ہی خود شناسی ہے۔
کچھ نہیں چاہیے میں جیئیں! جب کچھ نہیں چاہیے، تو مستقبل کیسے بنے گا؟ جب مستقبل نہیں ہوگا، تو آپ کہیں جا نہیں سکیں گے، اور جب کہیں جا نہیں سکیں گے تو آپ “ہو” جائیں گے۔ آپ کا ‘ہونا’ ہی آپ کی اصل حقیقت ہے۔
موجود (حال) میں کیسے جیئیں؟
حال میں جیا نہیں جا سکتا، حال میں صرف ہوا جا سکتا ہے۔ زندگی جب بھی “عمل” کی صورت میں ہوگی وہ حال میں نہیں رہ پاتی۔ آپ لمحہ موجود میں تب ہوتے ہیں جب آپ کو کچھ نہیں چاہیے ہو۔
جیسے ہی آپ کو کچھ “چاہیے”، مستقبل بننے لگتا ہے۔ جب آپ لگاؤ اور ناپسندیدگی سے پوری طرح آزاد ہو جاتے ہیں تو آپ لمحہ موجود میں آ جاتے ہیں۔ اگر کچھ نہیں چاہیے تو آپ پھنسیں گے نہیں، بلکہ اپنے آپ میں واپس آ جائیں گے۔ حال میں صرف “ہوا” جا سکتا ہے، جیسے ہی آپ نے اسے “جینے” (حرکت) کی کوشش کی، آپ ماضی یا مستقبل میں چلے گئے۔ کچھ نہیں چاہیے کی کیفیت میں آپ پریسنٹ میں “ہو” جائیں گے۔ نہ سکھ نہ دکھ، نہ نیکی نہ بدی، نہ میرا نہ کرتا۔
ترک دنیا، ترک عقبیٰ، ترک مولا، ترک ترک
یعنی یوں بےآرزو ہونے کی عادت کے دیکھ۔
انتباہ (ہوشیار)
بے نیازی، سستی نہیں بلکہ بیداری ہے
یہاں یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ “کچھ نہ چاہنے” یا “صرف ہونے” کی یہ کیفیت دنیا سے فرار یا کسی قسم کی رہبانیت اور سستی کا نام نہیں ہے۔ یہ ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ جانے کا پیغام نہیں، بلکہ یہ تو اندرونی آزادی کا وہ مقام ہے جہاں آپ دنیا کے تمام کام مادی ضرورت کے تحت تو کرتے ہیں، لیکن آپ کا سکون ان کے نتائج کا محتاج نہیں رہتا۔
جب ہم کہتے ہیں کہ “خواہش کو چھوڑ کر ضرورت میں جیئیں”، تو اس کا مطلب اپنی صلاحیتوں کو معطل کرنا نہیں، بلکہ عمل کو “انا” کے بوجھ سے آزاد کرنا ہے۔ ایک بیدار انسان وہ ہے جو بظاہر بازار کی رونق میں سب کچھ کر رہا ہوتا ہے، لیکن اس کا مرکز (Being) اندرونی طور پر اتنا مستحکم اور بے نیاز ہوتا ہے کہ اسے کسی چیز کے پانے کی حرص اور کھو دینے کا خوف حال سے محروم نہیں کر پاتا۔ یہ بے نیازی دراصل اعلیٰ درجے کی خود شناسی ہے۔ جب آپ اپنے “ہونے” میں ٹھہر جاتے ہیں، تو آپ کا ہر “کرنا” عبادت اور تخلیق بن جاتا ہے۔
از: حکیم وجاہت عمر
03096207007
![]()

