پراجیکٹ سلیکا اور انسانی بقا کی کہانی
تحریر۔۔۔ محمد شاہ زیب صدیقی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر۔۔۔ محمد شاہ زیب صدیقی)دوستوں سنہ 1849 میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ آسٹن ہنری لیئرڈ نے نینوا کے کھنڈرات میں کھدائی کی تو اسے مٹی کی درجنوں تختیاں ملیں۔ یہ تختیاں محض مٹی نہیں تھیں، بلکہ انسانی یادداشت کا پہلا محفوظ شدہ عکس تھیں۔ ان پر بادشاہوں کے فرمان، جنگوں کے احوال، اور عام انسانوں کے روزمرہ کے معاملات تک درج تھے۔ یہ وہ الفاظ تھے جو لکھنے والوں کے مرنے کے ہزاروں سال بعد بھی زندہ تھے اور ہمیں اُس دور کے انسانی معاشرے کا پتہ دے رہے تھے۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ حضرت انسان نے وقت کو دھوکہ دے کر اپنے آپ کو تاریخ میں زندہ رکھنے کی کئی کوششیں کیں، اس جستجو میں کبھی غار کی دیواروں پر تصاویر نقش کیں تو کبھی مٹی کی سلیٹوں پر اپنے احوال لکھے۔ اسی جستجو میں کاغذ بنایا، سی ڈیز بنائی، ہارڈ ڈرائیوز ایجاد کیں، اور آخرکار اپنی معلومات کا انبار ذخیرہ کرنے کے لئے کلاؤڈ بیسڈ ٹیکنالوجی تخلیق کی۔ اس سب کے بعد ہمیں لگا کہ اب ہم نے اپنی یادوں کو ہمیشہ کے لیے اپنا غلام بنا لیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معیاری کاغذ چند سو سال ہی محفوظ رہتا ہے، ہماری جدید ترین سی ڈیز اور ہارڈ ڈرائیو میں محفوظ ڈیٹا بھی صرف چند دہائیوں کا مہمان ہوتا ہے۔ کلاوڈ سٹوریج والے سرورز بھی نہ صرف مسلسل بجلی کے محتاج ہیں بلکہ یہ ایک عارضی نظام ہے، جو ایک دن خاموش ہو جائے گا۔ یہاں پہنچ کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ انفارمیشن کا جو سیلاب امڈ چکا ہے، اس کو محفوظ کرنے کا کوئی تو راستہ ہونا چاہیے تاکہ ہزاروں سال بعد بھی دور حاضر کا ڈیجیٹل ڈیٹا ویسا ہی کارآمد رہے جیسے آج ہے۔
فرض کریں کہ ہزاروں سال پہلے گزر جانے والے افراد کی زندگی کو اگر ہم اپنے سامنے تصویری شکل میں دیکھ پاتے تو انسانی تاریخ حقیقی انداز میں ہم سمجھ سکتے، کتنے ہی مغالطوں سے بچ جاتے، کتنے اختلافات حل ہوجاتے۔ کتنی کتب اور علوم کو سابقہ ظالم حکمرانوں نے ضائع کردیا۔ چلیں مان لیا کہ اُس وقت ٹیکنالوجی کا فقدان تھا لیکن اب انسان اس قابل ہے کہ کوشش کرکے اپنی قیمتی معلومات کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھ سکتا ہے لیکن اس کے لیے سائنسدانوں کو واپس ہزاروں سال قدیم طریقے کی جانب جانا پڑے گا۔ اگر تب کا انسان مٹی کی تختیوں اور جانوروں کی کھالوں پر انفارمیشن کو محفوظ کرتا تھا تو آج کا انسان شیشے کو اپنی یادداشت کا مرکز بنا رہا ہے۔
مائکروسافٹ کے سلیکا پراجیکٹ میں شامل سائنس دانوں نے شیشے کی سلیٹس میں لیزر کی مدد سے ڈیٹا محفوظ کرنا شروع کردیا ہے۔
یہ شیشہ عام شیشہ نہیں، بلکہ خالص سلیکا گلاس ہے، جس کے اندر فیمٹو سیکنڈ لیزر کی مدد سے ایسے ننھے نشانات بنائے جاتے ہیں جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتے، مگر اپنے اندر مکمل کہانیاں سمو سکتے ہیں۔ یہ نشانات شیشے کی سطح پر نہیں ہوتی، بلکہ شیشے کی گہرائی میں دفن ہوتے ہیں، جیسے کسی شفاف سمندر میں یادداشت کی تہیں جما دی گئی ہوں۔
لیزر چونکہ شیشے میں سے گزر جاتی ہے لہٰذا اس کو اگر ہم شیشے کے اندرونی حصے میں فوکس کریں تو شیشے کی سطح کو نقصان پہنچائے بغیر ڈیجیٹل ڈیٹا کو بائنری کوڈز کے انداز میں شیشے کے اندر لکھا جاسکتا ہے، بعد میں اس کو ڈی کوڈ بھی کیا جاسکتا ہے (جیسے آجکل ڈیٹا کو کیو آر کوڈز میں محفوظ کرکے بعدازاں ڈی کوڈ کرلیا جاتا ہے)۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک اے فور سائز صفحے جتنی بڑی گلاس سلیب میں 180 ٹیرابائٹ ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے!
سن 2019ء میں مائکروسافٹ کے سائنس دانوں نے “پراجیکٹ سلیکا” کے تحت اسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 76 گیگابائٹ کی “سُپرمین” فلم کو ایک ننھے سے شیشے کے ٹکڑے میں محفوظ کیا۔ پھر اس شیشے کو کھولتے پانی میں ڈالا گیا، شدید گرمی میں رکھا گیا، اس کی سطح کو خراشا گیا لیکن اس نے باوجود اس میں سے فلم کو صحیح سلامت واپس ڈاؤنلوڈ کرلیا گیا۔ان کے مطابق، یہ شیشہ دس ہزار سال تک ڈیٹا محفوظ رکھ سکتا ہے۔
دس ہزار سال بہت بڑی مدت ہے، اس کو ایسے سمجھیے کہ انسان دو لاکھ سال سے زمین پر موجود ہے لیکن آج سے دس ہزار سال قبل انسان نے کاشتکاری کرنا شروع اور تہذیبیں بنائیں لہٰذا انسان نے جتنی ترقی کی وہ انہی دس ہزار سال میں کی۔ یعنی شیشے میں محفوظ کیا گیا ڈیٹا انسان کی پوری recorded civilization سے بھی زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتا ہے۔
یہ کتنا عجیب خیال ہے کہ جس طرح آج ہم مٹی کی تختیوں کو پڑھ کر ایک کھوئی ہوئی دنیا کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں، اسی طرح مستقبل کا کوئی انسان شیشے کے ایک ٹکڑے کو جدید ٹیکنالوجی سے پڑھ کر ہماری دنیا کو دوبارہ زندہ کرے گا، ہماری ویڈیوز اور اہم معلومات کو ڈاؤنلوڈ کرلے گا۔
شاید اس وقت ہماری عمارتیں مٹی بن چکی ہوں گی، ہماری زبان بدل چکی ہوگی، شاید انسان کی ہئیت بھی بدل گئی ہو اور ہمارا نام صرف ایک اجنبی آواز بن چکا ہوگا… مگر ایک شفاف ٹکڑا خاموشی سے گواہی دے رہا ہوگا کہ ہم یہاں تھے اور ہماری یادداشت روشنی کی صورت میں شیشے کے اندر اُس وقت بھی سانس لے رہی ہوگی!
زیب نامہ
#زیب_نامہ
#SilicaGlass #سلیکا_گلاس #Microsoft #مائیکروسافٹ #ProjectSilica #پراجیکٹ_سلیکا
![]()

