Daily Roshni News

تاریخِ اسلام میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا

تاریخِ اسلام میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تاریخِ اسلام میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہی میں سے ایک واقعہ تیمور لنگ کا ظہور تھا، جو ابھرتی ہوئی سلطنت عثمانیہ کے لیے ایک بڑی مصیبت ثابت ہوا۔

اس زمانے میں عثمانی سلطنت کا ستارہ تیزی سے بلند ہو رہا تھا اور اس کی قیادت عظیم مجاہد سلطان بایزید اول کے ہاتھ میں تھی، جنہیں ان کی برق رفتار جنگی مہمات کی وجہ سے “یلدرم” (بجلی) کہا جاتا تھا۔ انہوں نے یورپ کی متحدہ عیسائی افواج کو جنگ نیکوپولس ۱۳۹۶ء میں شکست دے کر اسلامی قوت کا لوہا منوا لیا تھا۔

لیکن اسی دوران مشرق میں ایک نیا فاتح ابھرا، جسے تاریخ تیمور لنگ کے نام سے جانتی ہے۔

تیمور لنگ نے ایک بہت بڑی فوجی طاقت کے ذریعے ایک وسیع سلطنت قائم کی۔ اس کی حکومت ماوراءالنہر، خراسان، ایران، شام، ہندوستان کے بعض حصوں اور روس و اناطولیہ کے علاقوں تک پھیل گئی۔ تاریخی روایات کے مطابق وہ برلاس نامی ترک النسل قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے خاندان کے افراد کا تعلق کسی نہ کسی طرح چنگیز خان کے خاندان سے جوڑا جاتا تھا، جس کی وجہ سے منگول قبائل میں اس کی اہمیت بڑھ گئی۔

تیمور لنگ ایک عجیب نظریہ رکھتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا:

“جب آسمان میں خدا ایک ہے تو زمین پر بادشاہ بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔”

اسی خیال نے اس کے اندر پوری دنیا پر حکومت کرنے کی خواہش پیدا کر دی۔

جب یورپ کے حکمرانوں نے تیمور لنگ کی طاقت کے بارے میں سنا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انہیں امید تھی کہ شاید یہ شخص سلطان بایزید اول کی طاقت کو توڑ دے گا، جس نے یورپ کو مسلسل شکستوں سے دوچار کر رکھا تھا۔

چنانچہ بعض یورپی حکمرانوں نے خفیہ طور پر تیمور لنگ سے رابطہ کیا اور اسے عثمانیوں کے خلاف ابھارا۔ اس طرح دونوں طاقتوں کے درمیان دشمنی کی آگ مزید بھڑک اٹھی۔

سیواس پر حملہ

آخرکار سنہ ۸۰۴ ہجری / ۱۴۰۲ء میں تیمور لنگ نے اناطولیہ کی طرف پیش قدمی کی اور سیواس شہر پر قبضہ کر لیا۔ اس شہر کی حفاظت عثمانی دستے کر رہے تھے جن کی قیادت سلطان بایزید کے بیٹے ارطغرل کر رہے تھے۔ تیمور لنگ نے شہر فتح کرنے کے بعد اس کے محافظوں کو قتل کروا دیا۔

یہ خبر سن کر سلطان بایزید اول نے فیصلہ کیا کہ اب تیمور لنگ کا مقابلہ کیا جائے۔

جنگِ انقرہ

بالآخر دونوں عظیم لشکر ۱۹ ذی الحجہ ۸۰۴ ہجری / ۲۰ جولائی ۱۴۰۲ء کو جنگ انقرہ ۱۴۰۲ء کے میدان میں آمنے سامنے آئے۔

سلطان بایزید کے لشکر میں بہت سے تاتاری سپاہی بھی شامل تھے۔ تیمور لنگ نے خفیہ طور پر انہیں پیغامات بھیجے اور کہا کہ تم میرے ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہو، اس لیے میری طرف آ جاؤ۔

جنگ شروع ہوتے ہی ان میں سے بہت سے سپاہی اور کچھ اناطولیہ کے امرا سلطان بایزید کا ساتھ چھوڑ کر تیمور لنگ سے جا ملے۔

اس غداری کے نتیجے میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور عثمانی لشکر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی جنگ میں سلطان بایزید اول گرفتار ہو گئے۔

سلطان بایزید کی وفات

سلطان بایزید کو قید میں رکھا گیا۔ تقریباً آٹھ ماہ بعد وہ غم اور صدمے کی حالت میں ۱۵ شعبان ۸۰۵ ہجری / ۱۰ مارچ ۱۴۰۳ء کو وفات پا گئے۔

ان کی وفات مسلمانوں کے لیے ایک بڑا سانحہ تھی، کیونکہ وہ ایک بہادر مجاہد اور عظیم سپہ سالار تھے۔

سلطان بایزید کی گرفتاری اور وفات کے بعد عثمانی سلطنت میں کچھ عرصے کے لیے شدید انتشار پیدا ہو گیا جسے تاریخ میں عثمانی خانہ جنگی کا دور کہا جاتا ہے۔

تیمور لنگ نے بعد میں اپنے عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے شام کے ساحلی علاقوں میں بعض صلیبی قلعوں پر حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ وہ اسلام کی خدمت کر رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ نے ابھرتی ہوئی عثمانی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا اور اسلامی دنیا کو ایک بڑے سیاسی بحران میں ڈال دیا۔

تحریر:محمد سہیل

Loading