
جراثیم سے پاک پانی ایک موثر دوا۔۔۔!
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم وہی ہیں جو ہم کھاتے ہیں جبکہ ذہنی صحت کے ماہرین کہتے ہیں کہ ہم وہی ہیں جو ہم سوچتے ہیں۔
ہمارا کھانا پینا، ہماری سوچ اور ہمارا طرز زندگی، ہمارے جسم، ہماری صحت اور ہماری شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔
کیا وجہ ہے کہ ہم بہار ہو جاتے ہیں…..؟ علاج کے لیے دواؤس کا سہارا کیوں لینا پڑتا ہے ؟۔ اگر غذائیت و ذہنی صحت کے ماہرین کی باتوں پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ صحت کے لیے اچھی، صاف اور متوازن غذا ضروری ہے۔ انسانی جسم خلیوں، ٹشوز ، گلینڈز اور عضویات سے مل کر بنتا ہے۔ ان ہی کی وجہ سے انسان روز مرہ کے کام انجام دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہاری کی بنیادی وجہ انسان کے جسمانی نظام کا کمزور ہوتا ہے۔
انسان کا جسمانی نظام اسی وقت توانا اور مضبوط ہو سکتا ہے جب جسم کو تمام غذائی اجزاء اس کی ضرورت کے مطابق ملتے رہیں۔
جسم میں ایسے نظام بھی ہر وقت مصروف عمل رہتے ہیں جو بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کا کام امراض کے خلاف مزاحمت کرنا ہے۔ یہ مدافعتی نظام ہی ہو تا ہے جو بہاری پر قابو پاتا ہے، دوا اس عمل میں ایک مددگار کا کام دیتی ہے۔
بیماری کی صورت میں صفائی ستھرائی، آرام، صحت بخش غذا اور جراثیم سے پاک پانی صحت کی بحال کے لیے ضروری ہیں۔
جراثیم سے محفوظ پانی
پانی وہیں کئی پانی جہاں زندگی ہے وہیں کئی بیماریوں کا موجب اور منبع بھی ہے۔ پیٹ کی تقریباً اسی فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے باعث ہوتی ہیں۔ تے ، دست اسہال، ہیموں کے علاوہ کالرا ( ہیضہ) ٹائیفائیڈ اور یر قان جیسے امراض کا سبب گندہ پانی ہوتا ہے۔ اس لیے اب Water Is Life کی بجائے Clean Water Is Healthier
Life کہا جارہا ہے۔ اگر صاف اور جراثیم سے محفوظ پانی کا استعمال سیکھ لیا جائے تو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ پانی کو جراثیم سے پاک کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ پانی کو تقریبا ہیں منٹ ابال کر اسے صاف ستھرے ململ کے کپڑے میں چھان کر صاف بوتلوں میں محفوظ کر لیا جائے تو قے اور دست کی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ دست اور قے کی بیماریاں بہت سے علاقوں میں بچوں کی صحت کی خرابی حتی کہ اموات کا عام سبب بنتی ہیں۔ جن علاقوں میں پانی آلودہ ہو وہاں دستوں کی بیماری کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ پینے یا کھانے کی تیاری میں استعمال ہونے والے پانی کو بھی ابال لیا جائے۔ یہ احتیاط خاص طور سے شیر خوار بچوں کے لیے ضروری ہے۔ بچوں کی دودھ پینے کی بوتلیں (فیڈر) اور کھانے کے برتنوں کو بھی ابال لینا چاہیے۔ اگر بو تلوں کو بار بار ابالنا ممکن نہ ہو تو زیادہ محفوظ طریقہ یہ ہے کہ بچوں کو پانی پلانے کے لیے ایک علیحدہ کپ اور صحیح استعمال کیا جائے۔ واش روم سے آتے ہی فورا صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھو ئیں۔ کھانا کھانے سے قبل بھی ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھو ئیں۔
دستوں کی بیماری سے بچوں میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بچوں کو نمک اور شکر ملا ہوا پانی دیا جانا چاہیے۔ اس سے بچے کے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی دور کی جا سکتی ہے۔
ORS سے ملا ہوا پانی ( جس میں شکر اور نمک ملایا گیا ہو) پلا کر بچے کے جسم میں پانی کی کمی کو دور کیا جا سکتا ہے۔
اور آر ایس بنے بنائے پیکٹوں میں بھی میڈیکل اسٹور سے بآسانی مل جاتا ہے۔ یہ پانی گھر پر بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ایک گلاس یا 200 ملی لیٹر پینے کا صاف بہتر ہے کہ ابلا ہوا پانی لیں۔ پانی ایک صاف برتن میں ڈالیں۔
اس میں تھورا سا نمک ملائیں اب صاف پیچ سے پانی کو ہلائیں، تاکہ نمک پانی میں پوری طرح حل ہو جائے۔ اب ایک چائے کا چمچ چینی سے بھر کر پانی میں ڈال دیں اور پیچ سے محلول ہلا کر چینی اچھی طرح سے گھول لیں۔ چینی نہ ہو، تو گڑ بھی استعمال
کیا جا سکتا ہے۔
…. ایک مہینہ سے لے کر دو سال کے بچوں کو ایک اونس یہ پانی ہر دست کے بعد دینا چاہیے۔ ….. دو سال سے پانچ سال کے بچوں کو آدھا گلاس پانی ہر دست کے بعد دینا چاہیے۔
….. پانچ سال سے دس سال کی عمر کے بچوں کو یون گلاس پانی ہر دست کے بعد دینا چاہیے۔ … اس سے بڑی عمر کے بچوں کو ایک گلاس پانی ہر دست کے بعد دینا چاہیے۔
… عام حالات میں جسم کو ہر روز پانی کی ایک خاص مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا دن بھر میں کئی مرتبہ مناسب وقلے سے پانی پینا ضرور ہے۔ عام طور پر آٹھ سے بارہ گلاس پانی پینا چاہیے مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ عام طور پر لوگ اتنا پانی نہیں پیتے جس کے باعث ان کے جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے جو بعض اوقات کئی تکالیف کا سبب بنتی ہے اور انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ
![]()
