تحریر: حقیت اور فسانہ
وہ سپاہی جس نے اپنے بھائی کو میدان جنگ میں چھوڑ دیا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رات کا اندھیرا اپنے عروج پر تھا۔ خیموں میں سناٹا چھایا ہوا تھا، مگر ایک خیمے سے کراہنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ یوسف کروٹیں بدل رہا تھا، اس کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی۔ اچانک وہ چیختا ہوا اٹھ بیٹھا۔ “نہیں! ابراہیم! مجھے معاف کردے!”
خیمے کے دوسرے سپاہی چونک کر اٹھ بیٹھے۔ ایک بوڑھا سپاہی، ابو سعید، جلدی سے یوسف کے پاس آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “یوسف، پھر وہی خواب؟ پرسکون ہوجاؤ، یہ صرف خواب ہے۔”
یوسف کانپتے ہوئے بولا، “خواب نہیں ابو سعید، حقیقت ہے۔ حقیقت جو مجھے ہر رات ستاتی ہے۔ میں نے اسے وہاں چھوڑ دیا۔ میرا اپنا بھائی، اور میں اسے چھوڑ کر بھاگ گیا۔”
ابو سعید نے گہری سانس لی۔ ان دنوں جنگ جاری تھی۔ صلیبی جنگوں کا دور تھا، اور مسلمانوں کے اپنے اندرونی اختلافات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ دو بھائی، دو طرفہ جنگ میں شریک تھے۔ یوسف صلاح الدین ایوبی کی فوج میں تھا، اور ابراہیم، اس کا چھوٹا بھائی، صلیبیوں کے ساتھ مل کر لڑ رہا تھا۔
یوسف اور ابراہیم کی کہانی کوئی عام نہیں تھی۔ وہ اکھٹے پلے بڑھے تھے، اکھٹے کھیلے تھے، اور ایک ہی استاد سے قرآن پڑھا تھا۔ لیکن جب صلیبیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو حالات بدل گئے۔ ابراہیم کی بیوی اور بچے یروشلم میں تھے۔ مصیبت کی گھڑی میں، جب وہ اپنے گھر والوں کو لینے گیا تو صلیبیوں نے اسے گرفتار کرلیا۔ کئی سال قید میں رہنے کے بعد، جب وہ رہا ہوا تو اس کا ذہن تبدیل ہوچکا تھا۔ اسے یقین دلایا گیا تھا کہ مسلمان حکمران ہی اس کے خاندان کی تباہی کا سبب بنے۔ وہ تلخ ہوچکا تھا اور اس نے صلیبیوں کا ساتھ دینا شروع کردیا۔
یوسف نے کئی بار اسے سمجھانے کی کوشش کی، مگر ابراہیم بہک چکا تھا۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ تھا جو اس کے اپنے دین کے دشمن تھے۔ یہ المیہ تھا کہ دو بھائی اب مخالف صفوں میں کھڑے تھے۔
جنگ حطین سے پہلے کی ایک رات، دونوں بھائیوں کی ملاقات ہوئی۔ یوسف نے ابراہیم کو آخری بار سمجھانے کی کوشش کی۔
“ابراہیم، بھائی، واپس آجا۔ یہ لوگ ہمارے دشمن ہیں۔ وہ ہمارے مقدس مقامات کو مٹا رہے ہیں۔”
ابراہیم کی آنکھوں میں نفرت تھی۔ “مقدس مقامات؟ وہ کونسے مقدس مقامات جنہوں نے میری بیوی اور بچوں کی حفاظت نہ کی؟ جب وہ قید میں تھے تو تمہارے اللہ نے انہیں کیوں نہ بچایا؟”
یوسف نے اسے بازو سے پکڑ لیا۔ “اللہ ہماری آزمائش کرتا ہے۔ صبر کا بدلہ ضرور ملتا ہے۔ واپس آجا، میں تیرے ساتھ ہوں۔”
ابراہیم نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ “اب دیر ہوچکی ہے یوسف۔ میں اپنا راستہ خود چن چکا ہوں۔ کل میدان جنگ میں اگر ہم آمنے سامنے ہوئے تو کوئی رعایت نہیں کرنا۔”
یہ کہہ کر وہ اندھیرے میں گم ہوگیا۔ یوسف وہیں کھڑا رہ گیا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
اگلے دن جنگ شروع ہوئی۔ یہ حطین کا میدان تھا، جہاں مسلمانوں کی فتح نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ مگر یوسف کے لیے یہ دن کبھی بھلایا نہ جا سکنے والا درد لے کر آیا۔
جنگ عروج پر تھی۔ تلواروں کی چمک، گھوڑوں کے سموں کی آواز، اور زخمیوں کی کراہیں فضا میں گونج رہی تھیں۔ یوسف نے دیکھا کہ کچھ فاصلے پر ایک سپاہی گھوڑے سے گرا ہے۔ وہ قریب گیا تو اس کے قدم جم گئے۔ وہ ابراہیم تھا، اس کا چھوٹا بھائی، خون میں لتھڑا ہوا۔
یوسف دوڑ کر اس کے پاس گیا۔ ابراہیم کے سینے سے خون بہہ رہا تھا، تلوار کا گہرا زخم تھا۔ وہ بہت کمزور تھا، مگر اس نے آنکھیں کھولیں تو یوسف کو دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی۔
“یوسف… تم… تم ٹھیک ہو؟”
یوسف نے اسے سینے سے لگا لیا۔ “ابراہیم، میں تمہیں لے کر چلتا ہوں۔ تم ٹھیک ہوجاؤگے۔”
ابراہیم نے کمزور ہاتھ سے اس کا بازو پکڑا۔ “نہیں یوسف… بہت دیر ہوچکی ہے۔ تم… تم جاؤ، جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔”
اسی لمحے، دشمن کی فوج کا ایک دستہ وہاں سے گزر رہا تھا۔ انہوں نے دونوں بھائیوں کو دیکھ لیا۔ یوسف کے پاس وقت نہیں تھا۔ اگر وہ وہیں رہتا تو دونوں مارے جاتے۔
ابراہیم نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور بولا، “جاؤ یوسف، میری لاش کو مت روکو۔ تمہاری ضرورت تمہاری فوج کو ہے۔”
یوسف کا دل چاہتا تھا کہ وہ وہیں مرجائے، مگر اس کی آنکھوں نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا جو ابھی تک لڑ رہے تھے۔ وہ اپنے بھائی کو چھوڑ کر اٹھا۔ اس نے ایک نظر ابراہیم کو دیکھا، اور پھر دوڑتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ اس کے کانوں میں ابراہیم کی آواز گونج رہی تھی، “اللہ حافظ، میرے بھائی…”
جنگ ختم ہوئی، مسلمانوں کو فتح ہوئی، مگر یوسف کی روح ہار چکی تھی۔ وہ دن میں تو خاموش رہتا، مگر رات کو اس کی نیند اڑ جاتی۔ ہر رات وہی خواب، وہی منظر، ابراہیم کی آنکھیں اسے گھور رہی ہوتیں۔
“تم نے مجھے چھوڑ دیا، تم نے مجھے چھوڑ دیا۔”
یوسف ہر رات پسینے میں شرابور اٹھتا۔ اس کے ساتھی اسے تسلی دیتے، مگر وہ اندر ہی اندر جل رہا تھا۔
ایک رات، اس نے فیصلہ کرلیا۔ وہ اپنے بھائی کی لاش واپس لائے گا، چاہے اسے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ دشمن کی فوج ابھی تک علاقے میں موجود تھی، اور مسلمانوں نے اپنے مردوں کی لاشیں اکٹھی کرلی تھیں، مگر صلیبیوں کی فوج نے اپنے مردوں کو ایک الگ جگہ دفن کیا تھا۔ ابراہیم انہیں میں تھا۔
یوسف نے اپنے کمانڈر سے اجازت مانگی تو انہوں نے منع کردیا۔ “یہ خودکشی ہے یوسف، تم وہاں سے زندہ نہیں لوٹوگے۔”
مگر یوسف کو کسی کی پرواہ نہ تھی۔ اس نے رات کا اندھیرا چنا۔ سیاہ لباس پہنا، کوئی ہتھیار نہیں لیا سوائے ایک خنجر کے جو اس نے چھپا لیا۔ وہ اکیلے دشمن کے علاقے کی طرف نکل پڑا۔
رات بہت تاریک تھی، چاند بھی بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔ یوسف رینگتا ہوا آگے بڑھا۔ فاصلے پر دشمن کے خیموں میں روشنیاں تھیں، اور پہرے دار چکر لگا رہے تھے۔ اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر اللہ سے دعا مانگی اور آگے بڑھا۔
قبرستان کے قریب پہنچ کر اس نے دیکھا کہ وہاں کوئی پہرہ نہیں تھا۔ شاید انہیں یقین تھا کہ کوئی اتنی بےوقوفی نہیں کرے گا کہ اکیلے دشمن کے علاقے میں آئے۔ یوسف نے جلدی سے قبریں کھودنی شروع کردیں۔ اس کا دل دھڑک رہا تھا، ہر لمحے اسے ڈر تھا کہ کوئی آگیا۔
آخرکار اسے ابراہیم کی لاش ملی۔ وہ اسی حالت میں تھی، مگر اس کا چہرہ عجیب طور پر پرسکون تھا۔ یوسف نے اسے سینے سے لگایا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
“بھائی، میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ مجھے معاف کردو کہ تمہیں یہاں چھوڑ کر گیا تھا۔”
اسی لمحے، پیچھے سے آواز آئی۔ “وہاں کون ہے؟”
یوسف چونک کر پیچھے مڑا۔ چند سپاہی وہاں کھڑے تھے، ان کے ہاتھوں میں مشعلیں تھیں۔ ان میں سے ایک نے آگے بڑھ کر کہا، “تم مسلمان ہو؟ یہاں کیسے آئے؟”
یوسف نے آہستہ سے ابراہیم کی لاش کو زمین پر رکھا اور کھڑا ہوگیا۔ اس نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے کہ اس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے۔
“میرا نام یوسف ہے، اور یہ میرا بھائی ہے۔ میں اسے لینے آیا ہوں۔”
سپاہیوں نے تعجب سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ان کا سردار، ایک لمبا شخص جس کے چہرے پر جنگ کے نشان تھے، آگے بڑھا۔ اس نے غور سے یوسف کو دیکھا۔
“تم وہ سپاہی ہو جو اسے جنگ میں چھوڑ کر بھاگ گیا تھا؟”
یوسف کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ “ہاں، میں وہی ہوں۔ میں بزدل تھا، میں نے اپنے بھائی کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ مگر اب میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر تم مجھے مارنا چاہتے ہو تو مار دو، مگر پہلے اس کی لاش مجھے لے جانے دو۔”
خاموشی چھا گئی۔ سردار نے قریب آکر ابراہیم کی لاش کو دیکھا۔ پھر اس نے یوسف کی طرف دیکھا۔
“کیا تم جانتے ہو کہ یہ شخص ہمارے ساتھ تھا؟ اس نے ہمارے لیے لڑائی کی۔ مگر تم، اس کے دشمن، اس کی لاش لینے آئے ہو؟”
یوسف نے کہا، “وہ میرا بھائی ہے۔ خون کا رشتہ کبھی دشمنی نہیں بن سکتا۔ چاہے وہ کسی بھی طرف لڑا ہو، وہ میرا بھائی ہے۔”
سپاہیوں میں سے ایک جوان نے تلوار نکال لی۔ “یہ مسلمان ہے، ہمیں اسے مار دینا چاہیے۔”
مگر سردار نے اسے روک دیا۔ وہ خاموش کھڑا یوسف کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے کہا، “تم جانتے ہو، ہماری تاریخ میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ ہمارے اپنے بھائی، ہمارے اپنے رشتہ دار، جو مختلف لشکروں میں لڑے۔ تمہاری یہ وفاداری قابل احترام ہے۔”
اس نے اپنی تلوار نیچے کی اور آگے بڑھ کر بولا، “جاؤ، اپنے بھائی کو لے جاؤ۔ تمہیں کوئی روکے گا نہیں۔”
یوسف کو یقین نہیں آرہا تھا۔ اس نے سردار کی طرف دیکھا۔ “تم ہمیں جانے دوگے؟”
سردار نے سر ہلایا۔ “تمہاری جرات اور تمہارے بھائی کے لیے تمہاری محبت نے مجھے متاثر کیا ہے۔ جاؤ، اور اسے عزت سے دفن کرو۔”
یوسف نے ابراہیم کی لاش اٹھائی اور آہستہ آہستہ وہاں سے چل دیا۔ اس کے پیچھے دشمن کے سپاہی خاموش کھڑے اسے دیکھتے رہے۔
ہمارے فیس بک پیج کو لائک کریں تاکہ ایسی ہی دلچسپ کہانیاں پڑھتے رہیں۔
یوسف جب اپنے خیمے میں واپس آیا تو سارا لشکر حیران رہ گیا۔ اس نے ابراہیم کو غسل دیا، کفن پہنایا، اور خود اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ قبر کے پاس کھڑے ہو کر اس نے دعا مانگی:
“اللہ، میرے بھائی کو معاف فرما۔ وہ بہک گیا تھا، مگر تیری رحمت سے دور نہیں تھا۔ اسے جنت الفردوس میں جگہ دے۔”
اس کے بعد اس نے قبر میں مٹی ڈالی۔ اس دن اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ ابراہیم کی روح اب سکون میں ہے۔
یہ واقعہ جلد ہی پورے لشکر میں پھیل گیا۔ سپاہی یوسف کی وفاداری کی داستانیں بیان کرتے۔ صلاح الدین ایوبی نے خود یوسف کو بلایا اور اس کی جرات کو سراہا۔ انہوں نے کہا، “تم نے ہمیں سکھایا ہے کہ خون کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔ تم نے دشمن کے سامنے بھی اپنے بھائی کا حق ادا کیا۔”
یوسف نے جواب دیا، “حضور، میں نے صرف اپنا فرض نبھایا۔ میرے بھائی نے غلط راستہ چنا، مگر وہ میرا بھائی تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اسے واپس لا سکا۔”
صلاح الدین نے فرمایا، “تم نے ہمیں ایک سبق دیا ہے کہ جنگ میں بھی انسانیت نہیں مرنی چاہیے۔”
تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جہاں بھائی بھائی کے خلاف لڑے۔ صلیبی جنگوں میں، اندرونی خانہ جنگیوں میں، اور دوسری بہت سی جنگوں میں، خاندان تقسیم ہوئے۔ مگر ان تمام میں، خون کا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہا۔ اسلامی تاریخ میں حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے اپنے مسلمان بھائیوں سے جنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ امت کا خون بہانا انہیں گوارا نہ تھا۔
کیا آپ کو معلوم تھا؟
-
جنگ حطین 1187ء میں لڑی گئی، جس میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کو شکست دی اور یروشلم فتح کیا۔ اس جنگ میں کئی مسلمان ایسے تھے جو صلیبیوں کے ساتھ مل کر لڑے، کیونکہ انہیں گمراہ کیا گیا تھا یا وہ مجبور تھے۔
-
جنگ بدر میں بھی مسلمانوں اور قریش کے درمیان ایسے رشتہ دار تھے جو ایک دوسرے کے خلاف لڑے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا بیٹا عبدالرحمن، اس وقت مسلمان نہیں ہوا تھا اور قریش کی طرف سے لڑا۔ بعد میں وہ مسلمان ہوئے اور باپ بیٹے کا رشتہ بحال ہوا۔
-
جنگ یرموک میں، ایک عیسائی عرب سپاہی نے اپنے مسلمان بھائی کو پانی پلایا، حالانکہ وہ مخالف صفوں میں تھے۔ بعد میں وہ مسلمان ہوگیا۔
-
حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں، ایک مسلمان سپاہی نے اپنے بھائی کو جو ایرانی فوج میں تھا، قید کرلیا مگر اسے قتل نہیں کیا، بلکہ عزت کے ساتھ رکھا۔ جب یہ واقعہ حضرت عمرؓ کو پتہ چلا تو انہوں نے اس کی تعریف کی۔
-
جنگ صفین میں حضرت علیؓ اور معاویہؓ کی افواج میں کئی بھائی آمنے سامنے تھے۔ مگر حضرت علیؓ نے ہمیشہ نصیحت کی کہ مسلمان کا خون بہانا بہت بڑا گناہ ہے۔
یوسف کی کہانی آج بھی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جنگوں میں انسان کیا کھو دیتا ہے۔ خاندان، رشتے، محبتیں، سب کچھ سیاست اور اختلاف کی نذر ہوجاتے ہیں۔ مگر کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں ٹوٹتے۔
ابراہیم کی قبر آج بھی موجود ہے، اس پر پھول چڑھائے جاتے ہیں۔ یوسف ہر جمعرات کو اس کی قبر پر جاتا اور فاتحہ پڑھتا۔ لوگ اسے “بھائیوں کا سپاہی” کہہ کر پکارتے تھے۔
آج سے صدیوں بعد بھی، جب لوگ اس کہانی کو سنتے ہیں، تو ان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ محبت کبھی نہیں مرتی، چاہے حالات کتنے بھی مشکل ہوں۔ جنگوں میں لوگ ایک دوسرے کو مارتے ہیں، مگر رشتوں کی حرمت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
کیا آپ کو معلوم تھا؟
کہ جنگ حطین میں تقریباً 20,000 سپاہی مارے گئے تھے، اور ان میں سے کئی ایک ہی خاندان کے افراد تھے جو مختلف صفوں میں لڑے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب جنگ ختم ہوئی تو لوگ اپنے مرنے والوں کی لاشیں ڈھونڈتے پھرے، اور کئی ایسے تھے جنہیں اپنے بھائیوں کی لاشیں دشمنوں کے قبرستانوں میں ملئیں۔
اور کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلامی تاریخ میں “اخوۃ” یعنی بھائی چارے کی بہت سی مثالیں ہیں؟ حضرت محمد ﷺ نے مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں رشتوں کی کتنی اہمیت ہے۔
یوسف جب بوڑھا ہوا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی:
“میرے بیٹو، یاد رکھو کہ خون کا رشتہ کبھی نہ ٹوٹنے والا بندھن ہے۔ چاہے تم کتنے ہی بڑے اختلاف میں کیوں نہ پڑجاؤ، اپنے بھائی کو کبھی مت بھولنا۔ میں نے اپنے بھائی کو جنگ میں چھوڑ دیا تھا، اور اس کا داغ میرے دل پر ہمیشہ رہا۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے اس کی لاش واپس لانے کا موقع ملا، ورنہ میں جیتے جی مر جاتا۔”
یوسف کی وفات کے بعد اسے ابراہیم کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آج دونوں بھائی ایک ساتھ سو رہے ہیں، اس دنیا کی تمام جنگوں سے آزاد۔ ان کی قبریں اس بات کی گواہ ہیں کہ محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے، چاہے حالات کتنے بھی مخالف کیوں نہ ہوں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا خاندانی وفاداری، جنگ کی صف بندی سے بالاتر ہے؟ کیا یوسف نے صحیح کیا کہ وہ اپنے بھائی کی لاش لینے گیا؟ اگر آپ یوسف کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور اس کہانی کو شیئر کریں تاکہ اور لوگ بھی اس سبق سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ہمارے فیس بک پیج کو لائک کریں تاکہ آپ تک ایسی ہی کہانیاں پہنچتی رہیں۔
![]()

