
شادی کے لیے لڑکوں کو آخر کیسی لڑکیاں پسند ہیں۔۔۔؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ لائبہ کی مہندی کی تقریب تھی، ہال میں موجود لوگ خوش تھے۔ چند لڑکیاں ڈھولک بجارہی ) تھیں۔ مہندی کے گیت گائے جارہے ہیں۔ وہاں کچھ حضرات بھی تھے لیکن بے چینی سے کھانا کھلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ ایسے میں ساجدہ خالہ ایک ٹیبل پر گم صم بیٹھی دعائیں کر رہی ہیں کہ ان کا سامنا کلثوم سے نہ ہو جائے، جس نے پہلا سوال یہی کرنا ہے کہ کیا آپ نے اریب سے مسفراہ کے بارے میں بات کی ….؟ اریب دراصل ساجدہ خالہ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ ساجدہ خالہ اسے اپنے خاندان کی تقریباً تمام ہی لڑکیاں شادی کے لیے دکھا چکی تھیں۔ لیکن اریب ہر لڑکی میں کوئی نہ کوئی نقص نکال کر اسے ریجیکٹ کر دیتا۔ کسی لڑکی کا قد اسے چھوٹا لگتا تو کسی لڑکی کا (
رنگ سانولا۔ کبھی کسی لڑکی کے گھر والے اسے پسند نہیں آتے تو کبھی کسی لڑکی کا رہائشی علاقہ ۔ یہ مسئلہ صرف ساجدہ خالہ کا نہیں بہو کی تلاش میں مصروف اکثر نوجوان لڑکوں کی مائیں اس پریشانی سے دوچار ہیں۔ لڑکا خود چاہے کیسی ہی صورت اور سیرت کا حامل ہو۔ وہ کالا ہو یا گورا، اس کے سر پر بال ہوں یا نہ ہوں، لڑکی اسے گوری لیے بالوں والی اور خوبصورت چاہئے۔ آخر وہ کون سی مہ جبینیں ہیں جنہیں ہمارے بعض پاکستانی نوجوانوں نے اپنا یا ان کی ماؤں نے آئیڈیل بنار کھا ہے۔
اکٹر لڑکے کیسی لڑکی کو اپنا شریک حیات بنانا چاہتے ہیں ….؟
اس سوال کا جواب تلاش کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ اکثر لڑکوں کا پہلا معیار حسن و خوب صورتی ہے۔ دوسرا معیار لڑکی کا گھرانہ ہے۔
بعض لڑکے دوسرے معیار یعنی لڑکی کے گھرانے کے حوالے سے کچھ کمپرومائز کرنے پر تیار بھی ہو جاتے ہیں لیکن یہاں لڑکے کے والدین آڑے آسکتے ہیں۔ گھرانہ معیاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لڑکی کے گھر کا ماحول اور اس کے گھرانے کا مالی و سماجی اسٹیٹس لڑکے کے گھر کے ماحول اور ان کے مالی و سماجی اسٹیٹس کے ہم پلہ یا آس پاس ہو۔ تاہم شادی کو اپنے لیے مادی ترقی کا زینہ بنانے کے خواہش مند بعض لڑکوں کا پہلا معیار لڑکی کے والد کی مستحکم مالی حیثیت ہے۔ وہ ناصرف جہیز میں مکان، گاڑی یا دیگر قیمتی اشیاء چاہتے ہیں بلکہ شادی کے بعد بھی لڑکی کے والدین کی طرف سے مالی سپورٹ کی توقع رکھتے ہیں۔
رشتے کو مالی مفادات کا ذریعہ بنانے والے ایسے لڑکوں یا بہت جہیز کی توقع رکھنے والی ماؤں کے بارے میں تو کچھ کہنا لا حاصل ہے۔ ہم یہاں ان لڑکوں کی بات کر رہے ہیں جو رشتے کے لیے ظاہری حسن کو اور جہیز سے ہٹ کر بعض دیگر معاملات کو اہمیت دیتے ہیں۔
نوجوان لڑکے شادی کے لیے کیسی لڑکی پسند کرتے ہیں ….؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں کئی پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہو گا۔
کئی گھرانوں میں لڑکے لڑکیوں کی شادی والدین کی جانب سے ان کے بچپن میں ہی طے کر دی جاتی ہے۔ ان گھرانوں میں خاندان یا برادری سے باہر شادی کرنے کا رواج نہیں ہے ا ہے۔ سو جو طے کر دیا گیا لڑکے اور لڑکی نے اسے تسلیم کرتا ہے۔ بعض گھرانوں میں صرف برادری میں شادی کی پابندی تو نہیں ہے لیکن والدین یہ کہتے ہیں کہ اپنے بیٹے کا رشتہ ہم خود اپنی پسند سے طے کریں گے۔ یہاں بھی لڑکے کی پسند نا پسند کو زیادہ اہمیت
نہیں دی جاتی۔
ایسے رواج زیادہ تر چھوٹے شہروں، قصبات، دیہی علاقوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ دیہی پس منظر سے تعلق رکھنے والے شہر میں آپنے والے کئی گھرانے بھی ایسے رواج اور روایات کی پابندی کرنا چاہتے ہیں۔
شہری علاقوں کے رہنے والے اکثر گھرانوں میں خاندان، برادری میں شادی کی کوئی پابندی نہیں ہوتی لیکن یہاں بھی بعض والدین لڑکے کی پسند پر اپنی پسند کو فوقیت دینا چاہتے ہیں۔
جن گھرانوں میں لڑکوں کو اپنی پسند بتانے کا اختیار نہیں وہاں بظاہر تو یہ سوال غیر اہم معلوم ہوتا ہے کہ لڑکے اپنے لیے کیسی لڑکیاں پسند کرتے ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان لڑکوں کے ذہنوں میں بھی شریک حیات کے حوالے سے کچھ نہ کچھ تو قعات تو ضرور ہوتی ہیں۔ جن گھرانوں میں لڑکوں کو شادی کے لیے اپنی رائے دینے یا پسند بتانے کی آزادی ہے ان کی تعداد بھی خاص طور پر شہروں میں تو کم نہیں ہے۔ شادی کے لیے اکثر لڑکوں کی پسند کا معیار کیا ہے…..؟
زیادہ ترلڑ کے اپنے لیے ایک خوب صورت، گوری، دبلی پتلی ، دراز قد لڑکی چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی جیون ساتھی ان کی تابع دار ہو۔ شوہر پر، سسرال والوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے والی نہ ہو۔ لڑکے چاہتے ہیں کہ ان کی دلہن ان کی والدہ یعنی اپنی ساس کا ادب و احترام کرنے والی ہو۔
لڑکیوں کی اچھی اور اعلیٰ تعلیم خود لڑکی کے لیے اس کے گھرانے اور پورے معاشرے کے لیے انتہائی مفید اور ضروری ہے لیکن موجودہ دور میں بھی کئی لڑکے زیادہ پڑھی لکھی لڑکی سے رشتہ جوڑنا مناسب نہیں سمجھتے۔ کچھ لڑ کے ملازمت پیشہ لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتے یا شادی کے بعد انہیں کام کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں ہوتے۔
کئی لڑکوں اور ان کے گھر والوں خصوصاً لڑکے کی والدہ کی جانب سے ہو کے لیے ان کے مقرر کردہ معیارات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان سے معقولیت کا کم اور سنجی جذبات و مفادات کا اظہار زیادہ ہوتا ہے۔ کئی عام سی شکل و صورت والے بیٹوں کی مائیں کوئی حور پری جیسی بہو لانا چاہتی ہیں۔ یقینا اپنے لیے بہتر کی تلاش ہر ایک کا حق ہے لیکن اس تلاش میں لڑکی والوں کی دل آزاری کا حق انہیں کس نے دے دیا ….؟ بارہا ایسا ہوا ہے کہ لڑکی دیکھنے کے لیے جانے والی کئی عورتیں اس وقت دوسروں کے جذبات و احساسات کو سمجھنے سے عاری ہو جاتی ہیں۔ لڑکی کا رنگ روپ، ناک نقشہ ، قد کاٹھ ایسے دیکھتی ہیں جیسے کسی انسان کو نہیں دیکھ رہیں، قربانی کے جانور یا گھر میں پالنے کے لیے کسی PET کو دیکھ رہی ہوں۔
لڑکی کی اچھی تعلیم ، اس کا مزاج، عادت، اس کی شخصیت کے کئی روشن اور مثبت پہلوؤں، لڑکی کے گھر کے اچھے ماحول، والدین کی شرافت اور دیگر کئی مثبت خصوصیات سے لڑکے کی والدہ اور ان کے ساتھ آئی خواتین کو کئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ کئی خواتین کو کوئی لڑکی اگر اچھی نہیں لگی تو وہ اس موقع پر بھی انتہائی بے مروتی سے کہہ دیتی ہیں کہ نہیں بھئی لڑکی کا رنگ بہت دیتا ہوا، اس کا تو قد چھوٹا ہے، ناک بہت موٹی ہے، دانت ابھرے ہوئے ہیں، مسکراتے ہوئے تو یہ بالکل اچھی نہیں لگتی۔”
اگر کوئی لڑکی شکل و صورت کے لحاظ سے کسی خاتون کے معیار پر پوری نہیں اترقی تو کم از کم اس وقت اخلاقی تقاضوں کو تو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ مئی 2018
![]()
