Daily Roshni News

آج البرٹ آئنسٹائن کی سالگرہ ہے۔اور اس موقعے پر سادہ سا خراج تحسین (سائنس اور سماج) کی طرف سے۔۔۔۔۔!!!تحریر: غلام نبی سولنگی

آج البرٹ آئنسٹائن کی سالگرہ ہے۔اور اس موقعے پر سادہ سا خراج تحسین (سائنس اور سماج) کی طرف سے۔۔۔۔۔!!!

تحریر: غلام نبی سولنگی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر: غلام نبی سولنگی )سائنس کی تاریخ میں بہت بڑے نام آئے ہیں،مگر چند لوگ ایسے ہوتے ہیں جو علم کی سمت ہی بدل دیتے ہیں جو ایک نئی سوچ کے ساتھ دنیا کو حیران کر دیتے ہیں،آئنسٹائن انہیں لوگوں میں شمار تھا۔۔۔۔۔!!!!

آئنسٹائن ایک عظیم سائنسدان کیوں تھے؟اس سوال کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے تاریخ کا پس منظر سمجھنا ہوگا، تقریباً دو سو سال تک دنیا کی فزکس نیوٹن کے دریافت قانون پر چل رہی تھی،نیوٹن کی کلاسیکل میکینکس فزکس کی وہ برانچ جس سے آپ سیاروں کی حرکت،توپ کے گولے کی سمت،چاند کی پوزیشن کی بھی پیشنگوئی کر سکتے ہو،مطلب فزکس کی وہ برانچ جو ہر چیز کی حرکت کے بارے میں بتائے،چاہے وہ بال ہو،پتھر ہو،چاند،زمین ہو،یا کوئی ایسٹروآئیڈ ہی کیوں نہ ہو یہ وہ تھیوری ہے جس کی مدد سے آپ مستقبل میں ہونے والی کسی چیز کی حرکت کی بھی پیشنگوئی کرسکتے ہیں،مثال کے طور پر دس سال بعد چاند کہاں پر ہوگا؟یا کسی فٹ بال کو 100 کلو میٹر فی کلاک کی رفتار سے پہیکا جائے تو وہ کتنی دیر کے بعد کہاں کریگا؟اور کہا رکے گا؟ یہ وہ قانون ہے نیوٹن کا جس نے  میکینکس کی مدد سے کلاسیکل فزکس کی فیلڈ میں طوفان برپا کردیا۔۔۔۔۔!!!

لیکن اصل مسئلہ وہاں سے شروع ہوا جب سائنسدانوں نے روشنی کی رفتار،اور بہت زیادہ رفتار پہ چلنے والی چیزوں کا مطالعہ کیا تو وہاں نیوٹن کے قوانین کمزور پڑنے لگے۔تو آئنسٹائن نے اسپیشل تھیوری دے کر بڑے پیمانے پر مسئلہ سلجھایا لیا،اس نے جب 1905 میں Special relativity کی تھیوری دی،تو ایک عجیب بات سامنے آئی کہ اگر کوئی چیز روشنی کی رفتار سے چلے تو اس کیلئے وقت سست ہو جاتا ہے،لمبائی بدل سکتی ہے،یعنی وقت اور جگہ کوئی سادا چیزیں نہیں،جو ہم روز مرہ زندگی میں سمجھتے ہیں۔مگر نیوٹن نے گریویٹی کے فیکٹر صحیح سے سمجھ اور بیان نہیں کرسکا،بلکہ اس کو آئنسٹائن نے کور کیا تھا آئنسٹائن جیسے جینیس نے وہیں پر اختتام نہیں کیا بلکہ اس نے سوچا کہ ریلیٹیویٹی کو اور واضح اور جامع انداز میں بھی پیش کیا جا سکتا ہے،اگر آسان الفاظ میں کہوں تو گریویٹی کے فیکٹر کی حرکت کے قوانین میں فٹ کرنے کو جنرل ریلیٹیویٹی کہتے ہیں۔جس میں ستارے،بلیک ہول،اور گلیکسیز کی حرکت کو بہترین نمونے میں بیان کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔!!!

آئنسٹائن نے 1915 میں یعنی اسپیشل ریلیٹیویٹی کے دس سال کی محنت کے بعد اس نے General Relativity پیش کی۔یہ تھیوری دراصل گریویٹی کی نئی تشریح تھی،نیوٹن کہتا تھا کہ کششِ ثقل ایک فورس ہے۔ آئن سٹائن نے کہا نہیں اصل میں بھاری اجسام خلا اور وقت کو موڑ دیتے ہیں، اور باقی چیزیں اسی مڑے ہوئے راستے پر چلتی ہیں۔جیسے ربڑ کی چادر پر کوئی بھاری گیند رکھیں تو وہ چادر مڑ جائیں گی بلکل ویسے ہیں،آج بلیک ہول،نیوٹران اسٹارز اور کاسمولوجی کی پوری سائنس اسی نظریے پر کھڑی ہے۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ جب آئنسٹائن نے یہ تھیوری پیش کی تھی تو اس وقت نا تو کوئی طاقتور دوربینیں تھی،نا ہی کمپیوٹر،نہ ہی انٹرنیٹ اور نا ہی کوئی خلائی مشنز۔۔۔۔۔!!

اس کے باوجود اس نے کچھ حیران کن پیشنگوئیاں کی جیسے کہ بلیک ہولز کا وجود،گریویٹیشنل ویوز،روشنی کا گریز (light bending)،وقت کا سست ہونا،اور یہ وہ پیشنگوئیاں تھی جسے ایک صدی کے بعد سائنسدانوں نے دریافت کیا Gravitational Waves کو بھی دریافت کر لیا۔ یعنی آئنسٹائن کی ریاضی نے حقیقت کو پہلے ہی بتا دیا تھا۔اس لیے آئنسٹائن کو صرف ایک عظیم سائنسدان ہی نہیں بلکہ سائنس میں انقلاب لانے والا ذہین بھی کہا جاتا ہے۔یہی تو سائنس کی اصل طاقت ہے کہ آپ آج بیٹھ کر کوئی ایسی پیشنگوئی کریں جو سو سال بعد بھی درست ہو یہ کمال صرف اور صرف سائنس کا ہے۔۔۔۔!!

سلام ہے آپ کو سر آئنسٹائن آپ ہمیشہ امر رہیں گے آپ کی سائنس میں خدمات ہمیشہ یاد کی جائے گی۔۔۔۔!!!

آخری بات یہ کہ آئن سٹائن اپنی بیوی سے اس قدر تنگ آ چکا تھا کہ اس نے نوبل انعام میں ملنے والی رقم اسے حقِ مہر کے بقایا کے طور پر دے دی۔ پھر وہ سوئٹزرلینڈ سے نکل گیا، پہلے جرمنی پہنچا اور آخرکار امریکہ جا کر سکون کا سانس لیا۔۔۔۔۔۔!!!

غلام نبی سولنگی

خوش رہیں سلامت رہیں اور سائنس سیکھتے رہیں۔۔۔۔۔۔۔!!!

#سائنس_اور_سماج

Loading