Religion as optimism
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کچھ لوگ مذہب کے دئیے گئے خدا پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ایک سپریم پاور پر یقین رکھتے ہیں ۔ یہ سوچ ان کو ایک وسعت دیتی ہے۔ اپنے مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایک روشن خیالی دیتی ہے۔ ان میں ایک پگمالین افیکٹ ڈالتی ہے۔ Pygmalion کا تصور، یا Pygmalion Effect، ایک نفسیاتی رجحان ہے جہاں کسی سے زیادہ توقعات بہتر کارکردگی کا باعث بنتی ہیں، ایک خود کو پورا کرنے والی پیشین گوئی کے طور پر کام کرتی ہے جہاں عقائد حقیقت کو متاثر کرتے ہیں۔
جیسے ایک شخص دعا کر کے کسی کام کو کرنے کی ٹھان لے تو وہ دعا کے کنٹرول آف الوژن میں اپنی اسائنمنٹ پہ زیادہ محنت کرکے کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ خدا میرے ساتھ ہے اور خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں ۔
یہ لوگ اپنے متشدد مذہب سے نہیں بلکہ ایمان سے جُڑے ہوتے ہیں ۔ یہ مذہبی ہوتے ہوئے بھی نرم مزاج ہوتے ہیں ۔ ان میں دوسرے غیر مذہبی لوگوں کے لئے نفرت شامل نہیں ہوتی۔یہ اپنے مذہب کی دی گئی نفرت اور تشدد سے باہر رہ کر استدلال کرتے ہیں ۔ جیسے مولانا ابوالکلام آزاد نے مذہب کی بنیاد پر خطے کی تقسیم اور نفرت کو غلط کہا۔
تھائی لینڈ کے لوگ بدھا کی مورتی کی بھی پوجا کرتے ہیں جبکہ بدھا نے مورتی پوجا سے منع فرمایا تھا۔ مگر ان لوگوں کی اخلاقیات اتنی بلند ہیں کہ ان کا سپر سٹیشئیس ہونا دنیا میں کوئی نفرت پیدا نہیں کرتا۔ یہ کم آواز میں مقدس گیت گاتے ہیں جس سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے ۔ ان کا ایمان ان کی ذات تک ہے۔ جس میں دوسرے مزاہب سے انھیں نفرت نہیں سکھائی گئی۔
بدھا نے جو تعلیمات دیں ان تعلیمات پہ ہوبہو عمل نہیں ہوا۔
جیسے بدھا نے کہا کہ موت کے بعد زندگی نہیں ملے گی مگر تھائی لینڈ کے لوگ دوبارہ زندگی ملنے پر یقین رکھتے ہیں ۔بدھا نے موت کے بعد زندگی کو مختلف انداز میں بیان کیا۔بدھا نے کہا کہ موت کے بعد جو چیز دوبارہ جنم لیتی ہے وہ ایک ہی شخص نہیں ہے اور نہ ہی بالکل مختلف انسان ۔بلکہ شعور اور کرم کے رجحانات کا تسلسل ہے۔جیسے اربوں سال پہلے کسی ستارے سے نکلے پارٹیکلز جس جس وجود میں بھی شامل ہیں ان تمام وجودوں میں ایک جیسا شعور ہے۔
بدھا نے کہا کہ پنر جنم پہ کسی بیرونی ہستی کی طرف سے سزا یا انعام نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ قدرت کا ایک سائیکل ہوگا۔بدھا کی اس بات کا حتمی مقصد نروان کے حصول کے لیے سمسار (دوبارہ جنم اور موت) کے چکر کو توڑنا تھا۔
مگر بدھزم پہ عمل کرنے والے بہت سے لوگ سمسار پر یقین رکھتے ہیں ۔ ایسا اس لئے ہے کہ انسان مکمل طور پر دوبارہ زندگی پانے کی خواہش سے باہر نہیں نکل پاتا۔ بڑے تصوارت کو سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔ کچھ لوگ توانا جسم ہوتے ہیں مگر نروان جیسے بڑے تصورات کو قبول کرنے میں کمزور ہوتے ہیں ۔ ایسے انسانوں کو اپنی اندرونی شدتوں اور خواہشات کی غلامی سے نمٹنے کے لئے امیدیں چاہئے ہی ہوتی ہیں ۔ یہ ایسی نیکیاں بناتے ہیں جن میں ان کی بھی بقاء ہوتی ہے اور دوسرے انسان کی بھی ۔ ان کے مذہبی قوانین اور اصولوں سے دوسرے مذہبی گروہ یا کسی بھی انسان کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ یہی “religion as optimism”ہے۔
مگر کچھ مذاہب میں دوسروں کو تکلیف پہنچانا بھی نیکی میں شامل ہوتا ہے۔ یہ مذہبی مفکر اپنی اندر کی جنگلی شدتوں کے مطابق مذہب بناتے ہیں ۔جیسے ایک انسان کے اندر جنگلی اور نفرت جیسی شدت بھی شامل ہوتی ہے جس شدت کو سکون دینے کے لئے وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں پہ ظلم کرتا ہے۔ اور اسے مقدس نفرت بنا کر ہر ایک پہ لازم کر دیتا ہے۔ ایسا مذہب انسانی اقدار اور اخلاقیات کو بہتر بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
ایسا مذہب خواتین کے نئے حقوق پہ ملنے کی بات کو بدکاری سمجھتا ہے۔ اور نئے زمانے کے مطابق نئی اخلاقیات کی مذمت کرتا ہے اور مذہبی احکام کے مطابق انھیں غیر واجب قرار دیتا ہے۔ جسے ہم کہیں گے “stagnant violent religion “۔
آپ کا مذہب کونسا ہے ۔۔۔۔؟
Religion as optimism
یا
Stagnant violent religion
اصباح نومینا
![]()

