Daily Roshni News

بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر

کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بِینا

تشریح:اس شعر میں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ غلاموں کی بصیرت (دور اندیشی، فہم و فراست) پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ غلامی انسان کی فکری اور روحانی صلاحیتوں کو محدود کر دیتی ہے۔ غلام صرف وہ نہیں جو جسمانی طور پر پابند ہو، بلکہ وہ بھی غلام ہے جو ذہنی طور پر کسی اور کے خیالات، نظام یا طاقت کے زیر اثر ہو۔

مردانِ حُر (آزاد مرد) وہ لوگ ہوتے ہیں جو ذہنی، فکری اور روحانی طور پر آزاد ہوتے ہیں۔ صرف یہی لوگ دنیا کے اصل حالات، مسائل اور سچائی کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں گہرائی اور بصیرت ہوتی ہے۔

فکری آزادی کے بغیر انسان دنیا کو صحیح طور پر نہیں دیکھ سکتا۔قوموں کی رہنمائی کے لیے بصیرت درکار ہے، اور وہ صرف آزاد سوچ رکھنے والے افراد کے پاس ہوتی ہے۔اگر کوئی قوم ترقی کرنا چاہتی ہے تو اسے غلامانہ ذہنیت سے نجات حاصل کرنی ہوگی اور مردانِ حر کو آگے لانا ہوگا۔

اقبال کا یہ پیغام آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا ان کے زمانے میں تھا کہ حقیقی رہنمائی، تعمیر و ترقی صرف اُن لوگوں سے ممکن ہے جو آزاد، باہمت اور خودی سے لبریز ہوں۔

کتاب: بالِ جبریل

Loading