۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد رفتگاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملکہ ترنم نور جہاں کے آخری ایام
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اللہ وسائی جب ایک ننھی بچی تھی اور روتی تھی تو سر میں روتی تھی اسکے اندر گائیکی کی خصوصیات دیکھ کر انکے والد مدد علی اور والدہ فتح بی بی نے فیصلہ کیا کہ بچی کو گائیکی کے لیے کسی استاد کے پاس بھیجا جائے چنانچہ اللہ وسائی کو پانچ یا چھ سال کی عمر میں استاد غلام محمد کی شاگردی میں دے دیا گیا، استاد غلام محمد قصوری نے ساری زندگی اپنی شاگردہ کے ساتھ وفا کی ۔زندگی کے آخری ایام میں کہتے تھے ۔۔ اللہ مجھے وہ دن نہ دکھائے جب میں سنوں کہ نور جہاں مر گئی ہے ۔۔۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے آخری ایام میں جب میڈم سخت بیمار تھیں ۔ دعا کیا کرتے یااللہ اپنے حبیب پاک کے صدقے مجھے وہ دن نہ دکھانا جب مجھے یہ خبر ملے کہ نور جہاں فوت ہو گئی ہے ، کتنی حیران کن بات ہے کہ میڈم کا انتقال دسمبر 2000 میں ہوا جب کہ استاد غلام محمد قصوری کا انتقال اپنی شاگرد سے ایک ماہ 7 دن قبل نومبر 2000 میں ہوگیا انکی دعا پوری ہوئی اللہ کریم اس عظیم استاد اور بے مثل شاگردہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے آمین
![]()

