ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحریر۔۔۔ اعجاز احمد نواب )گزشتہ ساٹھ برسوں سے اردو قارئین کا سب سے بڑا ہالہ ڈائجسٹوں کے گِرد ہے اور کافی کمی بیشی نشیب و فراز سرد و گرم دیکھنے اور حالات کے تھپیڑے سہنے کے باوجود یہ صورت حال آج بھی جوں کی توں قائم ہے، یہ سچ ہے کہ ڈائجسٹوں کا عروج کہیں پیچھے رہ گیا ہے، لیکن یہ بھی پورا سچ ہے کہ کتابوں کی اشاعت بھی بری طرح گری ہے ، روزنامہ اخبارات کتنے چھپتے ہیں؟؟ عشرہ قبل کیا سرکولیشن تھی.. اخباری صنعت سے وابستہ دوست بہترین جانتے ہیں!! ادبِ عالیہ کے دائرے میں جن کتابوں یا مصنفین کو رکھا جاتا ہے ( چند ایک کو چھوڑ کر) ان کی اشاعت تو انتہائی شرمندانہ ہے، اور بات اگر شعری مجموعوں کی کریں تو اردو کی معلوم تاریخ میں اس سے بُرا وقت شاعری پر کبھی نہیں آیا تھا، دور جدید کے ایسے اردو گیر شہرت یافتہ شعراء جن کے مجموعے، تعداد میں ڈبل فگر میں داخل ہو چکے ہیں، اس وقت انہیں کوئی پبلشر نہیں مل رہا…. مارکیٹ میں آج کل بڑے بڑے ضرب المثل ثقہ بند شعراء کے شعری مجموعے نہیں چھپ رہے! البتہ کلاسیک شاعروں کے کلیات اور دیوان ٹاواں ٹاواں نظر آجاتے ہیں، وہ بھی پرانے ایڈیشن، پورے پاکستان میں شاید ہی کوئی ادبی جریدہ ہو جسے ہر ماہ باقائدگی سے چھپنے کا دعوٰی ہو.. ایسی دگرگوں صورتِ حال میں بھی ڈائجسٹ اپنے حصے کا دیا جلائے ہوئے ہیں اور پوری باقائدگی سے چھپتے ہیں،اور کئی ایک تو اونچے ہزاروں میں شائع ہوتے ہیں، تاہم گزشتہ تین ماہ سے زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح ڈائجسٹ بھی متاثر ہیں اور اپریل مئی اور جون میں جزوی یا کلی طور پر سب ڈائجسٹ و رسائل کی اشاعت ایک ساتھ معطل رہی، اور اس کے اثرات صرف ڈائجسٹ مالکان تک نہیں رہے بلکہ پورے پاکستان کے نیوز ایجنٹس بک سٹالز اور اخبار فروش ہاکرز تک کامیابی سے پہنچے ہیں! تاہم اس دوران پرانے ڈائجسٹ کثیر تعداد میں فروخت ضرور ہوئے ہیں!
بہر حال اب تمام ڈائجسٹ چھپنا شروع ہو چکے ہیں، تاہم لاک ڈاؤن کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر جون جولائی میں چھپنے والے تمام ڈائجسٹ و رسائل کی اشاعت محدود پیمانے پر کی گئی ہے
✍️✍️✍️✍️✍️اردو کہانی کا سفر میں اب تک جن ڈائجسٹ رائٹرز یا مدیران کے انٹرویوز لگ چکے ہیں یا جن کا تزکرہ ہو چکا ہے، ان میں ایم اے راحت، انوار صدیقی طاہر جاوید مغل امجد، جاوید، محی الدین نواب ، رضیہ بٹ صائمہ اکرم چوہدری، معراج رسول، شکیل عادل زادہ، ایم اے زاہد ، انور فراز، ڈاکٹر نسیم جاوید، ابنِ صفی، صفدر شاہین، کامران سیریز، تاج کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کی مکمل داستان، محمد سلیم اختر، شہزادہ عالمگیر، نزیر انبالوی ابنِ آس، اشتیاق احمد، ذاکر حسن اے حمید، سلیم شرقپوری، مستنصر حسین تارڑ اور صف اول کے مزید کئی بڑے نام شامل ہیں، جلد آنے والی اقساط میں انشاءاللہ الیاس سیتا پوری، فہمی فردوس، طارق عزیز، مشتاق احمد یوسفی اور ناصر ملک اور اقلیم علیم، شامل ہیں اور اس کے بعد وہ تمام نام جو آپ کے ذہن میں ابھر رہے ہیں ، اردو کہانی کا سفر کے ساتھ رہئیے، انشاءاللہ آپ مایوس نہیں ہوں گے، یہاں یہ خبر بنتی ہے کہ اب بتا دیا جائے کہ کئی ماہ پیشتر اردو کہانی کا سفر کی پہلی 30 اقساط کتابی شکل میں شائع کرنے کا منصوبہ صریر پبلی کیشنز نے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کر رکھا ہے اور اسی اشاعتی ادارے سے میرا نیا فکشن ناول جزیرہ بھی آرہا ہے
لیکن آج اردو کہانی کا سفر میں ہمارے ساتھ ہیں ڈائجسٹوں کا بہہہہہہت بڑا نام جناب احمد اقبال صاحب ہیں، جو کسی تعارف کے محتاج نہیں آئیے ان سے ملتے ہیں……..
✍️✍️✍️✍️✍️ احمد اقبال 25 مارچ 1937 کو برطانوی ہند کے شہر اجمیر میں پیدا ہوئے آپ کا اصل نام اقبال احمد خان ہے، پرائمری تعلیم اجمیر سے حاصل کی، تقسیم ہند اور تشکیل پاکستان کے بعد والدین کے ہمراہ پاکستان راولپنڈی آگئے، 1952 میں سی بی اسکول لالکڑتی راولپنڈی سے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا،
ابتدائی تعلیم حاصل کر نے کے بعد پشاور کی قدیمی درس گاہ ایڈورڈز کالج میں 1956 میں داخل ہوئے، دو سال بعد بی اے کیا ۔ احمد فراز سینئر تھے اسی زمانے میں ریڈیو پاکستان پشاور سے افسانے ڈرامے نشر ہوئے۔پہلا افسانہ۔۔اتوار سے پہلے اتوار کے بعد۔۔تھا۔اس کے دس روپے ملے۔۔یہ دو بار نشر ہوا۔۔ دوسرا ڈرامہ ۔سحر ہونے تک۔ مزاحیہ تھا۔۔ تیسرا ڈرامہ زود پشیماں المیہ ڈرامہ تھا۔۔ایک کا معاوضہ تیس روپے ملا۔۔اسکرپٹ ایڈیٹر احمد فراز۔ پروڈیوسر نعیم اختر نائیک۔۔۔ریجنل ڈایریکٹر تھے قاضی سرور ۔۔مشہور شاعر فارغ بخاری اور رضا ہمدانی بھی اس زمانے میں پروڈیوسر تھےبعد ازاں احمد اقبال صاحب نے اکنامکس میں ایم اے کیا اور لیکچرار بھرتی ہو گئے،،
✍️✍️✍️عام قارئین جانتے ہیں کہ احمد اقبال عام قلم کار نہیں.. احمد اقبال کا شمار JDP (جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز) کے ان لکھنے والوں میں ہوتا ہے جنہیں قارئین دیوانہ وار چاہتے ہیں جن کی ہر کہانی کی اگلی قسط کا انتظار پڑھنے والوں کو بے چین کیے رکھتا تھا ، ان کا منفرد اسلوب، الگ انداز تحریر جس میں مزاح کا تڑکہ اور ادب کی چاشنی تہزیب اور مزاج کی شائستگی، تابڑ توڑ ایکشن اور تجسس، معیاری لفاظی کی آمیزش اپنے قاری کو پابجولاں رکھتی ہے اعلی تعلیم یافتہ احمد اقبال کی تحریروں کی منظر نگاری میں فکشن اور ادب باہم حالتِ معانقہ میں دکھائی دیتے ہیں پے درپے تیز رفتار واقعات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اپنی ریڈر شپ کے دل و دماغ کو آکٹوپس کی مانند جکڑے رکھتا ہے ، اور پھر قاری کسی جوگا نہیں رہتا، پڑھنے والے احمد اقبال کے قلم کے ناز و انداز اور دلفریبیوں پر لٹو ہو جاتے ہیں!… احمد اقبال کی تحریر کا اپنا وصف ہے کہ وہ اپنا آپ پڑھوانا جانتی ہے یہی وجہ ہے کہ معراج رسول جاسوسی سسپنس میں احمد اقبال کی کہانیوں کو مسلسل طول دیتے تھے شکاری تو 195 مہینوں یعنی 17 سال چلی، احمد اقبال بہترین اردو لکھتے ہیں، موضوعات کا انتخاب تحقیق، تکنیک اور اندازِ تفہیم کو جدید خطوط پر استوار کرنا ان کا خاصہ ہے، ادبی روایات سے آگہی اور دسترس کی خوبی ان کی کہانیوں کا اضافی حُسن ہے ، مکالمات کی بُنت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، ان کے نہ لکھنے سے پڑھنے والے پریشان ہیں قارئین ایک بار پھر احمد اقبال کو ان ایکشن دیکھنا چاہتے ہیں مگر لگتا ہے کہ وہ کچھ روٹھے روٹھے سے ہیں، یہی سوچ کر میں نے سوچا کہ کیوں نہ احمد اقبال صاحب سے ملاقات کی جائے، کچھ اُن کو قارئین کی سنائی جائے کچھ ان کا فسانہ دل سنا جائے، مجھے یہ تو معلوم تھا کہ اسلام آباد میں ہی ہوتے ہیں، تاہم اتہ پتہ کا کچھ پتہ نہ تھا! مکتوب الیہ عدم پتہ تھا،
جانِ جگر… امجد جاوید سے ان کا رابطہ نمبر لیا.. ادب کے بڑے نام عموماً پہاڑ پر چڑھے ہوتے ہیں، بڑی مشکل سے ہوتا ہے دیدہ ور پیدا، ڈرتے ڈرتے فون کھڑکایا، لیکن یہ پتھر تو موم نکلا، فوراً ہی اجازت دے دی اتوار کی صبح گیارہ بجے کاوقت دیا ، وہ مجھ سے صرف 23 کلو میٹر دور نکلے! شومئی قسمت ہفتے کی شام آفس سے واپسی پر اپنی ہی گلی میں جب گھر صرف سو میٹر دور رہ گیا تھا بلکہ نظر آرہا تھا اور گاڑی ڈیڈ سلو رفتار پر تھی کہ ایک زیر تعمیر گھر سے ایک ٹریکٹر جو لینٹر مشین کو کھینچ رہا تھا کہ اس کی رسی ٹوٹ گئی اور وہ بد مست گینڈے کی طرح ہرنی ورگی کرولا کے ڈرائیور دروازے سے تقریباً آ ٹکرایا! یعنی کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا! گاڑی کا دروازہ اور اگلا پہیہ معمولی زخمی ہوئے، اور گاڑی کی لائن اینڈ لینتھ قدرے متاثر ہو گئی ، لہذا اگلی صبح محترم احمد اقبال صاحب سے ملاقات کے لئے UBER اُوبر کاسہارا لینا پڑا، ٹیکسی بحریہ فیز 8 سے نکل کر فیز 7 اور پھر جی ٹی روڈ پار کر کے بحریہ فیز4 اور ون سے ہوتی ہوئی، PWD کے راستے اسلام آباد ایکسپریس وے پر جا نکلی ، وہاں سے پرانے ائر پورٹ کے قریب ایک نجی سوسائٹی میں احمد اقبال صاحب کے گھر صدر دروازے پر پہنچے تو 11.50AM ہو چکے تھے 590 روپے دے کر ٹیکسی فارغ کی اور اطلاعی گھنٹی بجا دی ایک بچے نے در وا کیا، عقب میں جو شخصیت نظر آئی میں سمجھ گیا احمد اقبال ہیں ، دوروں دورں کرونائی سلام کیا بڑے تپاک سے ملے اور مجھے لے کر ڈرائینگ روم میں داخل ہو گئے اور پھر باتوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا، ایک گھنٹہ ملاقات کا وقت مانگا تھا لیکن جب نشست برخاست ہوئی تو ساڑھے چار بج چکے تھے، اس دوران کولڈ ڈرنک چائے پھر بریانی(انتہائی لزیز) اس کے بعد مینگو پارٹی اور آخر میں پھر چائے، یعنی سواد آگیا بادشاہو! موجاں ای موجاں! ایسا پرتکلف برنچ، ظہرانہ اور عصرانہ………………. آنٹی بھابھی کا شکریہ!!
……………… …………. احمد اقبال………………………………
سوال 👈: اپنے والد محترم کے بارے کچھ بتائیے؟
جواب🖋️: والد صاحب چشتی احمد خاں ہیڈ ماسٹر تھے شمیم نعمانی کے نام سے اردو فارسی شاعری کی جو اس دور کے نامور ادبی رسالوں نیاز فتح پوری کا نگار۔۔شاہد احمد دہلوی کا ساقی۔۔حکیم یوسف حسن کے نیرنگ خیال۔۔حافض محمد عالم کے عالمگیر۔۔آگرہ کے شاعر ۔مولانا صلاح الدین کے ادبی دنیا میں شائع ہوا۔ہجرت کے وقت سب ریکارڈ پیبھے رہ گیا۔یہاں ہم تین بھائیوں نے 1975 میں ان کی وفات کے 38 سال بعد سب دستیاب کلام جمع کیا اور 2013 میں ” نکہت زار” کے نام سے دیوان شائع کیا۔آرٹس کونسل کراچی میں تقریب رونمائی ہوئ صدارت سحر انصاری نے اور نظامت بی بی سی کے وسعت اللہ خان نے کی!!
سوال 👈اپنے تعلیمی دور کے متعلق ارشاد فرمائیے؟
جواب 🖋️پشاور کی قدیمی درس گاہ ایڈورڈز کالج میں 1956 میں داخل ہوا دو سال بعد بی اے کیا ۔ احمد فراز سینئر تھے اسی زمانے میں ریڈیو پاکستان پشاور سے افسانے ڈرامے نشر ہوئے۔پپلا افسانہ۔۔اتوار سے پہلے اتوار کے بعد۔۔تھا۔اس کے دس روپے ملے۔۔یہ دو بار نشر ہوا۔۔ڈرامہ ۔سحر ہونے تک۔ مزاحیہ تھا۔۔دوسرا۔ زود پشیماں(المیہ) ۔۔ایک کا معاوضہ تیس روپے ملا۔۔اسکرپٹ ایڈیٹر احمد فراز۔ پروڈیوسر نعیم اختر نائیک۔۔۔ریجنل ڈایریکٹر تھے قاضی سرور ۔۔مشہور شاعر فارغ بخاری اور رضا ہمدانی بھی پروڈیوسر تھے!
سوال 👈:کسی اخبار وغیرہ میں بھی کام کیا؟
جواب🖋️:1959 میں مدیر نسیم حجازی کے روزنامہ کوہستان میں بطور انچارج ادبی صفحہ کام کیا!
سوال👈 :سب سے پہلی کہانی کب لکھی اور کہاں چھپی؟
جواب🖋️: پہلے پہل میں نے ریڈیو پاکستان کے لیے ڈرامے لکھنے شروع کیے سٹوڈنٹ لائف تھی پاکٹ منی کے لیے پیسے مل جاتے تھے لیکن جب ادبی جریدوں میں لکھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ معاوضہ نہیں ملتا تو غصے میں آ کر لکھنا چھوڑ دیا اور مسلسل تیرہ سال تک کچھ نہیں لکھا
سوال 👈:آپ کا مزاج ادبِ عالیہ تھا اور ہے، تو پھر ڈائجسٹوں کی طرف کیسے آگئے؟ حالانکہ ادبِ عالیہ والے ڈائجسٹوں کے ادب کو ادب نہیں مانتے!
جواب 🖋️: لکھنے کے پیسے نہیں ملتے تھے، اور صرف نام سے پیٹ نہیں بھرتا .. میرے پْھپھا آفاق صدیقی محکمہ تعلیم میں انیسویں گریڈ کے افسر پرائڈ آف پرفارمنس ان کے اعزاز میں پی ٹی وی نے تقریب منعقد کی ، مذاکرہ تھا سب لوگوں نے اپنی تقریروں میں انہیں خوب خراجِ تحسین پیش کیا تقریب ختم ہوئی تو سب اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر گھروں کو چلے گئے، پھپھا کے پاس گاڑی تھی نہیں ، اور اس دن شدید بارش تھی وہ بیچارے اس طوفانی بارش میں ویگن کی چھت پر بیٹھ کر شرابور ہو کر میرے گھر پہنچے انہیں سردی لگ گئی بخار ہو گیا کیا ٹی وی والوں کے پاس گاڑیاں نہیں تھیں کیا مہمان خصوصی کو گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ باعزت طریقے سے بجھوایا نہیں جا سکتا تھا، انہی وجوہات کی بنا پر مسلسل تیرہ برس میں نے بھی اپنا احتجاجاً اپنا قلم، قلم دان میں دھر دیا، پھر کافی عرصہ بعد کسی نے بتایا کہ ڈائجسٹوں میں لکھو ڈائجسٹ والے معاوضہ دیتے ہیں بلکہ معقول اعزازیہ مصنف کو دیا جاتا ہے یوں میں ڈائجسٹ مصنف بن گیا،
سوال 👈:آپ لکیچرار تھے پڑھاتے تھے لیکن بعد میں صرف لکھنے کی حد تک رہ گئے کیا وجہ بنی؟
جواب 🖋️: میرا مزاج ملازمت والا نہیں تھا، پرنسپل تک آپ کو ذاتی غلام سمجھتے ہیں بس کچھ وجوہات کی بنا پر ایک دن میں نے کہہ دیا کہ ریڑھی لگا لوں گا پکوڑوں والی آج کے بعد ملازمت نہیں کروں گا، کہنے لگے کہ یہ کہنا بہت آسان ہے پر کرنا بہت مشکل…….. لیکن دیکھ لیں اس کے بعد آج تک ملازمت نہیں کی !
سوال 👈:کس ڈائجسٹ میں پہلی بار لکھا؟
جواب🖋️: تیرہ سال کچھ نہ لکھنے کے بعد سب رنگ کا شہرہ سنا تو ایک کہانی لکھ کر روانہ کی جو چھپ بھی گئی اور 25 روپے صفحہ کے حساب سے معاوضہ بھی ملا تو پھر دوسری اور تیسری کہانی بھی بھی لکھ کر بھیج دی وہ بھی شائع ہو گئیں اور پیسے بھی مل گئے لیکن میرا ان سے اس بات پر اختلاف ہو گیا کہ وہ میری تحریر میں کچھ رد و بدل کر دیتے تھے جو کہ مجھے منظور نہ تھا، میری ایک کہانی میں انور شعور نے تبدیلی کر دی.. میں نے کہا بھئ انور شعور شاعر ہیں، میں نثر نگار ہوں میرا اپنا اسلوب ہے میری تحریر میں رد و بدل کا وہ اختیار نہیں رکھتے… لہذا میں نے سب رنگ چھوڑ دیا
سوال 👈: سب رنگ کے بعد کس یا کن ڈائجسٹوں میں چھپے؟
جواب 👈:غلام محمد غوری کا سورج اور فانوس مشتاق احمد قریشی کے نئے افق اور نیا رخ اور محمود ریاض کے عمران ڈائجسٹ میں مختلف شارٹ سٹوریز جاری رییں! اور آخر کار عالمی ڈائجسٹ میں پہنچ گیا!
سوال👈: آج تک ڈائجسٹوں میں جو معاوضہ ملا.. اس میں کم سے کم فی صفحہ کیا معاوضہ ملا اور زیادہ سے زیادہ فی صفحہ آپ نے کتنا وصول کیا؟
جواب 🖋️: کم سے کم فی صفحہ پانچ روپے عمران ڈائجسٹ میں اور زیادہ سے زیادہ دو ہزار روپے فی صفحہ!
سوال 👈:آج اپنے آپ کو جس مقام پر دیکھتے ہیں اس کا کریڈٹ کسی کو دینا چاہیں گے؟
جواب🖋️:سچ یہ ہے کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں عالمی ڈائجسٹ کی زاہدہ حنا کی وجہ سے ہوں؟ جون ایلیا اور زاہدہ حنا نے میرے اندر کے مصنف کو خوب پہچانا،
سوال 👈: ابتدائی دور میں سب رنگ ڈائجسٹ میں آپ کی تین کہانیاں اقبال احمد خان کے نام سے چھپیں… جب کہ بعد میں آپ احمد اقبال کے نام سے نظر آنے لگے؟ اس تبدیلی کی وجہ اور محرک کون تھا؟
جواب 🖋️: شکیل عادل زادہ نے میرا نام اقبال احمد خان سے صرف احمد اقبال کر دیا، کیونکہ اس زمانے میں ایک مشہور فلمی صحافی بھی تھے جن کا نام اقبال احمد خان ہی تھا… لوگ اْن سے کہانیوں اور مجھ سے فلموں سے متعلق استفسار کرتے تھے یوں معاملہ گُڈ مُڈ ہونے لگا تو شکیل صاحب نے میرا نام صرف احمد اقبال کر دیا!
سوال 👈:بطور قلم ساز آپ کا عروج JDP میں آنے سے شروع ہوا، یہ کب کا واقعہ ہے؟
جواب 🖋️:1981 میں جب میری کہانیاں مختلف ڈائجسٹوں میں تواتر سے چھپ رہی تھیں، تو مجھے معراج رسول صاحب کا پیغام موصول ہوا کہ آکر ملاقات کریں،
سو میں گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ بہت اچھا لکھتے ہیں کیا طویل سلسلہ وار کہانی لکھ سکتے ہیں تو میں نے کہا بالکل لکھ سکتا ہوں، تو انہوں نے کہا کہ اپنی مرضی سے پہلی قسط لکھ کر دکھائیے ، میں واپس آیا اور سوچنے لگا کہ ہر طرف ماورائی اور مافوق الفطرت کہانیوں کا دور دورہ ہے، میرا ہیرو عام انسان ہونا چاہیے، جس کے پاس جادو ماورائی اور کالے علوم نہ ہوں اور وہ سپر نیچر ہیرو بھی نہ ہو، حقیقت سے قریب تر ہو تاکہ فکشن اور ادب کے بہترین امتزاج سے شہ کار تخلیق کیا جاسکے ، سو یوں شکاری کی پہلی قسط لکھی جو معراج صاحب کو بہت پسند آئی، اور مجھے پہلے سے دوگنا معاوضہ دیا گیا، اور ساتھ ہی کسی بھی دوسرے ڈائجسٹ میں لکھنے کی ممانعت کر دی گئی.. اور پھر 1983 سے شروع ہونے والی شکاری 1997 تک چلی،
سوال 👈:پہلی بار اپنی مقبولیت کا احساس کب ہوا؟؟
جواب🖋️:بچوں کے کالج یونیورسٹی میں مجھےان کے کلاس فیلو جانتے تھے تاہم پہلی بار ملکی شہرت اور مقبولیت کا اندازہ بچوں کے رشتے طے کرتے وقت ہوا جو خاندان اور شہر سے باہر بھی ہوئے۔تقریبا” ہر گھر ہر خاندان یا پاس پڑوس میں شکاری اور احمد اقبال کے قدر دان موجود تھے
عالمی شہرت کا پتا 2011 میں فیس بک سے چلا…
سوال 👈: آپ بظاہر بہت سنجیدہ نظر آتے ہیں، لیکن آپ کی تحریروں سے شوخی بہت چھلکتی ہے
جواب 🖋️: میں سنجیدہ نہیں بہت شوخ اور زندہ دل ہوں!
سوال 👈: کالے خاں بھورے خاں آپ کی انتہائی مزاحیہ سیریز تھی جسے کسی بھی صف اول کے مزاح نگار کی تحریر کے سامنے رکھا جا سکتا ہے، اس صنف پر مزید کام کیوں نہ کیا؟
جواب 🖋️: شکاری جو سسپنس میں 195 ماہ یعنی چودہ سال تک چلی اس میں مزاح کے بے شمار پہلو تھے، جو بہت پسند کیے جاتے تھے تو معراج رسول( مدیر اعلے سسپنس جاسوسی پاکیزہ سرگزشت ڈائجسٹ) نے ایک مزاحیہ سیریز کی فرمائش کی تو کالے خاں بھورے خاں کی گیارہ بارہ کہانیاں لکھیں جو بعد میں کتابیات پبلی کیشنز کراچی سے کتابی شکل میں شائع ہوئی ، اس کے بعد وقت ہی نہیں ملا،
سوال 👈: کبھی اخبارِ جہاں میں لکھنے کا اتفاق ہوا ہو جنگ جیو والوں کا سب سے کثیر الاشاعت ہفت روزہ ہے ہر بڑے لکھاری کی خواہش ہوتی ہے اس میں لکھنے کی آپ کے تو بھائی بھی اس کے مدیر رہے ہیں؟
جواب 🖋️: لکھاکیا؟ اخبارِ جہاں کی تاریخ میں پہلی سلسلے وار کہانی مسافر تھی جو میں نے لکھی! دوسری کہانی جو قسط وار اخبار جہاں میں چھپی وہ تھی مسافت جبکہ تیسرا انتہائی سپر ہٹ سلسلہ سوبھراج کا فرار تھا،
سوال 👈: کس لکھنے والے سے آپ خود بہت متاثر ہیں؟
جواب 🖋️:قرۃالعین حیدر
کیا کبھی کسی ایسی ادبی شخصیت سے. ملاقات ہوئی جن کو دیکھ کر آپ نروس ہوگئے ہوں؟
جواب🖋️: ان دنوں میں جون ایلیا اور زاہدہ حنا کے عالمی ڈائجسٹ میں لکھتا تھا عمر بھی تیس پینتیس سال تھی، ایک دن مجھے انہوں نے کہا کہ تمھارے پاس اپنی گاڑی ہے ائر پورٹ سے ایک خاتون انڈیا سے آرہی ہیں، انہیں رسیو کریں اور اپنی گاڑی میں یہاں لے آئیے، ارے بھئی وہ تو عصمت چغتائی تھیں سفید ساڑھی میں ملبوس گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھ گئیں اور سگریٹ سُلگا لیا، اب انہیں بیک مرر سے دیکھے جا رہا ہوں اور مہنہ سے بات نکل نہیں رہی باوجود کوشش کے پورا راستہ ان سے کوئی قابلِ ذکر بات ہی نہ کر سکا واقعی نروس ہو گیا تھا!
سوال 👈:لکھنا خدا داد صلاحیت ہے کیا کوئی شعوری کوشش سے بھی لکھ سکتا ہے؟
جواب 🖋️: مسلسل مطالعہ اور گہرا مشاہدہ لکھنے کی صلاحیت پیدا بھی کرتے ہیں اور صلاحیت ابھارتے بھی ہیں!
سوال 👈: شادی کب ہوئی، کیا ارینج میرج تھی؟
جواب🖋️: شادی 1965 کی جنگ کے فوراً بعد ہوئی اور یہ پسند کی شادی تھی!
سوال 👈:کبھی پی ٹی وی کے لیے بھی لکھا؟
جواب 🖋️:پی ٹی وی پر کوئٹہ ٹی وی کا سیریل دھوپ لکھا۔۔لاہور سے محمد نثار حسین کے لئے 1988 میں دو گھنٹے کا لانگ پلے نقش ثانی ڈراما 88 میں لکھا۔معاوضہ دو ہزار۔۔افسرشاہی ماحول کے خراب رویہ کے باعث ٹی وی چھوڑا!!
سوال 👈: آخری بار ڈائجسٹ کے لیے کب لکھا؟
جواب 🖋️ 2017/18 شاید
سوال 👈: اب کیوں نہیں لکھتے؟
جواب 🖋️:کسی ڈائجسٹ میں تو اب گنجائش نہیں ہے۔دو سال میں سرگزشت میں خود نوِشّت “اقبالی بیان” مکمل کی ہے جو زیر طبع ہے۔ادبی سہ ماہی جرائد کے لئے چند افسانے لکھے۔ایک ناول شروع تو کردیا ہے۔مکمل ہونا مشکل نظر آتا ہے۔۔رو میں ہےرخش عمر۔۔…
سوال 👈: کیا مستقبل قریب میں کسی ڈائجسٹ میں آپ کا کوئی طویل سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے یا اس کے کچھ فی صد امکانات ہیں؟؟
جواب👈: نہیں …. اب کوئی امکان نہیں!
سوال 👈: لکھنے والا لکھے بغیر ایسے ہی ہے جیسے جل بن مچھلی یقیناً آپ بھی قلم ضرور پکڑتے ہوں گے … کیا لکھتے ہیں آج کل؟
جواب 🖋️:ادبی جرائد تسطیر۔۔لوح۔۔کولاژ وغیرہ میں افسانے شائع ہوئے ہیں ڈھائی سال میں خود نوشت “اقبال جرم ” پوری کی ہے جو کورونا نہ آتا تو اپریل میں آجاتی
سوال 👈:زندگی سے کیا سیکھا؟
جواب 🖋️:زندگی سے سب جینا ہی سیکھتے ہیں۔۔اپنی اپنی استعداد کے مطابق اور حالات کے مطابق۔اب کوشش کرتا ہوں کہ دوسروں میں یہ استعداد بہتر کروں!
سوال کیا آپ کا کوئی شاگرد بھی ہے؟ یا کوئی ایسا لکھنے والا جو آپ سمجھتے ہوں کہ اس کا انداز آپ جیسا ہے؟
جواب 🖋️: لکھنا خداداد صلاحیت ہے شعوری کوشش سے بہت اچھا لکھاری نہیں بنا جا سکتا، البتہ کاشف زبیر (سراب والے) خود میرے اور سب کے سامنے یہ کہا کرتا تھا کہ میں نے احمد اقبال صاحب کو پڑھ پڑھ کر لکھنا سیکھا ہے، اور وہ حد سے زیادہ میری عزت اور تعظیم کرتا تھا، اور مجھے بھی وہ بہت پیارا تھا، میں بے شمار بار اس کے گھر گیا، جب اس کی شادی مریم سے ہوئی تو میں بھی شریک تھا ، معزور تھا بے چارہ اللہ غرقِ رحمت فرمائے!
سوال👈: آپ کے ایک بھائی شاید اخبار جہاں کے ساتھ بھی رہے؟؟
جواب🖋️:اخلاق احمد میرا بھائی مجھ سے 22 سال چھوٹا ہے 1977 سے صحافت میں ہے جنگ میں میگزین ایڈیٹر ہوا پھر دس سال اخبار جہاں کا ایڈیٹر رہا مستعفی ہو کے سات سال سےاسٹار مارکیٹنگ کا مینیجنگ ڈائریکٹر ہے اردو کے نامور افسانہ نگاروں میں شمار ہوتا ہے ..چھ مجموعے نقادوں سے بھی داد وصول کر چکے ہیں!
سوال🖋️: آپ کے صاحبزادے آفتاب اقبال کا بھی قلم سے گہرا واسطہ ہے؟
جواب 🖋️:آفتاب اقبال میرا بیٹا صحافت میں ایم اے 1988 میں جنگ میگزین میں اسسٹنٹ ایڈیٹر بن گیا۔جنگ فورم پیش کرتا رہا پھر میگزین میں رہا 1998 میں مستعفی ہوکے این جی اوز کا مشیر بنا۔یو ایس ایڈ میں ڈائریکٹر کمیونی کیشن تھا جب مطالعاتی دورے پر امریکہ گیا ۔واپسی پر اپنی ایڈوائزری سروس شروع کی ۔اب این جی اوز کو ٹرین کرتا ہے!
سوال👈: آپ کے بچے؟ اور بچوں کے بچے؟
جواب 🖋️:تین بیٹے تین بیٹیاں
24 نواسے نواسیاں پوتے پو تیاں ۔دو پڑ نواسے۔ایک ڈاکٹر۔تین سول انجینئیر۔ تین ایم بی اے۔ایک انٹرنیشنل شیف
سوال 👈: پڑھنے والوں کے نام کوئی پیغام اگر دینا چاہیں؟
جواب 🖋️: وقت کو احساس پر حاوی مت ہونے ریں۔ہر وقت آپ کا ہے اگر آپ اسے اپنا لیں۔۔تحفظات کے بغیر۔۔انسان کو آؤٹ آف ڈیٹ کبھی نہیں ہونا چاہئے جب تک وہ دنیا سے آؤٹ نہ ہو!
📚📚📚📚📚📚📚📚 (ختم شُد)
بہ احترامات فراواں
اعجاز احمد نواب
#goldenimranseries
![]()

