Daily Roshni News

۔۔۔ اخلاقی سبق ۔۔۔

بنگال کے ایک بادشاہ کا ڈھول بجانے والا بہت مشہور تھا۔ اس کا نام بھولو تھا۔ وہ اتنا اچھا ڈھول بجاتا تھا کہ لوگ دور دور سے سننے آتے تھے۔ جب وہ ڈھول بجاتا تو لوگ ناچنے لگتے، بادشاہ خوش ہو جاتا، ساری دربار خوشی سے جھوم اٹھتی۔

بادشاہ نے اسے بہت سا انعام دیا — سونے کے سکے، ریشمی کپڑے، ایک خوبصورت گھر۔ بھولو امیر ہو گیا۔

لیکن امیر ہوتے ہی بھولو بدل گیا۔ اسے غرور آ گیا۔ وہ سوچنے لگا: “میں بہت بڑا فنکار ہوں۔ میرے جیسا کوئی نہیں۔”

وہ اپنے پرانے دوستوں سے نہیں ملتا تھا۔ وہ غریبوں کو حقارت سے دیکھتا تھا۔ وہ کہتا: “یہ لوگ میرے برابر نہیں ہیں۔”

ایک دن بادشاہ نے اسے بلایا۔ بھولو دربار میں گیا، ڈھول بجایا۔ اس دن اس نے اتنا اچھا بجایا کہ سب دنگ رہ گئے۔ بادشاہ نے کہا: “بھولو، تم بہت بڑے فنکار ہو۔ مانگو، جو چاہو دوں گا۔”

بھولو نے کہا: “بادشاہ سلامت! مجھے کوئی انعام نہیں چاہیے۔ بس میں چاہتا ہوں کہ میرے نام کا ڈھول شہر میں بجے۔”

بادشاہ نے کہا: “ٹھیک ہے۔”

بھولو کے نام کا ڈھول شہر میں بجنے لگا۔ ہر صبح شہر کے دروازے پر اس کا نام پکارا جاتا: “بھولو! بھولو! بہت بڑا فنکار!”

بھولو سن کر پھول جاتا۔ اسے لگتا جیسے وہ بادشاہ سے بھی بڑا ہے۔

ایک دن وہ شہر سے باہر گیا۔ راستے میں اسے ایک غریب آدمی ملا۔ وہ آدمی بہت بوڑھا تھا، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اس کے ہاتھ میں ایک ٹوٹا ہوا ڈھول تھا۔

بوڑھے نے کہا: “بیٹا، کیا تم مجھے کچھ کھانا دے سکتے ہو؟ میں بہت بھوکا ہوں۔”

بھولو نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ اس نے کہا: “ہٹ جا میرے راستے سے۔ مجھے تمہارے جیسوں سے کوئی مطلب نہیں۔”

وہ آگے بڑھ گیا۔

بوڑھے نے آہ بھری۔ اس نے اپنا ٹوٹا ہوا ڈھول اٹھایا اور ایک دھن بجائی۔ وہ دھن بہت عجیب تھی میٹھی بھی، تیز بھی، پرانی بھی، نئی بھی۔

بھولو نے اس دھن کو سنا تو اس کے قدم رک گئے۔ اسے لگا جیسے یہ دھن اس کے دل میں اتر رہی ہے۔

بھولو شہر واپس آیا۔ اس نے دیکھا کہ شہر کے دروازے پر اس کا ڈھول بج رہا تھا: “بھولو! بھولو! بہت بڑا فنکار!”

لیکن اسے اب وہ آواز کھوکھلی لگ رہی تھی۔ اسے اس بوڑھے کی دھن یاد آ رہی تھی — وہ دھن جس نے اس کا دل چھو لیا تھا۔

وہ بے چین ہو گیا۔ وہ اگلے دن پھر اس راستے پر گیا۔ بوڑھا وہیں بیٹھا تھا، اس کا ٹوٹا ہوا ڈھول اس کے پاس رکھا تھا۔

بھولو نے کہا: “بابا، وہ دھن پھر بجاؤ۔”

بوڑھے نے کہا: “تم وہی ہو جو کل مجھے ‘ہٹ جا’ کہہ کر چلا گیا تھا؟”

بھولو نے سر جھکا لیا۔ “ہاں، میں وہی ہوں۔ مجھے معاف کر دو۔”

بوڑھے نے کہا: “معافی ڈھول کی طرح ہے۔ جب تک تم خود نہ بجاؤ گے، آواز نہیں آئے گی۔”

اس نے ڈھول اٹھایا اور وہی دھن بجائی۔ بھولو سنتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

جب دھن ختم ہوئی تو بھولو نے کہا: “بابا، یہ دھن کہاں سے سیکھی؟”

بوڑھے نے کہا: “یہ دھن میرے استاد نے مجھے سکھائی تھی۔ اور ان کے استاد نے انہیں۔ اور ان کے استاد نے انہیں۔ یہ دھن سینکڑوں سال پرانی ہے۔”

بھولو نے کہا: “مجھے یہ دھن سکھا دو۔”

بوڑھے نے کہا: “یہ دھن ایسے نہیں سکھائی جاتی۔ پہلے تمہیں اپنا غرور اتارنا ہو گا۔”

بھولو نے اپنے سونے کے کپڑے اتار دیے۔ اس نے اپنے قیمتی زیور اتار دیے۔ وہ سادہ کپڑے پہن کر بوڑھے کے پاس آیا۔

بوڑھے نے کہا: “اب تمہیں اپنا نام بھولنا ہو گا۔”

بھولو نے کہا: “میں بھولو ہوں۔ نام کیسے بھولوں؟”

بوڑھے نے کہا: “بھولو کا مطلب ہے ‘بھولنے والا’۔ تم نے اپنا مطلب ہی بھول دیا۔ اب سچے بھولو بنو — سب کچھ بھول جاؤ۔”

بھولو نے اپنا نام بھولنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنی شہرت بھولنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنا گھر، اپنے پیسے، اپنے کپڑے — سب بھولنے کی کوشش کی۔

یہ بہت مشکل تھا۔ کئی دن لگ گئے۔ لیکن آخر کار وہ بھول گیا۔

پھر بوڑھے نے اسے وہ دھن سکھائی۔

بھولو نے وہ دھن سیکھی۔ وہ اتنی خوبصورت تھی کہ جب وہ بجاتا تو پرندے سننے کے لیے رک جاتے، درخت خاموش ہو جاتے، ہوا ٹھہر جاتی۔

بھولو شہر واپس آیا۔ اس کے پاس اب سونا نہیں تھا، ریشم نہیں تھا، نام نہیں تھا۔ اس کے پاس صرف وہ دھن تھی۔

وہ شہر کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔ اس نے ڈھول بجایا۔

لوگ سننے کے لیے جمع ہو گئے۔ انہوں نے پوچھا: “تم کون ہو؟”

بھولو نے کہا: “میں بھولو ہوں۔”

لوگ ہنسے: “بھولو تو بہت بڑا فنکار تھا۔ وہ سونے کے کپڑے پہنتا تھا، شہر میں اس کا نام بجتا تھا۔ تم تو بھکاری لگتے ہو۔”

بھولو مسکرایا۔ اس نے پھر ڈھول بجایا۔

وہ دھن سن کر لوگ خاموش ہو گئے۔ ان کی آنکھیں بند ہو گئیں، ان کے دل کھل گئے، ان کے چہروں پر نور آ گیا۔

بادشاہ نے بھی یہ دھن سنی۔ وہ خود شہر کے دروازے پر آیا۔ اس نے پوچھا: “یہ کون ہے؟”

لوگوں نے کہا: “یہ بھولو ہے۔”

بادشاہ نے بھولو کو دیکھا۔ اس نے پہچان لیا۔ “بھولو! تم نے اپنے سونے کے کپڑے کیوں اتار دیے؟ تم نے اپنا نام کیوں چھوڑ دیا؟”

بھولو نے کہا: “بادشاہ سلامت! میں نے نام چھوڑ دیا تو نام مل گیا۔ میں نے کپڑے چھوڑ دیے تو خود کو پایا۔ میں نے سب کچھ بھول دیا تو وہ دھن پائی جو کبھی نہیں بھولتی۔”

بادشاہ نے اسے گلے لگا لیا۔

اخلاقی سبق:

یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ غرور انسان کو تباہ کر دیتا ہے، اور عاجزی اسے زندہ کر دیتی ہے۔

· بھولو نے جب نام، شہرت، دولت سب کچھ پا لیا تو اسے غرور آ گیا۔
· اس نے ایک غریب بوڑھے کو ٹھکرا دیا۔
· بوڑھے نے اسے وہ دھن سکھائی جو صرف عاجز ہی سیکھ سکتے ہیں۔
· جب اس نے سب کچھ چھوڑ دیا تو اسے وہ مل گیا جو کبھی نہیں چھوٹتا سچائی۔

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل دولت نام میں نہیں، شہرت میں نہیں، کپڑوں میں نہیں اصل دولت دل میں ہوتی ہے۔

حوالہ:

یہ کہانی بنگالی لوک کہانیوں میں سے ہے۔ بنگال (ہندوستان اور بنگلہ دیش) کی ثقافت میں ڈھول اور موسیقی کو خاص مقام حاصل ہے۔

یہ کہانی عاجزی، غرور کے خاتمے، اور حقیقی فن کے بارے میں ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ حقیقی فنکار وہ نہیں جس کا نام شہر میں بجے، حقیقی فنکار وہ ہے جو لوگوں کے دل چھو لے۔

Loading