حضرت یوسفؑ
قرآن کا سب سے خوبصورت قصہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہم حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ پہلے سے بیان کر رہے ہیں اور یہ اس سلسلے کی اٹھارہویں قسط ہے۔
پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر کے خزانوں کا نگہبان بنا دیا…
اور اب وہ وقت شروع ہونے والا تھا…
جس کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام برسوں پہلے منصوبہ بندی کر چکے تھے۔
سات سال کی خوشحالی گزر چکی تھی…
کھیت لہلہا رہے تھے…
اناج کے خزانے بھر چکے تھے…
اور پھر وہ وقت آ گیا…
جس کی خبر خواب میں دی گئی تھی۔
قحط شروع ہو گیا۔
زمین خشک ہونے لگی…
کھیت ویران ہونے لگے…
لوگ پریشان ہونے لگے…
صرف مصر ایک ایسا ملک تھا…
جہاں اناج محفوظ تھا۔
کیونکہ وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کی حکمت عملی کام کر رہی تھی۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
وَجَاءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ
(سورۃ یوسف: 58)
ترجمہ:
“اور یوسف کے بھائی آئے اور اس کے پاس حاضر ہوئے۔”
یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا…
برسوں پہلے یہی بھائی تھے…
جنہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینک دیا تھا…
آج وہی بھائی مدد مانگنے کے لیے ان کے سامنے کھڑے تھے۔
مگر ایک عجیب بات ہوئی…
قرآن فرماتا ہے:
فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنكِرُونَ
ترجمہ:
“یوسف نے انہیں پہچان لیا، مگر وہ اسے نہ پہچان سکے۔”
یہ اللہ کی حکمت تھی…
وقت بدل چکا تھا…
حالات بدل چکے تھے…
مگر حضرت یوسف علیہ السلام کا دل نہیں بدلا تھا۔
انہوں نے بدلہ نہیں لیا…
انہوں نے غصہ ظاہر نہیں کیا…
انہوں نے فوراً اپنے آپ کو ظاہر بھی نہیں کیا۔
کیونکہ ابھی وقت نہیں آیا تھا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے حکمت کے ساتھ گفتگو شروع کی۔
انہوں نے اناج بھی دیا…
عزت بھی دی…
اور ایک سوال بھی کیا۔
انہوں نے پوچھا:
کیا تمہارا کوئی اور بھائی بھی ہے؟
انہوں نے جواب دیا:
ہاں…
ہمارا ایک اور بھائی بھی ہے…
جو ہمارے والد کے پاس ہے۔
یہ سن کر حضرت یوسف علیہ السلام کا دل بھر آیا…
کیونکہ وہ ان کے حقیقی بھائی بنیامین تھے۔
وہی بھائی…
جو ان کے سب سے زیادہ قریب تھے…
وہی بھائی…
جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس تھے۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک حکمت عملی اختیار کی۔
انہوں نے فرمایا:
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِي
(سورۃ یوسف: 60)
ترجمہ:
“اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو آئندہ تمہارے لیے میرے پاس کوئی اناج نہیں ہوگا۔”
یہ ایک منصوبہ تھا…
یہ ایک حکمت تھی…
یہ ایک ایسا فیصلہ تھا…
جو آنے والے وقت میں ایک عظیم ملاقات کا سبب بننے والا تھا۔
بھائیوں نے وعدہ کیا:
ہم اسے ضرور لے کر آئیں گے۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ
ترجمہ:
“انہوں نے کہا: ہم اس کے بارے میں اس کے والد کو ضرور راضی کریں گے۔”
یہ سن کر حضرت یوسف علیہ السلام خاموش رہے…
مگر ان کے دل میں ایک امید جاگ چکی تھی…
برسوں بعد اپنے حقیقی بھائی سے ملاقات کی امید…
اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کی خبر سننے کی امید…
اپنے گھر کی خوشبو محسوس کرنے کی امید…
پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک اور حیران کن کام کیا۔
انہوں نے خفیہ طور پر اپنے خادموں سے کہا:
ان کا سامان واپس ان کے تھیلوں میں رکھ دو۔
قرآن فرماتا ہے:
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ فِي رِحَالِهِمْ
(سورۃ یوسف: 62)
ترجمہ:
“اور اس نے اپنے خادموں سے کہا: ان کی پونجی ان کے سامان میں رکھ دو۔”
یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا کردار تھا…
وہ بدلہ نہیں لے رہے تھے…
وہ محبت کا راستہ اختیار کر رہے تھے…
وہ اپنے بھائیوں کو واپس آنے کا راستہ آسان بنا رہے تھے۔
اور اب وہ وقت قریب آ رہا تھا…
جب بھائی دوبارہ مصر آئیں گے…
مگر اس بار وہ اکیلے نہیں ہوں گے…
ان کے ساتھ بنیامین بھی ہوں گے…
اور یہی ملاقات قصے کا ایک اور بڑا موڑ بننے والی تھی…
🌙 اگلی قسط میں ہم دیکھیں گے کہ بھائی حضرت یعقوبؑ کے پاس واپس پہنچتے ہیں تو کیا ہوتا ہے… اور بنیامین کو مصر لے جانے کے لیے وہ اپنے والد کو کیسے راضی کرتے ہیں… ✨
![]()

