Daily Roshni News

نفسیاتی گہرائی اور سماجی مشاہدہ۔۔۔انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔  میاں عمران

نفسیاتی گہرائی اور سماجی مشاہدہ

انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔  میاں عمران

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔  میاں عمران)اس بات میں نفسیاتی گہرائی اور سماجی مشاہدہ دونوں موجود ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص یا گروہ کسی غلط راستے کا انتخاب کرتا ہے، تو اسے اپنے ضمیر کی ملامت سے بچنے اور معاشرے میں اپنی ساکھ بچانے کے لیے ‘تنہائی’ سے ڈر لگتا ہے۔

اس صورتحال کی وضاحت درج ذیل نکات سے کی جا سکتی ہے:

  1. 1. اخلاقی جواز کی تلاش (Moral Validation)

انسان فطرتی طور پر تنہا ہونے سے گھبراتا ہے، خاص طور پر برائی میں۔ جب کوئی شخص غلط کام کرتا ہے، تو وہ اسے “جدت”، “آزادی” یا “مصلحت” جیسے خوبصورت نام دے کر دوسروں کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب بہت سے لوگ وہی کام کریں گے، تو وہ کام “برائی” نہیں بلکہ “رواج” بن جائے گا۔

  1. 2. “سوشل پروف” کا سہارا

نفسیات میں اسے ‘سوشل پروف’ کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر ایک شخص غلط کام کرے تو وہ مجرم ہے، لیکن اگر ایک ہزار لوگ وہی کام کریں تو وہ ایک ‘تحریک’ یا ‘نئی سوچ’ کہلانے لگتی ہے۔ برائی کرنے والے تعداد اس لیے چاہتے ہیں تاکہ وہ اکثریت کے پیچھے چھپ سکیں اور ان کا سچ (جو کہ دراصل جھوٹ ہوتا ہے) معتبر لگنے لگے۔

  1. 3. احساسِ جرم کی تقسیم

جب کوئی اکیلا برائی کرتا ہے تو سارا بوجھ اس کے اپنے ضمیر پر ہوتا ہے۔ دوسروں کو ساتھ ملا کر وہ دراصل اپنے احساسِ جرم کو تقسیم (Divide) کر دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ “اگر سب ہی یہ کر رہے ہیں، تو میں اکیلا کیوں غلط ہوں؟”

  1. 4. اچھائی کے لبادے کی ضرورت

برا کام کرنے والے براہِ راست برائی کی دعوت کم ہی دیتے ہیں، کیونکہ انسانی فطرت خیر کی طرف مائل ہے۔ اسی لیے وہ:

لالچ کو “سمارٹ ورک” کا نام دیتے ہیں۔

بدتمیزی کو “صاف گوئی” کا نام دیتے ہیں۔

خیانت کو “موقع پرستی” یا “ذہانت” قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ:

 یہ نکتہ بالکل درست ہے کہ برائی کرنے والے “کمیت” (Quantity) کے ذریعے “کوالٹی” (Quality) کا خلا پُر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس سچائی کی طاقت نہیں ہے، اس لیے وہ ہجوم کی طاقت سے سچ کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

Loading